پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) نے جمعہ کو ایک نیا اور منفرد اعزاز متعارف کرا دیا، جس کا نام ’کرکٹ ڈویلپمنٹ ایکسیلنس ایوارڈ‘ رکھا گیا ہے۔
اس ایوارڈ کی مالیت 2 لاکھ امریکی ڈالر ہے، جو لیگ کی پہلی 6 فرنچائزز میں سے کسی ایک کو کرکٹ، کھلاڑیوں اور لیگ کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے پر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:عبداللّٰہ شفیق گلوبل سپر لیگ سے ریلیز، بنگلہ دیشی کھلاڑی ٹیم میں شامل، وجہ بھی سامنے آگئی
پی ایس ایل کے مطابق 2026 کا یہ ایوارڈ لیگ کے تیسرے ایڈیشن سے لے کر 11 ویں ایڈیشن تک فرنچائزز کی جانب سے کی گئی ترقیاتی کاؤشوں کا احاطہ کرے گا، یعنی وہ عرصہ جس میں کم از کم 6 فرنچائزز لیگ کا حصہ رہیں۔
تشخیص کا طریقہ کار کیا ہوگا؟
ایوارڈ کے طریقہ کار کے تحت پہلے مرحلے میں فرنچائزز کو پی ایس ایل کے تیار کردہ اسکورنگ ماڈل کی روشنی میں اپنی ترقیاتی کارکردگی کا خود جائزہ لینا ہوگا۔ اس کے بعد یہ نتائج پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی تشکیل کردہ ایک تشخیصی کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
5 رکنی یہ کمیٹی، جس میں آزاد ماہرین اور ادارہ جاتی نمائندے شامل ہوں گے، فرنچائزز کی جانب سے فراہم کردہ قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر اسکور کی جانچ کرے گی۔ حتمی نتیجے میں اس کمیٹی کی رائے کو 80 فیصد وزن دیا جائے گا۔
شائقین کی رائے بھی شامل ہوگی
مقابلے میں شریک فرنچائزز کو اپنی کرکٹ ڈویلپمنٹ کارکردگی پر مبنی پیشکش پی ایس ایل کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کرنا ہوگی، جس کے بعد شائقین کو فرنچائزز کی درجہ بندی کرنے اور ووٹ دینے کا موقع ملے گا۔ فیصلے میں شائقین کی رائے کا حصہ 20 فیصد ہوگا۔
اسکورنگ ماڈل کن بنیادوں پر بنایا گیا؟
پی ایس ایل کے اسکورنگ ماڈل میں مختلف پہلوؤں کو الگ الگ وزن دیا گیا ہے تاکہ فرنچائزز کی کارکردگی کا جامع انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:پاکستان سپر لیگ 11 کا فائنل: ٹکٹوں کی فروخت آج سے شروع، سب سے سستا ٹکٹ کتنے میں ملے گا؟
سب سے زیادہ 25 فیصد وزن کھلاڑیوں کی راہ اور نشوونما کو دیا گیا ہے، جبکہ گراس روٹ اور ڈومیسٹک سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر شائقین کی رائے شماری کو بھی 20، 20 فیصد کا حصہ دیا گیا ہے۔
اعلیٰ معیار کے انفراسٹرکچر اور جدت کو 15 فیصد اہمیت دی گئی ہے، جبکہ کھلاڑیوں کی کارکردگی اور میچ میں کردار کے ساتھ ساتھ ان کی فلاح و بہبود اور تعلیم کو بھی 10، 10 فیصد کا وزن حاصل ہے۔
اس طرح مجموعی اسکورنگ ماڈل کھلاڑیوں کی نشوونما سے لے کر شائقین کی رائے تک، ہر پہلو کو متوازن انداز میں شامل کرتا ہے۔
کن پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا؟
کھلاڑیوں کی راہ اور نشوونما کے زمرے میں نئے یا غیر معروف کھلاڑیوں کی نشاندہی، ان کی صلاحیتوں میں بہتری اور پی ایس ایل سے ہٹ کر انہیں فراہم کیے گئے مواقع کا جائزہ لیا جائے گا۔
کھلاڑیوں کی کارکردگی کے زمرے میں یہ دیکھا جائے گا کہ فرنچائز کی جانب سے دریافت کیے گئے کھلاڑیوں نے میچز میں کس حد تک فیصلہ کن کردار ادا کیا اور ان کی ذمہ داریوں میں کتنا اضافہ ہوا۔
انفراسٹرکچر اور جدت کے زمرے میں فرنچائزز کی سہولیات، عملے اور نظام کے علاوہ ٹیکنالوجی سے جڑی اختراعات کو پرکھا جائے گا۔
جبکہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود میں مالی خواندگی، تعلیمی معاونت، ذہنی صحت کے پروگرام، میڈیا ٹریننگ، انسداد ڈوپنگ و کرپشن کی تربیت اور کیریئر کے بعد کی منصوبہ بندی جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:صاحبزادہ فرحان کی ٹی20 کرکٹ میں حکمرانی، پاکستان سپر لیگ 11 میں بیٹنگ کا جادو
گراس روٹ اور ڈومیسٹک انگیجمنٹ کے زمرے میں فرنچائزز کی مردوں اور خواتین کی کرکٹ کی ترقی، بچوں کے لیے کوچنگ کیمپس، اسکول و کلب کرکٹ اور پی سی بی کی سرگرمیوں میں شرکت کو مدنظر رکھا جائے گا۔
آئندہ کیا ہوگا؟
پی سی بی کا کہنا ہے کہ تشخیصی کمیٹی اور رائے شماری کے شیڈول سے متعلق مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 کے اختتام کے بعد صرف حالیہ دو ایڈیشنز کے دوران کی گئی ترقیاتی کاوشوں کو ہی زیرِ غور لایا جائے گا۔














