بھارتی شہر ممبئی کے ایک تعلیمی ادارے کے طالب علم نے امتحان کے دوران موبائل فون پر سوالیہ پرچہ چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کرکے جوابات حاصل کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد وہ ہاسٹل کے کمرے میں مردہ پایا گیا۔
انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ممبئی کے مطابق انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے دوسرے سال کے طالب علم ساحل واکوڑے کو امتحان کے دوران موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ طالب علم نے امتحانی سوالیہ پرچہ چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کرکے جوابات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ واقعے کے بعد انسٹرکٹر اور شعبے کے سربراہ نے طالب علم سے بات کی، اس کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی اور یقین دلایا کہ اس واقعے سے اس کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے گرلز ہاسٹل میں طالبہ کی موت، سامان سے مبینہ خودکشی کا نوٹ برآمد
تاہم، ادارے کے مطابق، اس گفتگو کے بعد طالب علم اپنے ہاسٹل کے کمرے میں واپس چلا گیا، جہاں بعد ازاں اسے مردہ پایا گیا۔
دوسری جانب طالب علم کی والدہ نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو شدید ہراساں کیا گیا۔
واقعے کے بعد آئی آئی ٹی بمبئی کے پوآئی کیمپس میں طلبہ نے احتجاج شروع کردیا۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ نقل کے الزام میں طالب علم کو ایک سال کے لیے معطل کیے جانے کی دھمکی دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسے ہاسٹل چھوڑ کر کیمپس سے باہر رہنا پڑتا اور اس کی انجینئرنگ کی تعلیم 4 سال کے بجائے 5 سال یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی تھی۔
طلبہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ تادیبی کارروائی سے پیدا ہونے والا دباؤ واقعے کا ایک سبب ہو سکتا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے لائیو اسٹریمنگ کے دوران سوشل میڈیا انفلوئنسر نے خودکشی کرلی
آئی آئی ٹی ممبئی میں رواں سال یہ خودکشی کا تیسرا واقعہ بتایا گیا ہے۔ فروری میں دوسرے سال کے ایک طالب علم نے ہاسٹل میں خودکشی کی، جبکہ جولائی 2026 میں نئے تعلیمی سمسٹر کے آغاز پر دوسرے سال کے بی ٹیک طالب علم نے بھی خودکشی کی تھی۔














