امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے معاملے میں وہ کسی جلد بازی کے حق میں نہیں اور اس حوالے سے انہیں آئندہ مڈٹرم انتخابات کی بھی فکر نہیں۔ ان کے مطابق امریکا اب بھی ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر مکمل طور پر مطمئن نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف سیاسی دباؤ یا انتخابی فائدے کے لیے جلد فیصلہ نہیں کریں گے۔
سی این این کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ انہیں مڈٹرم انتخابات کی پروا نہیں اور ان کی ترجیح ایسا معاہدہ ہے جو امریکا کے مفادات کے مطابق ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر امریکا ابھی مکمل طور پر مطمئن نہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونا ہوگا اور اس کے بدلے پابندیوں میں نرمی کے معاملات پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ امریکی مفادات کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس نے اس دوران ایرانی میڈیا میں گردش کرنے والی ایک مبینہ مفاہمتی دستاویز کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ: آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو ’اچھی خبر‘ مل سکتی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
رپورٹس کے مطابق ایران معاہدے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی انتظامیہ میں مسلسل مشاورت جاری ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی اور سفارتی کوششوں پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔













