مہنگائی، پابندیوں اور درآمدی رکاوٹوں نے ایرانی شہریوں کے لیے نئی گاڑی خریدنا مشکل بنا دیا ہے، جبکہ مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں جنگ کے آغاز سے اب تک 40 سے 80 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔
تہران کے 32 سالہ مارکیٹنگ ماہر حسین اپنی 13 سال پرانی ایرانی ساختہ گاڑی تبدیل کرنا چاہتے ہیں، لیکن بڑھتی مہنگائی کے باعث نئی کار خریدنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔
حالیہ تنخواہ اضافے کے بعد ان کی ماہانہ آمدن تقریباً 90 کروڑ ایرانی ریال ہے، جو کم از کم اجرت سے ساڑھے 4 گنا زیادہ ہے، تاہم درآمدی گاڑی خریدنے کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ پرانی پژو 206 فروخت کرنے پر انہیں تقریباً 10 ارب ریال مل سکتے ہیں، مگر نئی پژو 207 آٹومیٹک کی قیمت 28 ارب ریال تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا نے ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا
مقامی گاڑیوں کی دیگر قیمتیں بھی عام شہری کی پہنچ سے باہر ہیں۔ شاہین سیڈان کی قیمت 31 ارب ریال سے زیادہ جبکہ ریرا کراس اوور کی قیمت 43 ارب ریال سے تجاوز کرچکی ہے۔ ان قیمتوں کے مقابلے میں شہریوں کو اپنی پوری تنخواہ خرچ کیے بغیر بالترتیب تقریباً 24 اور 37 ماہ کی آمدن بچانا ہوگی، جبکہ جنگ کے آغاز سے مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 40 سے 80 فیصد اضافہ ہوا ہے اور بعض ماڈلز گزشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں 130 فیصد سے بھی زیادہ مہنگے ہوچکے ہیں۔
گاڑیوں کی خریداری کے ساتھ ان کی دیکھ بھال بھی مہنگی ہوگئی ہے۔ مقامی ٹائر، انجن آئل، بریک پیڈز اور کلچ کٹس کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم از کم دوگنا ہوچکی ہیں، جبکہ بعض پرزے 3 گنا سے زیادہ مہنگے ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق ملک میں کم معیار کی گاڑیوں، بلند قیمتوں، محدود درآمدات اور صنعت میں مبینہ بدعنوانی نے صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایرانی پارلیمان کی پریزائیڈنگ بورڈ کے رکن محمد رشیدی نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں گاڑیوں کی صنعت میں ’مافیا نظام‘ کے آثار موجود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران کی اقتصادی تباہی کا ٹرمپ کا دعویٰ جھوٹ، تاہم منفی معاشی شرح نمو کا خطرہ موجود ہے، ایرانی ماہر معیشت
ایران میں گاڑیوں کی پیداوار اور درآمدات میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق 2026 کے پہلے 5 ماہ میں تقریباً 2 لاکھ 33 ہزار گاڑیاں تیار یا اسمبل کی گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 3 لاکھ 66 ہزار تھی۔
اس دوران صرف تقریباً 25 ہزار گاڑیاں درآمد کی گئیں۔ درآمدی ڈیوٹی اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس بعض گاڑیوں کی حتمی قیمت میں 200 فیصد تک اضافہ کردیتے ہیں۔ تہران میں حالیہ 3 روزہ عالمی کار نمائش میں بھی یہ تضاد نمایاں رہا، جہاں چینی گاڑیوں کی نمائش دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ پہنچے، مگر بیشتر کے لیے یہ گاڑیاں خریدنا محض ایک خواب ہی تھا۔













