خیبر پختونخوا: دریاؤں کے 3,419 کنال رقبے پر تجاوزات کی نشان دہی، کارروائی کتنی ہوئی؟

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے بعد حکومت نے دریاؤں اور نہروں پر قائم تجاوزات کی نشاندہی اور خاتمے کے لیے صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنروں کو اعداد و شمار جمع کرنے کی ہدایت کی جس کے نتیجے میں بعض تجاوزات کی نشاندہی بھی ہوئی تاہم ان کے خلاف تاحال کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی گئی۔ دوسری جانب سیاحتی مقامات پر دریاؤں کے کنارے ہوٹلوں اور دیگر عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر خصوصاً خیبرپختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے خیبر پختونخوا پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2022 میں صوبے کے بیشتر اضلاع میں سیلاب کے باعث 289 افراد جاں بحق اور 348 زخمی ہوئے تھے جبکہ 35 ہزار 123 مکانات مکمل اور 52 ہزار 327 جزوی طور پر تباہ ہوئے تھے۔ حکومتی سروے کے مطابق ان سیلابوں سے صوبے کو 120 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔

اسی طرح سال 2025 میں آنے والے سیلاب کے باعث 313 افراد جاں بحق اور 156 زخمی ہوئے جبکہ 62 مکانات مکمل اور 97 جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ دونوں سیلابوں کے دوران سرکاری عمارتوں جن میں اسکول، پل اور بنیادی صحت کے مراکز (بی ایچ یوز) شامل ہیں، کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری سید شہاب علی شاہ نے حال ہی میں صوبے بھر کے تمام ڈپٹی کمشنروں کو دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں پر قائم تجاوزات کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے چیف سیکریٹری آفس کو ارسال کیے گئے اعداد و شمار جو وی نیوز کے پاس موجود ہیں کے مطابق صوبے میں 3 ہزار 419 کنال ایسی اراضی کی نشاندہی ہوئی ہے جہاں لوگوں نے ہوٹل، گھر، مارکیٹیں اور دیگر تعمیرات قائم کر رکھی ہیں۔

صوبائی دارالحکومت پشاور سے متصل ضلع چارسدہ اس فہرست میں سرفہرست ہے جہاں دریا کی 893 کنال اراضی پر تجاوزات قائم ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ضلع ایبٹ آباد ہے جہاں 727 کنال 3 مرلہ اراضی پر تجاوزات قائم ہیں۔

مزید پڑھیے: سانحہ سوات: غیر قانونی مائننگ، تجاوزات اور ریسکیو میں کوتاہی، کب کیا ہوا؟

اسی طرح ضلع ہری پور میں 268 کنال، کوہاٹ میں 188 کنال 8 مرلہ، ڈیرہ اسماعیل خان میں 173 کنال 6 مرلہ، پشاور میں 160 کنال 4 مرلہ، سوات میں 137 کنال اور مردان میں 123 کنال 3 مرلہ اراضی پر تجاوزات قائم ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق باجوڑ میں دریا کی 35 کنال اراضی، بٹگرام میں 8 کنال 8 مرلہ، بنوں میں 35 کنال، بونیر میں 92 کنال، چترال لوئر میں ایک کنال 6 مرلہ، چترال اپر میں 2 مرلہ، دیر لوئر میں 93 کنال ایک مرلہ، دیر اپر میں 22 کنال 4 مرلہ، ہنگو میں 24 کنال 9 مرلہ، کرک میں 36 کنال، ضلع خیبر میں 6 کنال، ضلع کرم میں 43 کنال 7 مرلہ، مالاکنڈ میں 48 کنال 8 مرلہ، مانسہرہ میں 58 کنال ایک مرلہ، مہمند میں 35 کنال 3 مرلہ، نوشہرہ میں 46 کنال، شانگلہ میں 8 کنال 9 مرلہ، جنوبی وزیرستان لوئر میں 43 کنال 7 مرلہ، جنوبی وزیرستان اپر میں 7 کنال، صوابی میں 95 کنال 2 مرلہ اور ضلع ٹانک میں 6 کنال اراضی پر غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

254 عمارتیں سیل اور 206 مسمار کرنے کا دعویٰ

ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے ارسال کردہ اعداد و شمار میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مذکورہ تجاوزات میں سے 254 عمارتوں کو سیل جبکہ 206 کو مسمار کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ضلع ایبٹ آباد میں 7 تعمیرات کو سیل اور 12 کو مسمار کیا گیا، باجوڑ میں 23 عمارتیں سیل کی گئیں، بنوں میں 11، بٹگرام میں ایک، چارسدہ میں 34، چترال لوئر میں 10 جبکہ چترال اپر میں 2 تعمیرات سیل کی گئیں۔

اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں 125 عمارتیں مسمار کی گئیں، دیر اپر میں 7 عمارتوں کو سیل اور 2 کو مسمار کیا گیا، ہری پور میں 2 عمارتیں سیل کی گئیں، کرک میں 3 عمارتیں سیل اور 3 مسمار کی گئیں۔

ضلع خیبر میں 4، کوہاٹ میں 2 عمارتیں سیل اور 2 مسمار کی گئیں، ضلع کرم میں 25 عمارتیں سیل اور 3 مسمار کی گئیں، مالاکنڈ میں 4 اور مانسہرہ میں 62 عمارتیں سیل جبکہ 4 مسمار کی گئیں۔

مردان میں 20 عمارتیں سیل اور 20 مسمار کی گئیں، مہمند میں 10، نوشہرہ میں 6 عمارتیں سیل اور ایک مسمار کی گئی، پشاور میں 13 عمارتیں مسمار کی گئیں، صوابی میں 5 اور سوات میں 5 عمارتیں سیل جبکہ 21 مسمار کی گئیں۔

حکومت کے دباؤ پر سروے میں خانہ پُری کا الزام

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے دباؤ کے باعث ضلعی انتظامیہ نے جلد بازی میں خانہ پُری کی ہے اور اپنی ناکامی چھپانے کے لیے تجاوزات کا مکمل سروے نہیں کیا گیا۔

تاہم چیف سیکریٹری کے زیر صدارت اجلاس میں شریک ایک محکمے کے سیکریٹری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وی نیوز کو بتایا کہ فیصلہ یہ کیا گیا تھا کہ گھروں کو مسمار نہیں کیا جائے گا بلکہ مون سون کے موسم میں ان مکانات کو خالی کروایا جائے گا تاکہ سیلاب کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔

مزید پڑھیں: شمالی علاقوں میں سیاحت یا سانحہ؟ محفوظ سفر کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر

ذرائع کے مطابق یہ اقدام بھی نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب محکمہ ریسکیو کے ترجمان بلال فیضی کے مطابق سیلاب کے خدشے کے پیش نظر متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو فوری طور پر مکانات خالی کرانے کے لیے آگاہ کیا جاتا ہے۔

سیاحتی مقامات پر ہوٹل اب بھی قائم، تعمیرات بھی جاری

دوسری جانب ہزارہ ڈویژن کے سیاحتی مقامات ناران اور کاغان جبکہ مالاکنڈ ڈویژن کے کالام، بحرین اور مدین میں دریاؤں کے کنارے قائم ہوٹل اب بھی تجاوزات کے زمرے میں موجود ہیں اور ان کے خلاف تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں اب بھی نئی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمشنر مالاکنڈ ڈویژن ریاض محسود نے سنہ 2020 میں دریاؤں پر تعمیر کیے گئے 93 ہوٹلوں کی نشاندہی کرکے انہیں مسمار کرنے کے لیے مکمل تیاری کرلی تھی تاہم آپریشن سے صرف 2 روز قبل ان کا تبادلہ کردیا گیا جس کے بعد تجاوزات کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی۔

41  کنال سے زائد اراضی کے مالکان عدالت سے رجوع کرچکے

دستاویزات کے مطابق 7 اضلاع میں محکمہ آب پاشی کی جن اراضی پر تعمیرات کی گئی ہیں، ان میں سے 41 کنال 5 مرلہ اراضی پر قائم تعمیرات کے مالکان نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔

ذرائع نے وی نیوز کو بتایا کہ اب بھی ہزاروں کنال اراضی پر قائم غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی تک نہیں کی گئی جبکہ جن تجاوزات کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں سے بیشتر کے خلاف حکومت نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیے: دریائے سوات کے کنارے تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری

مزید برآں ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جن عمارتوں کے خلاف کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سیاحتی مقامات کا ایک بھی ہوٹل شامل نہیں۔ نہ ان ہوٹلوں کو سیل کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں مسمار کیا گیا ہے۔

اورکزئی میں تجاوزات ختم کرنے کا اعلان

ڈپٹی کمشنر اورکزئی یوسف مہمند نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ان کے ضلع میں موجود تمام تجاوزات جلد ختم کردی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حال ہی میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ہے۔

محمود خان کا تجاوزات کے خلاف کارروائی کا مؤقف

ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں تجاوزات ہٹانے پر کام کیا تھا کیونکہ ان کے بقول بیشتر بااثر افراد نے سیاحتی مقامات پر ہوٹل قائم کیے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp