مرد کا روپ دھار کر سائیکلنگ کرنے والی افغان خاتون نے ایشین گیمز میں سلور میڈل جیت لیا

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جاپان میں جاری ایشین گیمز میں افغان سائیکلسٹ فریبا ہاشمی نے خواتین کی روڈ ریس میں سلور میڈل جیت کر اپنے ملک کے لیے اہم کامیابی حاصل کرلی۔

23 سالہ فریبا ہاشمی نے ناگویا کے قریب ہونے والی ریس میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ تاہم، ان کے لیے یہ صرف ایک کھیل کا مقابلہ نہیں تھا، بلکہ ایسے سفر کی منزل تھی جس کا آغاز انہوں نے افغانستان میں شدید مشکلات کے باوجود کیا تھا۔

فریبا کے مطابق، انہوں نے نوعمری میں اپنی بہن یولدوز کے ساتھ سائیکلنگ شروع کی تو انہیں راستے میں پتھر مارے جاتے تھے۔ کھیل جاری رکھنے کے لیے انہیں کئی مرتبہ مرد کا روپ دھارنا پڑتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسے ملک میں پیدا ہوئیں جہاں اپنے خواب دیکھنے والی خواتین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

فریبا نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ انہوں نے خراب  حالات کے خلاف جدوجہد کی اور آج عالمی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کی کامیابی افغان لڑکیوں کو بھی اپنے خواب پورے کرنے کا حوصلہ دے۔

افغانستان میں طالبان کے 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کی تعلیم، عوامی زندگی اور کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں شرکت پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

فریبا کا تعلق افغانستان کے شمالی صوبے فریاب سے ہے۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ افغانستان سے نکل کر اٹلی منتقل ہوگئیں، جہاں اب وہ رہتی اور تربیت حاصل کرتی ہیں۔

فریبا اور ان کی بہن یولدوز دونوں پیرس اولمپکس میں بھی افغانستان کی نمائندگی کرچکی ہیں، جبکہ اب فریبا کی نظریں 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس پر ہیں۔

فریبا ہاشمی کا کہنا ہے کہ یہ سلور میڈل صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ان لاکھوں خواتین کے لیے بھی امید کی علامت ہے جو اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہیں۔

ایشین گیمز میں سلور میڈل جیتنے کے بعد فریبا نے جاپانی ٹیم کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔

فریبا ہاشمی نے بتایا کہ ان کے ساتھ کوئی مکینک موجود نہیں تھا اور مکمل تیاری بھی نہیں تھی۔ قومی فیڈریشن سے صرف ایک شخص ان کے ساتھ آیا تھا، جو گاڑی چلا رہا تھا۔

انہوں نے کہا، ’ہم اپنی سائیکل خود ٹھیک کر رہے تھے، میں خود ہی اپنی مکینک تھی، سائیکل بھی خود دھو رہی تھی۔ جاپانی ٹیم کا شکریہ، وہ میرے ساتھ بہت، بہت اچھے رہے اور انہوں نے میری سائیکل ٹھیک کی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس لائنز اور پاکستان مونومنٹ کا دورہ، پاکستانی پرچم کو بوسہ بھی دیا

بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، بلغاریہ کا روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ

صارفین کو 1.2 ارب روپے کا ریلیف، بینکنگ محتسب نے 29 ہزار سے زائد شکایات نمٹا دیں

پاکستان سے یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی

’آج بھی خود کو بس کنڈکٹر سمجھتا ہوں‘، رجنی کانت نے بس کنڈکٹر کی ملازمت کو اداکاری سے بہتر کیوں قرار دیا؟

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کی مشترکہ بریفنگ

3 مرتبہ حکومت کے باوجود پی ٹی آئی دیر، پشاور موٹروے بنانے میں ناکام، عوام کا احتجاج

میری بیٹی ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننا چاہتی تھی، کاش! میں نے ایجنٹ کی تصدیق کر لی ہوتی، لائبہ کے والد کی دردناک روداد

کالم / تجزیہ

پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

میری موت، میری مرضی

کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟