کراچی کے مشہور میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن میں اہم سماعت کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید اور ڈاکٹر اسامہ کے مابین لفظی جنگ اور میڈیا ٹرائل کا معاملہ شدت اختیار کرچکا ہے۔
کمیشن نے تحقیقات کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے مدت میں 15 اکتوبر تک توسیع کی درخواست کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اہم سیکریٹریز اور پولیس حکام کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
مزید پڑھیں: میر رضا قتل کیس: پولیس کی تحقیقات سے مطمئن نہیں، جے آئی ٹی تشکیل دلوا کر رہیں گے، مقتول کے والد میر حسین
سماعت کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئیں اور ایک تحریری درخواست جمع کرائی، جس میں انہوں نے ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے چلائی جانے والی منفی مہم اور بدنیتی پر مبنی بیانیے سے کمیشن کو آگاہ کیا۔
ڈاکٹر سمیہ کا مؤقف
انہوں نے مؤقف اختیار کیاکہ ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے مسلسل میڈیا اور سوشل میڈیا پر منفی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے باعث وہ اور ان کا ادارہ شدید ذہنی اذیت اور دباؤ کا شکار ہیں۔
کمیشن کا ردعمل
کمیشن کے فاضل رکن نے ڈاکٹر سمیہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ پہلے ہی بہت بہادر ہیں۔ کیچڑ آپ پر بھی اچھالا جائے گا اور ہم پر بھی اچھالا جا رہا ہے۔ آپ پریشان نہ ہوں، ہم آپ کی درخواست پر مناسب احکامات جاری کریں گے۔
کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا ڈاکٹر اسامہ پولیس سرجن کو براہِ راست یا بالواسطہ دھمکیاں بھی دے رہا ہے؟
سپر میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور قانون دان جبران ناصر کے سوالات
سماعت میں پیشرفت کے دوران ایڈووکیٹ جبران ناصر نے پولیس سرجن کی سربراہی میں قائم میڈیکل بورڈ کے بعد ایک اور سپر میڈیکل بورڈ بنائے جانے کی اطلاعات پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر اسامہ کے نئے بیانات کے بعد سپر میڈیکل بورڈ بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ میڈیکل بورڈ عدالتی احکامات پر بنایا گیا تھا، کیا کوئی انتظام یا سپر میڈیکل بورڈ عدالتی احکامات کو سپر سیڈ کر سکتا ہے؟
بیانات میں خلا
انہوں نے نشاندہی کی کہ اصل میڈیکل بورڈ کے کسی بھی رکن کا بیان آج تک تفتیش میں ریکارڈ نہیں کیا گیا اور فیملی کے اٹھائے گئے بنیادی سوالات کا جواب بھی تاحال معلق ہے۔
کمیشن کا مؤقف
کمیشن نے واضح کیاکہ اگر کوئی سپر میڈیکل بورڈ بنتا ہے تو اسے چیلنج کرنے کا قانونی پلیٹ فارم سندھ ہائیکورٹ ہے۔
کمیشن نے کہاکہ ہمارے پاس ایسے نئے بیانات یا دستاویزات جمع نہیں ہو رہیں، لیکن ہمیں جو معلومات حاصل ہیں ہم انہی کی بنیاد پر رپورٹ مرتب کریں گے اور اپنے تمام مشاہدات کو حتمی حکم نامے میں شامل کریں گے۔
ڈی جی ہیلتھ کی دورانِ سماعت تبدیلی: کمیشن کی حکومت پر شدید برہمی
سماعت کے دوران سیکریٹری صحت طاہر سانگی، موجودہ ڈی جی ہیلتھ شہریار میمن اور سابق ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔ سماعت کے دوران جب ڈی جی ہیلتھ کی اچانک تبدیلی کا معاملہ سامنے آیا تو کمیشن نے فوکل پرسن سے سخت مکالمہ کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیاکہ آپ نے ڈی جی ہیلتھ کو بیان ریکارڈ ہونے کے دوران ہی تبدیل کردیا؟
انہوں نے کہاکہ ہو سکتا ہے اس میں آپ کی بددیانتی نہ ہو، لیکن عوام سب دیکھ رہے ہیں اور لوگ بے وقوف نہیں ہیں۔ لوگ کسی مجبوری کے تحت خاموش ہیں، انہیں نادان نہ سمجھیں۔ حکومت کو کچھ تو انتظار کر لینا چاہیے تھا، کمیشن کے ختم ہونے کا ہی انتظار کر لیتے۔
تحقیقاتی مدت میں 15 اکتوبر تک توسیع کی درخواست
کمیشن نے بتایا کہ تحقیقات کے دائرہ کار میں مسلسل وسعت آ رہی ہے، جس کی وجہ سے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے کمیشن کی مدت میں 15 اکتوبر 2026 تک توسیع کی استدعا کی گئی ہے۔
تاخیر کی وجوہات
کمیشن کے مطابق روٹین کے مقدمات کی سماعت، گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مسلسل نئے نام سامنے آنے اور بعض اہم گواہان کے بیرونِ ملک ہونے کے باعث کارروائی میں وقت لگ رہا ہے۔
اعلیٰ افسران کو سوالنامے جاری کرنے کا حکم
کمیشن نے مقدمے کی پیشرفت کو تیز کرتے ہوئے تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری اور سی پی ایل سی (CPLC) کے نمائندے کاشف کو پیر کے روز کمیشن کے روبرو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
مزید پڑھیں: میر رضا قتل کیس: سندھ ہائیکورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست مسترد کردی
اے آئی جی آزاد خان، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کو تحریری سوالنامے بھیجنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ تفتیش کے تضادات کو دور کیا جا سکے۔














