کیا پی ٹی آئی مذاکرات چاہتی ہے؟ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کی نئی کوشش

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان جاری شدید سیاسی کشیدگی کے ماحول میں مذاکرات کی ایک بار پھر بات سامنے آگئی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے حکومت کو کھلے الفاظ میں مذاکرات کی پیشکش کی ہے، جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بھی وفاقی سطح پر متعلقہ حلقوں سے رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے کشیدگی کم کرنا ضروری ہے۔

دوسری جانب حکومت کی طرف سے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بھی سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی لانگ مارچ: پشاور، اسلام آباد موٹروے کل رات 11 بجے سے بند کرنے کا اعلان

تاہم اصل سوال اب یہ ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو ان کا ایجنڈا کیا ہوگا، کون مذاکرات کرے گا اور کیا دونوں فریق کسی قابلِ عمل فارمولے تک پہنچ سکیں گے؟

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے سیاسی کمیٹیاں بیٹھیں تو مشکلات اور مسائل کا حل نکل سکتا ہے، مذاکرات ایسے لوگوں کے درمیان ہونے چاہییں جو بااختیار ہوں اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنی ٹیم تشکیل دیں اور سیاسی لوگوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھائیں تاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے بامعنی بات چیت ہوسکے۔

راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت آج یا جب بھی مذاکرات کے لیے بیٹھنا چاہے، پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، دنیا کے بڑے مسائل بھی مذاکرات کی میز پر حل ہوئے ہیں، اس لیے پاکستان کے سیاسی مسائل کا حل بھی بات چیت کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے۔

’پی ٹی آئی موجودہ صورتحال میں صرف عمومی مذاکرات نہیں بلکہ ایسے مذاکرات چاہتی ہے جن میں اصل فیصلہ ساز سیاسی شخصیات شامل ہوں۔‘

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بھی مذاکرات کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی سطح پر متعلقہ لوگوں سے رابطے جاری ہیں اور حالیہ واقعات کے بارے میں پارٹی کا مؤقف ان تک پہنچا دیا گیا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو۔ ان کے مطابق مزید گرفتاریاں حالات کو مزید سنگین کرسکتی ہیں، اس لیے اب وقت ہے کہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جائے اور کشیدگی کم کی جائے۔

بعد ازاں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے تعلقات ختم نہیں کیے بلکہ رابطے برقرار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی قانون کو ہاتھ میں نہیں لے گی اور اسلام آباد جانے کا مقصد کسی قسم کی چڑھائی نہیں بلکہ اپنے سیاسی مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ہے۔

بیرسٹر گوہر کے حالیہ بیان کے مطابق پی ٹی آئی کے مطالبات میں عمران خان سے متعلق قانونی معاملات، ان کے علاج اور ملاقات کی اجازت جیسے امور شامل ہیں، دوسرا بڑا معاملہ گرفتاریوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائی ہے۔

بیرسٹر گوہر مسلسل یہ مؤقف اختیار کررہے ہیں کہ مزید گرفتاریاں سیاسی ماحول کو مزید خراب کریں گی۔ پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ موجودہ صورتحال کو مزید کشیدہ بنانے والے اقدامات روکے جائیں۔

تیسرا معاملہ احتجاج اور 27 ستمبر کی سیاسی سرگرمی ہے۔ پی ٹی آئی ایک طرف مذاکرات کی بات کر رہی ہے، لیکن دوسری طرف احتجاج کو اپنا آئینی اور سیاسی حق قرار دے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی 27 ستمبر کو احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی مذاکرات کی مخالفت کا کوئی حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے پرامن طریقہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔

ان کے مطابق حکومت کی جانب سے پہلے بھی مذاکرات کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر سے متعدد مرتبہ ملاقات کرکے بات چیت کی دعوت دی اور حکومتی نمائندوں نے بھی اپوزیشن قیادت سے رابطہ کیا۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے یہ بھی کہاکہ وہ حکومتی ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں، جس کے بعد وزیراعظم کی واپسی پر ان کے ساتھ مزید بات چیت کی جاسکتی ہے۔

یعنی حکومتی بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سیاسی معاملات مذاکرات سے حل ہوسکتے ہیں، لیکن احتجاج کے بجائے پہلے سیاسی رابطہ اور بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔

دونوں طرف سے مذاکرات کی بات سامنے آنے کے باوجود سب سے بڑا سوال اعتماد کا ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ایک طرف حکومت مذاکرات کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف اس کے رہنماؤں، ارکان اسمبلی اور کارکنوں کے خلاف گرفتاریاں جاری ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے بھی اسی تناظر میں کہا ہے کہ گرفتاریاں صورتحال کو مزید سنگین کریں گی۔

دوسری طرف حکومت کی طرف سے بنیادی زور اس بات پر ہے کہ سیاسی احتجاج قانون اور امن و امان کے دائرے میں رہ کر کیا جائے اور سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

اس لیے مذاکرات شروع ہونے کی صورت میں ابتدائی مرحلے میں ہی احتجاج، گرفتاریوں، سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائی اور عمران خان سے متعلق معاملات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔

موجودہ صورتحال میں دونوں چیزیں بیک وقت نظر آرہی ہیں، ایک طرف پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رکھنے کی بات کر رہی ہے، دوسری طرف احتجاج کا اعلان بھی برقرار ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ابتدائی مذاکرات کا امتحان ہوگا۔

اگر حکومت سیاسی کمیٹی تشکیل دیتی ہے اور پی ٹی آئی بھی بااختیار نمائندے نامزد کرتی ہے تو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا دائرہ کیا ہوگا، کون لوگ فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے اور بات چیت کے دوران احتجاج اور گرفتاریوں سے متعلق کیا طریقہ کار اختیار کیا جائےگا۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ پہلے حکومتی ٹیم اور پی ٹی آئی کے نمائندے بیٹھ کر بات کریں، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی پر مزید پیشرفت ہوسکتی ہے۔

اس تناظر میں اگلے چند دن اہم ہوسکتے ہیں، کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش، بیرسٹر گوہر کے وفاقی سطح پر جاری رابطے اور حکومت کی جانب سے سیاسی بات چیت کی حمایت، تینوں عوامل ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، البتہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ رابطے باقاعدہ مذاکرات میں تبدیل ہوں گے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: 27 ستمبر کے پی ٹی آئی احتجاج کے لیے حکمت عملی طے، وزراء اور اراکینِ اسمبلی کو روپوش ہونے کی ہدایت

اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق ابتدائی طور پر کن شرائط پر بیٹھتے ہیں اور کیا موجودہ سیاسی و احتجاجی صورتحال کو مذاکرات کے متوازی سنبھالا جاسکتا ہے۔

علامہ راجا ناصر عباس کی پیشکش اور بیرسٹر گوہر کے رابطوں سے مذاکرات کی آمادگی واضح ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر کن نکات کے ساتھ بیٹھتے ہیں، کس کو بااختیار نمائندہ مانا جاتا ہے اور کیا پہلے مرحلے میں اعتماد سازی کے لیے کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp