امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں 3 گھنٹے طویل ملاقات ہوئی، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر سمیت امریکی حکام نے منگل کو اقوام متحدہ میں ایرانی وفد سے ملاقات کی۔ ٹرمپ نے ملاقات کو ’بہت اچھی‘ اور ’انتہائی نتیجہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مزید مذاکرات بھی جلد ہوں گے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کی درخواست پر ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ملاقات کا ایک اہم مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی شرائط امریکی حکام تک پہنچانا تھا۔
🔴 A meeting in New York between US and Iranian delegations has helped break the deadlock in bilateral negotiations, a source tells Al Arabiya English
🔴 A breakthrough between the US and Iran is possible but requires multiple steps
🔴 The Iranian delegation, which met with… pic.twitter.com/7PSPHDlBnc
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) September 22, 2026
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 3 بنیادی شرائط پیش کیں، جن میں امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنا، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے فوری طور پر جاری کرنا اور تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور فوجی دباؤ کم کرے تو ایران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وفد کو نیویارک میں مذاکرات کے لیے مکمل اختیار حاصل ہے، جبکہ ایران نے 16 ستمبر کو ثالثوں کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی اپنی تجاویز امریکا تک پہنچائی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا خارگ جزیرہ تباہ کرنے کا دعویٰ، لارک پر حملے کے بعد ایران امریکا کشیدگی بڑھ گئی
دوسری جانب العربیہ کی ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں اہم اختلافات بدستور موجود ہیں اور امریکا نے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
ٹرمپ نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ایرانیوں کے مفاد میں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مزید ملاقاتیں ہونے والی ہیں۔ وٹکوف نے بھی مذاکرات کے بعد کہا کہ وہ اس وقت ’بہت اچھا‘ محسوس کر رہے ہیں۔














