کیا خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے مسائل سے لاتعلق ہو چکی ہے؟

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، کرم، ہنگو، کوہاٹ، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے جہاں روزانہ دہشتگردی کے 2 سے 3 واقعات رونما ہوتے ہیں تاہم اس حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں طرز حکمرانی اور سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال، وفاقی مداخلت ناگزیر قرار

جنوبی اضلاع میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پولیس کو درپیش کم وسائل کے بارے میں متعدد بار صوبائی حکومت کو آگاہ کیا گیا لیکن اس حوالے سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی، بالخصوص وزیراعلیٰ، پشاور یا دیگر اضلاع میں شہدا کے جنازوں میں بھی شرکت نہیں کرتے۔

ان کے مطابق امن و امان کی بدترین صورتحال کے باوجود ایک مرتبہ بھی معاون خصوصی برائے داخلہ طارق سعید مروت نے اس معاملے پر کوئی اجلاس طلب نہیں کیا۔

کئی محکمے وزیراعلیٰ کے اجلاس کے منتظر

پشاور میں ایک اہم انتظامی سیکرٹری نے بتایا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں متعدد بورڈز اور اتھارٹیز کے چیئرمین کا عہدہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے پاس ہے تاہم کئی محکمے گزشتہ 4 یا 5 ماہ سے اس انتظار میں ہیں کہ وزیراعلیٰ کب ان کے بورڈ یا اتھارٹی کا اجلاس طلب کریں گے تاکہ نئی پالیسیوں یا دیگر اقدامات کی منظوری دی جاسکے۔

انتظامی سیکریٹری کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمومی طور پر اسلام آباد میں موجود ہوتے ہیں اور جب بھی پشاور آتے ہیں تو ان کی ترجیحات انتظامی امور کے بجائے سیاسی امور ہوتی ہیں جس کے باعث صوبے میں گورننس کے شدید مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

مزید پڑھیے: عطااللہ تارڑ کا خیبرپختونخوا حکومت سے 13 سال کا حساب لینے کا اعلان، ریڈیو پاکستان پشاور کی نوتعمیر شدہ عمارت کا افتتاح کردیا

انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے متعدد اراکین اسمبلی بھی اکثر یہ شکایات کرتے رہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ نہ تو ان کی کال وصول کرتے ہیں اور نہ ہی کسی پیغام کا جواب دیتے ہیں۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ تو درکنار ان کے پی ایس او بھی جواب نہیں دیتے۔

’ڈیڑھ ماہ سے وزیراعلیٰ کو تقریب میں شرکت کی دعوت دے رہا ہوں‘

ایک اہم صوبائی وزیر نے وی نیوز کو بتایا کہ وہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ایک افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں تاہم وزیراعلیٰ یا تو اسلام آباد میں ہوتے ہیں یا پارٹی کی ’کچن کیبنٹ‘ کے ساتھ مصروف ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کے زیادہ تر مریض علاج کروانے پمز کیوں آتے ہیں؟

صوبائی وزیر نے بتایا کہ ’کچن کیبنٹ‘ سے مراد مینا خان آفریدی، شفیع جان اور شاہد خٹک ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp