بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر ناگپور میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک نوجوان لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ سے لائیو ویڈیو کال کے دوران خودکشی کر لی۔ پولیس کے مطابق یہ ویڈیو کال لڑکی کی موت کے بعد بھی تقریباً 23 منٹ تک جاری رہی، تاہم ملزم نے اسے بچانے یا روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
پولیس اور مقتولہ کے اہل خانہ کے مطابق، دونوں کے درمیان گزشتہ چند سالوں سے گہرے تعلقات تھے۔ ناگپور کی ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرنے والی مقتولہ دھنتولی کے علاقے میں اپنی سہیلی کے ساتھ رہائش پذیر تھی، جبکہ ملزم کا تعلق مہاراشٹر کے ضلع امراوتی سے ہے اور وہ پونا سے پی ایچ ڈی کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے گرلز ہاسٹل میں طالبہ کی موت، سامان سے مبینہ خودکشی کا نوٹ برآمد
چند ماہ قبل ملزم نے اپنے دوست کے ہمراہ لڑکی کی والدہ سے ملاقات کر کے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی، جسے والدہ نے قبول کر لیا تھا۔ تاہم، ملزم کے گھر والوں کی جانب سے اس رشتے کی شدید مخالفت کی گئی۔ ملزم نے یہ بات لڑکی سے چھپائی اور ناگپور میں اس سے ملاقاتیں جاری رکھیں۔ جب بھی لڑکی شادی کا تقاضا کرتی، وہ بات ٹال جاتا۔
بالآخر کچھ عرصے بعد ملزم نے صاف الفاظ میں شادی سے انکار کر دیا۔ لڑکی کے اہل خانہ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، جب لڑکی نے شادی کے لیے دباؤ برقرار رکھا تو ملزم نے اس کی قابلِ اعتراض تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
مسلسل دھمکیوں اور شادی سے انکار کے باعث لڑکی شدید ذہنی کرب اور تناؤ کا شکار ہو گئی۔ 19 ستمبر کی رات لڑکی نے ملزم کو ویڈیو کال کی اور جذبات میں آ کر اپنی زندگی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ والدہ کی شکایت کے مطابق، اس تمام تر صورتحال کے باوجود ملزم نے اسے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور لڑکی نے کال کے دوران ہی فندا لگا کر اپنی جان دے دی۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں شوہر نے بیوی اور بہن کو قتل کرکے واٹس ایپ اسٹیٹس اپڈیٹ کیا اور پھر خودکشی کرلی
تحقیقات میں یہ ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ لڑکی کی موت کے بعد بھی ویڈیو کال تقریباً 23 منٹ تک جاری رہی۔
دھنتولی پولیس اسٹیشن نے ملزم کے خلاف خودکشی پر اکسانے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور پولیس حکام کے مطابق ملزم سے تفتیش کی جا رہی ہے۔










