بہتر مستقبل اور ترقی ہر شخص اور قوم کا حق ہے، وزیراعظم شہباز شریف

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بہتر مستقبل اور ترقی ہر شخص اور قوم کا حق ہے، ترقی صرف دولت پیدا کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے سماجی ترقی اور انسانی وقار کے تحفظ کا ذریعہ بھی بننا چاہیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ڈکلیریشن آن رائٹ ٹو ڈیولپمنٹ کی 40ویں سالگرہ پر اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ہر شخص کا بہتر مستقبل کی تلاش اور ہر قوم کا اسے ممکن بنانے کے وسائل رکھنے کا حق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: معاشی طاقت کے میدان میں چین کا کوئی ثانی نہیں، وزیراعظم شہبازشریف

وزیراعظم نے کہا کہ 40 سال قبل حقِ ترقی کے اعلامیے نے انسانوں کو ترقی کے مرکز میں رکھا اور عوام کے لیے اسے ناقابل تنسیخ حق قرار دیا۔ اعلامیے کا پیغام واضح تھا کہ ترقی صرف دولت پیدا کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے سماجی ترقی اور انسانی وقار کے تحفظ کا ذریعہ بھی بننا چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بدقسمتی سے آج ترقی پذیر دنیا کو ایک تلخ حقیقت کا سامنا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اور وہ محدود وسائل خرچ ہو رہے ہیں جو دنیا بھر میں انسانی ترقی کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی آفات محنت سے حاصل کی گئی ترقی کو ختم کر رہی ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی میں عدم مساوات پرانے فاصلے کو نئے ڈیجیٹل دور تک منتقل کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ سے ملاقات، فلسطینیوں کی نسل کشی پر اسرائیل کے احتساب کا مطالبہ

وزیراعظم نے کہا کہ جہاں کسی حق کو حاصل کرنے کے ذرائع ہی فراہم نہ کیے جائیں، وہاں اس حق کو حقیقت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے فعال اور پیشگی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ہماری ترقی کی کوششیں مقامی سطح پر تیار کیے گئے معاشی تبدیلی کے منصوبے پر مبنی ہیں۔ اس میں برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانا، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور مساوات و بااختیار بنانے کو یقینی بنانا شامل ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اس ایجنڈے کی تکمیل میں معاون ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ قومی کوششوں سے آگے بڑھ کر حقِ ترقی کے حصول کے لیے قرضوں کے بحران سے نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسے قرضوں کا جال کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ کروا کر پاکستان نے دنیا کو کتنے بڑے نقصان سے بچایا ہے؟

وزیراعظم نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رعایتی بنیادوں پر مالی معاونت فراہم کی جائے، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور نقصانات کے ازالے کے لیے معاونت فراہم کی جائے، جبکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں موجود خلیج کو ختم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان حقِ ترقی سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کو جلد اپنانے کی بھی حمایت کرتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ترقی کا حقیقی پیمانہ یہ نہیں کہ دنیا کتنی آگے بڑھتی ہے بلکہ یہ ہے کہ انسانیت اجتماعی طور پر ایک ساتھ آگے بڑھتی ہے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp