ممکنہ گرفتاریوں کا خدشہ، کیا پشاور ایک بار پھر پی ٹی آئی رہنماؤں کی پناہ گاہ بننے لگا؟

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ سے قبل ممکنہ گرفتاریوں کے خدشے کے پیش نظر پارٹی قیادت نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور دیگر رہنماؤں کو صوبے سے باہر نہ جانے کی ہدایت کر دی ہے، جبکہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے بعض رہنماؤں اور ارکان کے لیے بھی پشاور ایک بار پھر محفوظ پناہ گاہ بننے لگا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق پارٹی کے کئی رہنماؤں سے اس وقت رابطہ نہیں ہو رہا، جبکہ پارٹی نے ان رہنماؤں کی گرفتاری کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 27 ستمبر احتجاج: عمران خان کی بہنوں سیمت متعدد پی ٹی آئی کارکنان گرفتار، ارکان پنجاب اسمبلی آزاد کیوں؟

پی ٹی آئی قیادت کو خدشہ ہے کہ 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ سے قبل پارٹی کے اہم رہنماؤں اور متحرک کارکنوں کے خلاف کارروائی یا گرفتاریاں عمل میں لائی جا سکتی ہیں، جس کے باعث ارکان اسمبلی کو خیبر پختونخوا میں رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

پی ٹی آئی کے ایک رکن خیبر پختونخوا اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مالاکنڈ میں کابینہ ممبر شکیل خان کے ساتھ ایک ناخوش گوار واقعے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارٹی اراکین کو محفوظ مقامات پر رہنے اور ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی قیادت نے پارٹی کے پارلیمنٹیرینز کو خیبر پختونخوا سے باہر جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ اسلام آباد میں موجود اراکین کو خیبر پختونخوا آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے اراکین کے علاوہ پنجاب اور دیگر صوبوں سے منتخب اراکین اور قائدین بھی پشاور پہنچنے لگے ہیں۔

پشاور کیوں اہم بن گیا؟

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کے باعث پشاور ایک مرتبہ پھر پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکزی شہر بن گیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی اور صوبائی رہنما مسلسل پشاور میں اجلاس کر رہے ہیں، جبکہ 27 ستمبر کے مارچ کی حکمت عملی بھی یہیں طے کی جا رہی ہے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تیاریوں کو خود دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ آغاز سے قبل ہی ناکامی سے دوچار، قیادت غائب، کارکن ناراض

پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں مارچ کے لیے مختلف مقامات پر کیمپ اور دھرنوں کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پشاور، خیبر، نوشہرہ، اکوڑہ خٹک، مردان، چارسدہ، صوابی سمیت مختلف اضلاع میں کارکنوں کو جمع کرنے اور راستوں پر کیمپ لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پشاور سے مارچ کی قیادت کریں گے۔

پشاور صرف مارچ کی تیاریوں کا مرکز ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کے لیے بھی اہم مقام بنتا دکھائی دے رہا ہے جنہیں اسلام آباد، پنجاب یا دیگر علاقوں میں ممکنہ گرفتاریوں کا خدشہ ہے۔

کیا پشاور ایک بار پھر ’محفوظ پناہ گاہ‘ بن رہا ہے؟

پی ٹی آئی کے لیے پشاور کا محفوظ پناہ گاہ ہونا نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریکوں، دھرنوں اور لانگ مارچ کے دوران خیبر پختونخوا، خصوصاً پشاور، پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا ہے۔

خصوصاً 9 مئی کے پرتشدد احتجاج کے بعد جب پارٹی قیادت کے خلاف کارروائی شروع ہوئی تو اہم رہنماؤں اور اراکین کے لیے پشاور ایک محفوظ پناہ گاہ بن گیا تھا۔ وقاص اکرم، صنم جاوید سے لے کر خالد خورشید تک پشاور کے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پناہ لیے ہوئے تھے تاکہ گرفتاری سے بچا جا سکے، اور اہم رہنما پشاور میں ہونے کی وجہ سے اس وقت گرفتاری سے بچ گئے تھے۔

موجودہ صورتحال میں بھی پشاور کا وزیراعلیٰ ہاؤس ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 27 ستمبر کو اکیلا بھی رہ گیا تو مارچ کے لیے نکلوں گا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

پارٹی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں مشورہ دیا گیا کہ تمام اراکین اسلام آباد سے خیبر پختونخوا آئیں اور محفوظ مقام پر رہیں اور زیادہ سرگرمیاں نہ کریں تاکہ گرفتاری کا خدشہ نہ ہو۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ قیادت کی جانب سے منتخب اراکین اور رہنماؤں کو تاکید کی گئی ہے کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے کچھ وقت کے لیے خاموشی اختیار کریں، عوامی مقامات پر جانے اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کریں۔

پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے کچھ اراکین کے گرفتار ہونے کی اطلاعات ہیں اور تھری ایم پی او کے تحت مزید گرفتاریوں کا خدشہ ہے۔ ‘اس وقت پارٹی کے اندر کافی پریشانی ہے۔ پشاور میں بھی لوگ محفوظ نہیں۔’

انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی جانب سے واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ 27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے گرفتاریوں کا خدشہ ہے اور پشاور میں بھی سرگرمیاں محدود کی جائیں۔ ‘ہمارے ایک کابینہ ممبر کے ساتھ مالاکنڈ میں گرفتاری کی کوشش ہوئی، پشاور کے قریب بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ہے۔’

انہوں نے بتایا کہ گرفتاریوں کے ڈر سے پنجاب اور دیگر علاقوں سے بھی اہم پارٹی قیادت پشاور کا رخ کر رہی ہے اور سہیل آفریدی نے صوبائی قیادت کو ان سے مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پنجاب میں گرفتاریوں کا خدشہ، خیبر پختونخوا کی اہمیت

گرفتاریوں کے خدشے کو اس وقت مزید تقویت ملی جب لاہور میں عمران خان کی بہن علیمہ خان کو حراست میں لیا گیا اور تھری ایم پی او کے تحت جیل منتقل کیا گیا۔ عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری کے بعد پارٹی قیادت پریشانی سے دوچار ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے پارٹی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کو پنجاب سے دور رکھنے اور خیبر پختونخوا میں موجود رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

پی ٹی آئی کے رکن نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق پنجاب سے تعلق رکھنے والے کچھ اراکین پشاور آئے ہیں اور پشاور کے ایک سرکاری گھر میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ ان کا مخصوص پارٹی رہنماؤں کے علاوہ کسی سے رابطہ بھی نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں پہلے سے کچھ رہنما موجود ہیں۔ ‘سہیل آفریدی نے پشاور کی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ دیگر صوبوں کے اراکین اور رہنماؤں سے ہر ممکن تعاون کیا جائے۔’

یہ بھی پڑھیں: کبھی گرفتاری کا دعویٰ، کبھی سڑک پر احتجاج، سہیل آفریدی لاہور میں کیا کرتے رہے؟

جب ان سے پوچھا گیا کہ ابھی تک کتنے لوگ دیگر صوبوں سے آئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ تعداد کا انہیں علم نہیں ہے۔ ‘دیکھیں، زیادہ تو اسلام آباد اور لاہور سے اراکین آئے ہیں، جبکہ آئیں گے بھی۔’

انہوں نے مزید کہا کہ دیگر صوبوں کے لوگ مارچ میں شرکت کریں گے یا نہیں، اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ بتایا کہ پشاور میں کسی اجلاس میں وہ شرکت نہیں کریں گے اور 27 ستمبر تک مکمل روپوش رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی تک پارٹی کی کوشش ہے کہ 26 ستمبر تک گرفتاریاں کم سے کم ہوں تاکہ قیادت پر دباؤ نہ آئے۔ ‘پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوگا۔ اس میں حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔’

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp