ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران جوہری بم حاصل کرنے کا خواہاں نہیں اور اپنے جوہری پروگرام کی بین الاقوامی تصدیق اور معائنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو خصوصی انٹرویو میں ایرانی صدر نے اس سوال پر کہ آیا ایران جوہری بم بنانا چاہتا ہے، دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’بالکل نہیں‘۔
صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایران کے مرحوم سپریم لیڈر متعدد مرتبہ واضح کرچکے ہیں کہ مذہبی فرمان کے تحت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار حرام اور غیر قانونی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکا اسرائیل حملہ خطے کے امن پر کاری وار تھا، صدر مسعود پیزشکیان
ایرانی صدر نے کہا کہ تہران جوہری کشیدگی کم کرنے کے لیے افزودگی کی سطح کم کرنے اور بین الاقوامی تصدیق قبول کرنے پر آمادہ ہے۔
’ہم ان ہتھیاروں کو کم کرنے کے لیے تیار ہیں، یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں، ہم بین الاقوامی تصدیق کے لیے خود کو پیش کرنے پر تیار ہیں۔‘
صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جون میں ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، جس کا مقصد جنگ بندی اور وسیع تر امریکا ایران معاہدے کے لیے فریم ورک قائم کرنا تھا۔
🇮🇷🇺🇸 Iran’s president got cornered on the nuclear question and threw America’s own claim back at them.
Asked where Iran’s 440 kg of 60% enriched uranium is, Pezeshkian replied: Washington says it “obliterated everything.” So which is it?
He then denied Iran wants a nuclear… https://t.co/uG7SgR4ais
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) September 24, 2026
انہوں نے کہا کہ ایران اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے اب بھی تیار ہے، ان کے مطابق فریقین کے درمیان ایک فریم ورک پر اتفاق ہوچکا تھا، تاہم بعد ازاں حالات خراب ہوگئے۔
ایرانی صدر نے امریکا پر سفارت کاری کا راستہ روکنے اور پہلے فوجی کارروائی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران اب بھی مذاکرات اور معاہدے کے لیے تیار ہے۔
پیزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایران پر دباؤ، پابندیوں اور ناکہ بندی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: اقوام متحدہ میں سخت بیانات، سفارتی رابطے بھی برقرار
انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اپنی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، تاہم تہران اس ضمن میں کسی غیر ضروری دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر نے جنگ کے حوالے سے امریکا کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی شہریوں کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا، تاہم اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اپنا دفاع کرے گا۔
انہوں نے اسرائیل پر جنگ بھڑکانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اب جنگ کے خاتمے کے لیے فیصلہ امریکا کو کرنا ہوگا۔ ’ایران جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔‘

ایرانی صدر نے امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ضرور ہے، تاہم ایران دباؤ کے باوجود اپنی بقا کے لیے مشکلات برداشت کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے معاہدے کے لیے تیار ہے تو ایران بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، جبکہ امریکا میں انتخابات کا وقت تہران کے لیے بنیادی اہمیت نہیں رکھتا۔
مزید پڑھیں: اسرائیلیوں پر ایران جنگ کے راز استعمال کر کے شرطیں لگانے کا الزام
انٹرویو کے دوران صدر پیزشکیان سے اردن میں امریکی اڈے پر ہونے والے مہلک حملے کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، جس میں 3 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
ان حملے میں ایرانی افواج کی جانب سے چینی سیٹلائٹ تصاویر کے مبینہ استعمال سے متعلق رپورٹس کے بارے میں ایرانی صدر نے کہا کہ انہیں ایسی تصاویر کے بارے میں براہ راست علم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2 ممالک کی افواج اپنے دائرہ کار اور ضوابط کے تحت جو کچھ کرتی ہیں، وہ ان کا معاملہ ہے۔













