اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خطاب کے دوران عالمی سفارت کاروں نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا، جب کہ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے تقریر کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے وارنٹِ گرفتاری کی یاد دہانی کرا دی۔
نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کے بے بنیاد ’جھوٹ‘ ان کی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم کو پاک صاف ثابت نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں:نیتن یاہو جنگی مجرم ضرور لیکن قانون گرفتاری کا اختیار نہیں دیتا، ظہران ممدانی مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے
انہوں نے واضح کیا کہ عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف جاری کردہ وارنٹِ گرفتاری ایک مسلمہ حقیقت ہیں جسے کسی جھوٹ سے بدلا نہیں جا سکتا۔
آئی سی سی وارنٹ
یاد رہے کہ نومبر 2024 میں ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر بنیامین نیتن یاہو اور سابق دفاعی وزیر یوو گیلنٹ کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے تھے۔
Hakkında savaş suçları ve insanlığa karşı suçlar nedeniyle Uluslararası Ceza Mahkemesi tarafından yakalama kararı çıkarılmış soykırımcı Netanyahu’nun BM kürsüsünü Türkiye’ye ve Cumhurbaşkanımız Sayın Recep Tayyip Erdoğan’a yönelik mesnetsiz suçlamalar için kullanması, Birleşmiş…
— Burhanettin Duran (@burhanduran) September 24, 2026
جولائی میں میئر ممدانی نے امریکی وفاقی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ اس بین الاقوامی وارنٹ پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
جنرل اسمبلی میں سفارت کاروں کا واک آؤٹ
اقوام متحدہ کے اجلاس میں نیتن یاہو کے ڈائس پر آتے ہی درجنوں ممالک کے مندوبین نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
نیتن یاہو نے احتجاج کرنے والوں کو ’اخلاقی بزدل‘ قرار دیا اور اپنے خطاب میں نیویارک کے میئر، مغربی یورپی رہنماؤں، قطر اور ترکیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
نیتن یاہو نے میئر ممدانی پر حماس کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا جسے میئر ممدانی پہلے ہی رد کر چکے ہیں۔
قطر کا نیتن یاہو کے الزامات پر منہ توڑ جواب
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے نیتن یاہو کے ان الزامات کو سرفہرست مسترد کر دیا کہ قطر اسرائیل کے خلاف عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ الزامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ دنیا بھر بالخصوص نوجوان نسل میں اسرائیل کے خلاف شدید ردِعمل کسی مہم کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے سامنے ہونے والے مظالم کا سچ ہے۔
ترکیہ کا شدید ردِعمل اور سڑکوں پر مظاہرے
ترکیہ کے صدارتی کمیونیکیشن ڈائریکٹر برہان الدین دوران نے بھی نیتن یاہو کے بیانات کو بے بنیاد اور گھٹیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم اپنے بیانات کے ذریعے غزہ میں جاری قتلِ عام اور بین الاقوامی عدالتوں میں جاری قانونی کارروائیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر بھی سینکڑوں مظاہرین نے احتجاج کیا اور سڑکیں بلاک کر کے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی بند کرنے کے نعرے لگائے، جس کے بعد پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
امریکی صدر کی تعریف
نیتن یاہو نے اپنے مختصر دورۂ امریکا کے دوران اقوام متحدہ میں تقریر کے وقت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زبردست تعریف کی اور انہیں اسرائیل کا بہترین شراکت دار قرار دیا۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات کے پیشِ نظر نیتن یاہو کو اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر شدید سیاسی تنہائی اور تنقید کا سامنا ہے۔














