ہلاک 260 افغان دہشتگردوں کی شناخت اور دستاویزی ثبوتوں نے طالبان اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

طالبان حکومت کے مسلسل انکار کے باوجود ایسے دستاویزی ثبوت منظر عام پر آ گئے ہیں جن سے افغان سرزمین سے آپریٹ ہونے والے دہشتگردوں اور طالبان حکومت کے گہرے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔

سال 2026 میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے نتیجے میں 1327 پاکستانیوں کی شہادت کے بعد پاکستان نے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کا دوٹوک اور حتمی مطالبہ کر دیا ہے۔

دستاویزی ثبوت اور دہشت گردوں کے جنازوں میں شرکت

حقائق اور دستاویزی ثبوت طالبان حکومت کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں جن میں وہ دہشتگردوں سے کسی قسم کے تعلق اور انہیں پناہ دینے سے انکار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان: ہرات میں طالبان کی خواتین کے خلاف بہیمانہ کارروائی، متعدد زیر حراست

اب تک پاکستان میں مارے جانے والے 260 افغان دہشتگردوں کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جن کے نام، پتے اور خاندانی تفصیلات بھی منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔

دستاویزات میں مارے جانے والے افغان فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں میں ڈاکٹر عبیداللہ سعید بدری، شاہی قلعہ گاؤں، لوگر، سید احمد ہارون صوبہ پکتیا ، نور رحمان عرف سرحدی، دادل گاؤں، نرخ ضلع، وردک، جنداللہ (ولد دولت خان)، افغانستان (کابل، جنوب شرق) شامل ہیں۔

اسی طرح احمد مخلص، لاہورخیلو گاؤں، حصارک ضلع، ننگرہار، زاہد اللہ عرف ذوالقرنین، صوبہ پکتیا، اسامہ حیدر، کوز ککڑک گاؤں، سرخ رود ضلع، ننگرہار، محمد وہاب، حسن خیلو گاؤں، وردک ، ولی رحمان، خوست، احسان اللہ عرف خاکسار، ژڑی ضلع، قندھار، مولوی انس عرف استاد عبداللہ سعید، لوگر افغانستان، بیت اللہ عرف عاکف عرف حنین، وردک افغانستان بھی شامل ہیں۔

اسی طرح حافظ سیف اللہ عرف آصف، روغہ گاؤں، خوست، جلال الدین، دادل گاؤں، نرخ ضلع، وردک، اویس احمد عرف مخلص، بمبئی گاؤں، چک ضلع، وردک، فتح اللہ عرف مدثر، زرمت ضلع، پکتیا، سردار ولی عرف ابو ذر، افغانستان بھی شامل ہیں۔

سامنے آنے والی دستاویزات میں عزت اللہ لوگر، الماس عرف ساحل، حصارک ضلع، ننگرہار، رسول محمد عرف حماس، خواجہ خیلؤ گاؤں، احمد آباد ضلع، پکتیا، عبداللہ جان عرف ابو دجانہ، گردیز ضلع، پکتیا ، اظہار اللہ عرف عبیدہ عمر خیلو علاقہ، تگاب ضلع، کاپیسا، احمد عرف زبیر، سرکی ملنگ گاؤں، احمد آباد، پکتیا، رحمت اللہ عرف سباوون، الدین خیل گاؤں، زرمت، پکتیا بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

عبدالرحیم عرف عبدالرحمٰن (ولد زر ولی) ایک افغان شہری ہیں جن کا تعلق زرمت، پکتیا سے ہے، جبکہ ان کا پاکستانی پتہ کیمپ نمبر 6، خاکھی، مانسہرہ (خیبر پختونخوا) درج ہے۔

امیر حمزہ حق یار (ولد عبدالکریم) کا مستقل پتہ چمن اور تعلق زرمت، پکتیا سے ہے۔ محمد عرف ابو دردراء کا پتہ درج نہیں ہے اور ان کا ٹھکانہ پنڈیالی علاقہ (مہمند) ہے۔

جبار کا پتہ بھی درج نہیں اور انہیں کرم ایجنسی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جبکہ سید احمد عرف قاری عبداللہ، ابو ذر کا تعلق بلخ سے ہے۔

کابل کے ضلع موسہی سے اکمل عرف حیدری فاتح اور گاؤں قطغن سے زکی اللہ عرف احمد وزیرستانی کا تعلق ہے۔ لوگر صوبے کے سپیسٹ علاقے سے نیاز ولی عرف عثمان، جبکہ لوگر کے ضلع محمد آغہ کے گاؤں حاجیانو کلی سے حبیب اللہ عرف طٰہٰ ، تکل بدری منسلک ہیں۔

اس کے علاوہ کنڑ صوبے کے شیگل علاقے سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 6 عسکریت پسندوں کا تعلق ہے۔

ننگرہار صوبے سے سلطان عزیز عزام، ضلع مہمند درہ کے گاؤں کوچیانو سے جان اللہ عرف زاہد ایوبی اور ضلع اچین سے قاری عثمان عرف زبیر کا تعلق ہے۔

خوست کے علاقے شمال دو منڈہ سے قاری عبداللہ عرف عزام، جبکہ پکتیا کے ضلع گردیز (پیر باغ) سے سجاد عرف ابو ذر اور پکتیا، څمکنی سے محمد زمان ’الیاس‘ (ولد افریدی) کا تعلق ہے۔

وردک صوبے سے نور رحمان عرف سرحدی، ضلع میدان شہر سے محمد سہیل عرف خباب، اور ضلع سید آباد کے برہانی خیلو گاؤں (جوئی زرین شہر) سے اجمل عرف خالد کا تعلق ہے۔

پکتیکا کے ضلع گیان (گاؤں سروتہ) سے قاسم عرف ملیار (قاسم خان ولد گلبیر خان) کا تعلق ہے۔ ملا صدام عرف حذیفہ کا تعلق قندوز سے اور پیر آغا قندہاری کا تعلق قندھار سے ہے، جبکہ عمر خالد خراسانی اور عزیز الرحمن غورځنگ کا تعلق افغانستان سے ہے۔

یہ اعداد و شمار صرف ان دہشتگردوں کے ہیں جن کی شناخت ہو سکی ہے، جبکہ نامعلوم اور اس وقت متحرک افغان دہشتگردوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دستاویزی ہلاکتیں افغان دہشتگردوں کی وسیع تر شمولیت کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔

حیران کن امر یہ ہے کہ پاکستان میں مارے جانے والے ان افغان دہشتگردوں کی ان کے آبائی علاقوں میں باقاعدہ نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے، جن میں طالبان حکومت کے اہلکار کھلے عام شرکت کرتے ہیں۔

 ایک ایسی حکومت جو دہشتگردوں سے لاتعلقی کا دعویٰ کرتی ہے، وہ اس بات کی کوئی وضاحت پیش نہیں کر سکتی کہ اس کے اہلکار پاکستان پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے سوگوار خاندانوں کے ساتھ کیوں کھڑے نظر آتے ہیں۔

دراندازی اور جدید امریکی اسلحے کا استعمال

دہشتگردی کا یہ گٹھ جوڑ صرف پناہ گاہوں تک محدود نہیں بلکہ دراندازی اور عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے تک پھیل چکا ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق ’فتنہ الخوارج‘ کے 70 فیصد دراندازوں کا تعلق براہِ راست افغانستان سے ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ طالبان حکومت نے امریکا اور نیٹو افواج کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوسان‘ کے دہشتگردوں کو فراہم کیا ہے۔

مزید پڑھیں:افغان طالبان کے زیر کنٹرول 10 مقامات پر دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کردیے، عطا اللہ تارڑ

اب یہ دہشتگرد ایم 4 اسالٹ رائفلز، ریمنگٹن سنائپر رائفلز اور نائٹ ویژن آلات جیسے جدید ترین ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

دہشتگردی کے ہوشربا اعداد و شمار اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹ

دہشتگردی کی اس لہر نے پاکستان کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے۔ صرف سال 2026 میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے باعث 1327 پاکستانی شہید اور 2484 زخمی ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی ان ہوشربا حقائق کی تصدیق کرتی ہیں۔ یو این کے تخمینے کے مطابق افغانستان میں ’فتنہ الخوارج‘ کے دہشتگردوں کی تعداد 6000 سے 6500 کے لگ بھگ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دستاویزی ثبوت دیا گیا ہے کہ سال 2025 میں پاکستان کے خلاف 600 سے زیادہ دہشتگرد حملے کیے گئے، جن میں سے متعدد حملے افغان سرزمین سے لانچ کیے گئے۔

تربیتی کیمپس اور دیگر عالمی دہشتگرد تنظیموں کا ایکو سسٹم

’فتنہ الخوارج‘ نے کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا کے علاقوں میں اپنا وسیع تربیتی انفراسٹرکچر قائم کر رکھا ہے۔ ان تربیتی مراکز میں افغان طالبان حکومت کے اہلکار بھی ان کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں، جو طالبان حکومت اور دہشتگردوں کے درمیان خطرناک اوورلیپ (مماثلت) کا واضح ثبوت ہے۔

جب بھی ان دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو طالبان حکومت انہیں ختم کرنے کے بجائے دہشتگردوں اور ان کی پناہ گاہوں کے دفاع کے لیے سامنے آ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کرم سیکٹر: پاک فوج کی افغان طالبان کی پوسٹوں پر جوابی کارروائی، فتنہ الخوارج کی دراندازی ناکام

یہ سنگین مسئلہ صرف ’فتنہ الخوارج‘ تک محدود نہیں رہا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹنگ کے مطابق افغانستان میں القاعدہ، ای ٹی آئی ایم اور داعش کی مسلسل موجودگی بھی ثابت ہو چکی ہے، جو افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد تنظیموں کے ایک وسیع تر ایکو سسٹم کو بے نقاب کرتی ہے۔

پاکستان کا دوٹوک مؤقف

طالبان حکومت کی جانب سے محض تردید کرنے سے دہشتگردوں کے تربیتی کیمپس، افغان بھرتیاں، سرحد پار حملے، دہشت گردوں کے ہاتھ میں موجود جدید اسلحہ اور ان کے جنازوں میں حکومتی اہلکاروں کی شرکت جیسے ٹھوس حقائق کو نہیں جھٹلایا جا سکتا۔

یہ ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ، تربیتی میدان اور لانچنگ پیڈ کا روپ دھار چکی ہے، جس کی قیمت پاکستان مسلسل اپنے خون سے ادا کر رہا ہے۔

اس تمام صورتحال اور خطے کے دفاعی پس منظر کے تناظر میں پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔ پاکستان کا حتمی مطالبہ ہے کہ دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو فوری ختم کیا جائے، ان کے تربیتی انفراسٹرکچر کا صفایا کیا جائے، سرحد پار دراندازی روکی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے ہرگز استعمال نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp