صدر مملکت آصف علی زرداری نے ’اسلام آباد سیف سٹی آرڈیننس‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں سیف سٹی کیمروں اور سرویلنس انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے والوں پر بھاری مالی جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
نئے آرڈیننس کے تحت سیف سٹی کے کیمروں یا متعلقہ سرویلنس انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے، کیمرے توڑنے، نیز اس عمل پر اکسانے یا ترغیب دینے پر بھاری مالی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ قانون کے مطابق سیف سٹی کیمرے یا انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے پر ذمہ دار فرد یا فریق پر فی کیمرا 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد سیف سٹی توسیعی منصوبے کا 85 فیصد کام مکمل، 30 ستمبر تک تکمیل کا ہدف
آرڈیننس کی شقوں کے مطابق جلسے، جلوس، دھرنے، احتجاج یا ہڑتال کے دوران اگر سیف سٹی املاک کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کا ہرجانہ صرف توڑ پھوڑ کرنے والوں سے ہی نہیں بلکہ پروگرام کے منتظمین (Organizers) سے بھی وصول کیا جائے گا۔
نقصان کی مالی لاگت کا حتمی تعیّن مجاز افسر تمام فریقین کو شنوائی کا بھرپور موقع دینے کے بعد کرے گا۔ اگر کوئی فریق اس فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو اسے فیصلے کے خلاف 30 دنوں کے اندر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں اپیل دائر کرنے کا قانونی حق حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد سیف سٹی کو کیپٹل سمارٹ سٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
آرڈیننس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ وقت پر جرمانے یا نقصان کی رقم ادا نہ کی گئی تو یہ رقم ’اراضی کے بقایا جات‘ (Land Revenue Recovery) کے سخت قانونی طریقہ کار کے تحت وصول کی جائے گی۔
مزید برآں، جرمانے اور نقصان کی مد میں جمع ہونے والی تمام رقم صرف اور صرف سیف سٹی کیمروں کی مرمت، دیکھ بھال اور نئے کیمروں کی تبدیلی پر ہی خرچ کی جائے گی۔














