خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے ارکان (ایم پی ایز) کی کسی بھی مجرمانہ مقدمے یا اجرائے حکم میں گرفتاری سے قبل اسپیکر کی پیشگی اجازت لازمی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ قانون کے سامنے برابری کے دعوے کرنے والوں کا یہ کیسا قانون ہے۔
خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کے ارکان (ایم پی ایز) کی گرفتاری، حراست سے متعلق ایک نیا اور متنازع طریقہ کار سامنے آیا ہے، جس کے تحت اب کسی بھی جرم یا الزام کی صورت میں پولیس یا مجسٹریٹ ارکانِ اسمبلی کو اسپیکر اسمبلی کی پیشگی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کر سکیں گے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کے ڈپٹی سیکرٹری (ایڈمن) کی جانب سے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس خیبر پختونخوا کے نام جاری کردہ مراسلے (مؤرخہ 25 ستمبر 2026) میں واضح کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا پروونشل اسمبلی (پاورز، امیونیٹیز اینڈ پریولیجز) ایکٹ 2026‘ کے سیکشن 11 کے تحت کسی بھی رکنِ اسمبلی کو مجرمانہ مقدمے یا برائے حراست حکم کے تحت گرفتار کرنے سے قبل متعلقہ مجسٹریٹ یا انتظامی افسر کو اسپیکر کی پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔
Now in Khyber Pakhtunkhwa, even if an MPA is accused of a criminal offence, the police must first seek the Speaker’s permission before arresting him.
What next? If an MPA kills someone, will the police first wait for the Speaker’s permission to arrest him?
What an extraordinary… pic.twitter.com/HaxuBDT3c1
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) September 26, 2026
نوٹیفکیشن کے مطابق اگر اسپیکر عوامی مفاد میں ضروری سمجھے تو چالان یا پولیس رپورٹ عدالت میں جمع ہونے سے قبل معاملے پر رپورٹ بھی طلب کر سکتا ہے۔ سیکرٹریٹ نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس طریقہ کار پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا شدید ردِعمل
اس نوٹیفکیشن پر اپنے ایک سوشل میڈیا بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کے پی حکومت اور پی ٹی آئی قیادت پر شدید طنز و تنقید کی ہے۔ محسن نقوی نے سوال اٹھاتے ہوئے لکھا:
’اب خیبر پختونخوا میں اگر کسی ایم پی اے پر کسی جرم کا الزام بھی ہو تو پولیس کو اسے گرفتار کرنے سے پہلے اسپیکر سے اجازت لینا ہوگی۔ آگے کیا ہوگا؟ اگر کوئی ایم پی اے کسی کو قتل کر دے تو کیا پولیس اسے گرفتار کرنے کے لیے اسپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی؟‘
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کوشش کی گئی تو سخت نتائج کا سامنا ہوگا، وزیر داخلہ محسن نقوی
انہوں نے مزید کہا کہ ’قانون کے سامنے مساوات‘ کا یہ ایک عجیب و غریب اور غیر معمولی روپ ہے۔ محسن نقوی نے طنزاً کہا کہ ’بہت خوب! جاری رکھیں۔ کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے؟‘
اسمبلی سیکرٹریٹ کے خط اور اس پر وفاقی وزیر داخلہ کی اس تنقید کے بعد صوبائی و وفاقی سیاست میں ایک نیا بحث و مباحثہ چھڑ گیا ہے۔














