اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بڑی تیل کمپنیوں پر ماحول کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات روزمرہ کی معاشی زندگی پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کی پالیسی اختیار کی ہے جبکہ امریکا، پیرس ماحولیاتی معاہدے سے بھی الگ ہوچکا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشت کی جانب سے فوسل ایندھن کی پیداوار میں اضافے کا رجحان ’صاف توانائی‘ کی طرف منتقلی کی عالمی کوششوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
“We are the first generation with the tools to end the fossil fuel age & the last who can avert climate catastrophe.” – @antonioguterres called on countries to set clear timelines to shift away from fossil fuels, at a #ClimateAction Summit this week.
— UN News (@UN_News_Centre) September 26, 2026
انتونیو گوتریس کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کے بعد 5 بڑی مغربی تیل کمپنیوں نے تقریباً 500 ارب ڈالر منافع کمایا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی موافقت کے لیے صرف 34 ارب ڈالر فراہم کیے گئے۔
اس ضمن میں یہ بات لائق تحسین ہے کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، تاہم ملک کو سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی اور گلیشیئرز میں تبدیلی جیسے موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے۔













