فوسل ایندھن کے استعمال سے موسمیاتی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ

اتوار 27 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بڑی تیل کمپنیوں پر ماحول کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات روزمرہ کی معاشی زندگی پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کی پالیسی اختیار کی ہے جبکہ امریکا، پیرس ماحولیاتی معاہدے سے بھی الگ ہوچکا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشت کی جانب سے فوسل ایندھن کی پیداوار میں اضافے کا رجحان ’صاف توانائی‘ کی طرف منتقلی کی عالمی کوششوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

انتونیو گوتریس کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کے بعد 5 بڑی مغربی تیل کمپنیوں نے تقریباً 500 ارب ڈالر منافع کمایا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی موافقت کے لیے صرف 34 ارب ڈالر فراہم کیے گئے۔

اس ضمن میں یہ بات لائق تحسین ہے کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، تاہم ملک کو سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی اور گلیشیئرز میں تبدیلی جیسے موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp