البانیہ میں طلبہ کے پرتشدد مظاہرے تیسرے روز بھی جاری، وزیراعظم کا مستعفی ہونے سے انکار

جمعرات 15 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی ملک البانیہ میں تعلیمی اخراجات میں اضافے اور بدعنوانی کے خلاف طلبہ کے احتجاج نے شدت اختیار کرلی ہے، جہاں مظاہروں کا سلسلہ مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہا۔

وزیراعظم ایڈی راما نے مستعفی ہونے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتیں جمہوری انتخابات کے ذریعے تبدیل ہوتی ہیں، انقلاب کے ذریعے نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خفیہ معلومات افشا کرنے کا الزام، البانیہ کی انٹیلیجنس چیف نے گرفتاری دے دی

خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈی راما نے کہا کہ ان کی ذمہ داری طلبہ کے جائز مطالبات سننا، مسائل حل کرنا اور ملک کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھانا ہے۔

ان کے مطابق گزشتہ سال انتخابات میں عوام نے ان کی حکومت کو مینڈیٹ دیا تھا، اس لیے استعفے کے مطالبات کا فیصلہ جمہوری طریقے سے ہونا چاہیے۔

دارالحکومت ترانا میں مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، کھڑکیاں توڑیں اور پولیس پر پتھراؤ کیا، جس کے جواب میں پولیس نے واٹر کینن استعمال کرکے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

پرتشدد واقعات کے باعث پارلیمنٹ کا اجلاس بھی منسوخ کردیا گیا، شہر کی سڑکوں پر جلے ہوئے کچرے کے ڈبے، ٹوٹے ہوئے بس اسٹاپ اور تباہ شدہ ٹریفک سگنلز دیکھے گئے۔

رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور ایک سرکاری عمارت اور 2 بینکوں کو آگ لگادی۔

مزید پڑھیں: البانیہ: نائب وزیراعظم کے مبینہ کرپشن کیس پر حکومت کیخلاف احتجاج، سرکاری دفاتر پر حملے

طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ احتجاج کی بنیادی وجوہات جامعات میں سہولیات کی کمی، اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے اخراجات، مالی معاونت کا فقدان اور ڈگری مکمل کرنے کے بعد روزگار کے محدود مواقع ہیں۔

وزیراعظم راما نے کہا کہ وہ تعلیم کے بڑھتے اخراجات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم سرکاری اداروں پر حملے، املاک کی تباہی اور عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنا طلبہ کے جائز مطالبات کا حصہ نہیں ہوسکتا۔

یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب البانیہ یورپی یونین میں شمولیت کے لیے کوششیں تیز کیے ہوئے ہے، راما نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف اقدامات کیے جارہے ہیں اور وہ تشدد کو ملک کے یورپی مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ خاندان سے منسلک سیاحتی منصوبے کے خلاف البانیہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج

البانیہ اور مونٹی نیگرو اس وقت مغربی بلقان کے ان ممالک میں شامل ہیں جو یورپی یونین کی رکنیت کے حصول کے لیے نسبتاً تیزی سے پیش رفت کررہے ہیں، البانیہ کا ہدف 2028 تک رکنیت حاصل کرنا ہے۔

تاہم بدعنوانی کے اسکینڈلز اور منی لانڈرنگ سے متعلق خدشات نے ملک کی ساکھ کو متاثر کیا ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم کو قانونی شکل دینے والے گروہوں کی سرگرمیاں بھی یورپی یونین میں شمولیت کے عمل کو پیچیدہ بناتی ہیں۔

البانیہ میں حالیہ احتجاج یورپ میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی احتجاجی سرگرمیوں کا حصہ ہے، فرانس میں بھی طلبہ بہتر تعلیمی سہولیات، اضافی اساتذہ اور اسکولوں کی مخدوش عمارتوں کی مرمت کے مطالبات کے لیے مظاہرے کررہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp