امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کے چیئرمین ٹام سوازی نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ دہشتگردی کا شکار ملک ہے، اس لیے عالمی برادری خصوصاً امریکا کو پاکستانیوں کے تحفظ اور انسدادِ دہشتگردی کے لیے اسلام آباد کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔
نیویارک میں امورِ خارجہ کے معروف ماہر محمد مہدی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کانگریس مین ٹام سوازی نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا یہ سمجھنے میں ناکام رہی ہے کہ پاکستان برکینا فاسو سے بھی زیادہ دہشتگردی سے متاثرہ ملک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت دہشتگردی کی ایک انتہائی سنگین لہر کا سامنا ہے، اس لیے عالمی برادری اور امریکا کو چاہیے کہ وہ اپنے دوست ملک پاکستان کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنائیں۔
سرحدی چیلنجز، ہتھیاروں کی فراہمی اور انٹیلی جنس شیئرنگ
امریکی رکن کانگریس نے سرحدی سیکیورٹی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اپنی سیدھی اور ہموار سرحد محفوظ بنانے میں بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات، پاک امریکا تعلقات اور علاقائی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال
اس کے برعکس پاکستان کو ایک انتہائی دشوار گزار، غیر آباد اور پہاڑی خطے میں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنی پڑتی ہے، جہاں بیرونی عناصر پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکا کو دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق امریکا کو بھارت سمیت اپنے دیگر اتحادیوں کو بھی قائل کرنا چاہیے کہ انسدادِ دہشتگردی اور اپنے دفاع کے لیے پاکستان کو ہتھیار فروخت کرنا ایک منطقی اور ضروری قدم ہے۔
خطے میں پاکستان کا کلیدی کردار اور پاک امریکا تعلقات
ٹام سوازی نے خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور پورے خطے کے مستقبل میں پاکستان کا انتہائی اہم کردار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے مخالفین کے ساتھ بھی پاکستان کے گہرے اور استوار تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے وہ امریکا اور اس کے حریفوں کے درمیان اختلافات کم کرانے میں ایک قابلِ اعتماد مشیر بن سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدہ صورتحال میں بھی پاکستان ایک انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ہمیں خطے میں پاکستان کی بے پناہ ساکھ اور سفارتی اہمیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
معاشی استعداد اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے تجاویز
پاک امریکا اقتصادی تعلقات کی بہتری پر زور دیتے ہوئے ٹام سوازی نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی آبادی، بے پناہ قدرتی وسائل اور بے مثال ٹیلنٹ موجود ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کو قازقستان کی طرز پر ایک ’آزاد ثالثی بورڈ‘ قائم کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی کمپنیوں اور مقامی افراد کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے اس بورڈ میں پاکستانی، امریکی اور برطانوی وکلا اور ججز شامل ہونے چاہییں۔ اس طرح کے جدید اور آزادانہ فیصلوں سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع پیدا ہوں گے۔
پاک بھارت تعلقات اور کرتارپور راہداری کا تاریخی دورہ
پاک بھارت تعلقات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کانگریس مین نے اپنے 2025 کے دورہ پاکستان کا پس منظر بھی بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کرتارپور صاحب کا دورہ کرنے والے امریکی کانگریس کے پہلے رکن تھے۔
انہوں نے یہ مقام جان بوجھ کر اس لیے چنا کیونکہ اس وقت یہ واحد جگہ تھی جہاں بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی حد تک رابطے بحال تھے اور سکھ زائرین بھارت سے پاکستان آ سکتے تھے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا کرتارپور صاحب کو پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
متوازن خارجہ پالیسی اور امریکی منڈیوں تک رسائی کی ضرورت
اس اہم ملاقات کے دوران امورِ خارجہ کے ماہر محمد مہدی نے کہا کہ پاکستان آج بھی ایک متوازن عالمی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں، محسن نقوی کی امریکی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ جس طرح پاکستان نے ماضی میں امریکا اور چین کو قریب لانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا، اسی طرح آج بھی اسلام آباد عالمی طاقتوں کے درمیان خلیج پاٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
محمد مہدی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اقتصادی ہم آہنگی کے لیے پاکستانی مصنوعات کو امریکی منڈیوں تک وسیع رسائی دینا اور پاکستان میں سویلین ڈھانچے کی اصلاحات انتہائی ناگزیر ہیں۔














