چین کا 2028 تک مریخ کا مکمل نقشہ بنانے کا منصوبہ

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے 2028 کے اختتام تک مصنوعی ذہانت کی مدد سے مریخ کی پوری سطح کا دنیا کا پہلا جامع جیولوجیکل نقشہ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ چین 2028 کے آخر میں تیان وین 3 مشن روانہ کرکے مریخ سے کم از کم 500 گرام نمونے زمین پر واپس لانے کا بھی ہدف رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریخ پر کس تعمیراتی مواد  سے گھر بنائے جائیں گے؟

چین کا تیار کردہ ارضیاتی نقشہ مریخ کی پوری سطح پر مشتمل ہوگا اور اسے مریخ کی جیولوجیکل عمر کے تعین کے لیے عالمی معیار بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت تیان وین 3 کے لینڈنگ مقام کا 1:50,000 پیمانے پر تفصیلی جیولوجیکل نقشہ بھی تیار کیا جائے گا، جبکہ نقشوں کی ایک مکمل سیریز بھی بنائی جائے گی۔ یہ طریقہ چاند، زہرہ اور سیارچوں کے نقشے تیار کرنے کے لیے بھی نمونہ بن سکتا ہے۔

چین تیان وین 3 مشن 2028 کے آخر میں روانہ کرے گا اور اس کے ذریعے کم از کم 500 گرام مریخی نمونے جمع کرکے 2031 تک زمین پر واپس لانے کا منصوبہ ہے۔ اس کامیابی کی صورت میں چین مریخ سے نمونے زمین پر واپس لانے والا دنیا کا پہلا ملک بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خلائی ٹوائلٹ صاف کرنے والی خاتون نے مریخ مشن کی قیادت سنبھال لی، اس مقام تک رسائی کیسے ہوئی؟

تیان وین 3 مشن کے لیے 2 الگ پروازیں کی جائیں گی۔ پہلی پرواز میں لینڈر اور مریخ سے اڑان بھرنے والی گاڑی جبکہ دوسری میں مدار میں گردش کرنے والا خلائی جہاز اور نمونے واپس لانے والا ماڈیول روانہ کیا جائے گا۔

مریخ کے مجوزہ نقشے میں چین کے ژورونگ روور سے حاصل ہونے والا ڈیٹا بھی شامل کیا جائے گا۔ ژورونگ روور سے حاصل معلومات میں ایسے شواہد ملے تھے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریخ پر تقریباً 3.5 ارب سال قبل براعظموں کے پیمانے پر ایک قدیم سمندر موجود ہوسکتا تھا، جبکہ تقریباً 1.6 ارب سال قبل مختصر مدت کے لیے سیلاب بھی آئے تھے۔

چین کے اس منصوبے سے امریکا کے ساتھ خلائی دوڑ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا اور یورپی خلائی ادارے نے بھی مریخ سے نمونے زمین پر واپس لانے کا پروگرام شروع کیا تھا، تاہم اس پروگرام کی لاگت بڑھ کر تقریباً 11 ارب ڈالر تک پہنچنے اور تاخیر کے باعث نمونے 2040 سے پہلے واپس لانا مشکل ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جاپان کی مریخ کے چاندوں سے نمونے حاصل کرنے کے لیے اہم مشن کی تیاری

جنوری میں امریکی کانگریس نے موجودہ مہنگے پروگرام کو ختم کرنے کے لیے اس کی مالی معاونت میں کمی کردی اور کچھ رقم کم لاگت والی ٹیکنالوجیز کی جانب منتقل کی گئی۔ یہ اقدامات مریخ کے مستقبل کے مشنز سے متعلق نئے منصوبے کے تحت کیے گئے، جس کے باعث امریکی مریخی نمونوں کی واپسی کی حتمی مدت اب بھی غیریقینی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp