سائنسدانوں نے جیلاٹن، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خمیر اور مریخی مٹی سے ایک مضبوط تعمیراتی مواد تیار کرلیا، جسے مستقبل میں مریخ پر رہائش گاہوں کی تعمیر میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مستقبل میں اگر مریخ پر انسانی بستیاں قائم ہوتی ہیں تو وہاں تعمیرات کے لیے روایتی سیمنٹ اور اینٹوں کے بجائے جیلاٹن، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خمیر اور مریخی مٹی استعمال کی جاسکتی ہے۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ایسا حیاتیاتی تعمیراتی مواد تیار کیا ہے جو ریت یا چٹانی ذرات کو مضبوطی سے جوڑنے کے لیے جیلاٹن اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خمیر کو بطور بائنڈر استعمال کرتا ہے۔
ماحولیاتی انجینئر ننگ لیو اور ان کے ساتھیوں کی قیادت میں ہونے والی تحقیق میں خمیر کی قسم سیکرومائسز سیریویسیے میں جینیاتی تبدیلیاں کی گئیں۔ ایک تبدیلی خمیر کے خلیوں کو ایک دوسرے سے مضبوطی سے جڑنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ دوسری تبدیلی ایسے پروٹین پیدا کرتی ہے جو سیپ یا مصل کو چٹانوں سے مضبوطی سے چپکنے میں مدد دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مریخ پر پراسرار گڑھوں کی دریافت، 14 سال بعد بھی ناسا کا ’کیوریوسٹی روور‘ سرخ سیارے سے حیران
سائنسدانوں نے اس حیاتیاتی مکسچر کو مریخ کی مٹی، جسے ریگولتھ کہا جاتا ہے، کے ساتھ ملا کر تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے چھوٹے گنبد نما ڈھانچے تیار کیے۔
تجربات میں مریخ کے ماحول کی نقل کرتے ہوئے مواد کو تقریباً 48 گھنٹے تک منفی 55 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور انتہائی کم فضائی دباؤ میں رکھا گیا۔ اس دوران مکسچر میں موجود پانی پہلے منجمد ہوا اور بعد ازاں براہِ راست بخارات میں تبدیل ہوگیا، جسے سبلی میشن کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں جیلاٹن، چٹانی ذرات اور خمیر سے بننے والے پروٹینز پر مشتمل ہلکا پھلکا مگر مضبوط مسام دار ڈھانچہ تشکیل پایا۔
سائنسدانوں کے تیار کردہ تقریباً 4.5 سینٹی میٹر بلند اور 3 سینٹی میٹر چوڑے گنبدوں نے تقریباً 12 میگاپاسکل تک دباؤ برداشت کیا، جبکہ موڑنے کے خلاف ان کی طاقت تقریباً 6 میگاپاسکل ریکارڈ کی گئی۔
تحقیق کے سینئر مصنف اور ہانگ کانگ یونیورسٹی کے انجینئر جیشین کیو کے مطابق یہ طاقت زمین پر استعمال ہونے والے کم درجے کے کنکریٹ کے قریب ہے۔ تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ مواد اکیلا مریخ پر انسانوں کے لیے مکمل گھر نہیں بنا سکتا، کیونکہ رہائش گاہ کو فضائی دباؤ برقرار رکھنے، ہوا کو محفوظ رکھنے اور خطرناک تابکاری سے تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت بھی درکار ہوگی۔
سائنسدانوں کے مطابق مستقبل کی مریخی رہائش گاہیں کئی تہوں پر مشتمل ہوسکتی ہیں، جن میں ہوا کا دباؤ برقرار رکھنے والے حصے، ہوا بند تہیں اور جوڑ، تابکاری سے بچاؤ کے لیے پانی کی تہہ اور خمیر سے تیار کردہ مضبوط تعمیراتی ڈھانچہ شامل ہوسکتا ہے۔ اگر خمیر کے جینیاتی ڈھانچے میں مزید تبدیلیاں کرکے اسے شدید سردی، کم دباؤ اور تابکاری برداشت کرنے کے قابل بنایا جاسکے تو اس ٹیکنالوجی کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زمین سے مریخ لے جائے جانے والے تیزی سے افزائش پانے والے جرثومے سیاروی آلودگی کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے سیاروی تحفظ بھی آئندہ تحقیق کا اہم حصہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے کیا ناسا کو مریخ پر قدیم زندگی کے شواہد مل گئے؟ نئی دریافت نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا
محققین کے مطابق خمیر اور جیلاٹن پر مبنی طریقہ مریخی مٹی کو انتہائی زیادہ درجہ حرارت پر پگھلا کر تعمیراتی مواد بنانے کے مقابلے میں کم توانائی استعمال کرسکتا ہے۔ خمیر کو ایک مرتبہ مریخ پہنچانے کے بعد اسے حیاتیاتی ری ایکٹر میں دوبارہ پیدا کرنے اور پرانے تعمیراتی مواد کو ری سائیکل کرکے دوبارہ استعمال کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔ تاہم سائنسدانوں کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی تجرباتی مرحلے میں ہے اور مریخ پر حقیقی انسانی رہائش گاہ بنانے سے پہلے اس کی طویل مدتی پائیداری، حرارت برقرار رکھنے کی صلاحیت، خمیر کی بقا، تابکاری کے اثرات اور سیاروی آلودگی سمیت متعدد پہلوؤں پر مزید تحقیق درکار ہوگی۔ تحقیق کیم سرکیولیرٹی نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔














