خیبرپختونخوا حکومت کو دہشتگردی کی مد میں ہر سال کتنا فنڈ ملتا ہے؟

بدھ 30 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کو دہشتگردی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے گزشتہ 17 مالی سالوں کے دوران 700 ارب روپے سے زیادہ کے فنڈز فراہم کیے ہیں جبکہ ہر سال اس رقم میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ تاہم ان خطیر رقوم کے استعمال کی الگ اور واضح تفصیل صوبائی مالیاتی ریکارڈ میں موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں بدانتظامی، دہشتگردی، منشیات اور اسمگلنگ، سہیل آفریدی حکومت کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ 7ویں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت دہشتگردی سے متاثرہ صوبے کے لیے مختص ایک فیصد رقم ہر سال صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں شامل ہوتی رہی ہے جس کے باعث اس رقم کو الگ سے ٹریک کرنا اور اس کے مخصوص استعمال کا تعین کرنا مشکل ہے۔

ساتواں این ایف سی دسمبر 2009 میں طے ہوا تھا اور یکم جولائی 2010 سے نافذ ہوا۔ اس کے تحت خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے باعث ہونے والے انفراسٹرکچر، تجارت اور دیگر مالی نقصانات کے ازالے کے لیے تقسیم شدہ وفاقی ٹیکسوں کے پول سے ایک فیصد اضافی رقم دی جانے لگی۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق 11-2010 سے ستمبر 2026 تک خیبرپختونخوا حکومت کو اس مد میں مجموعی طور پر 799 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے دیے جا چکے ہیں۔

ہر سال کتنی رقم مختص اور جاری ہوئی؟

وی نیوز کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق مالی سال 11-2010 میں خیبرپختونخوا حکومت نے 15 ارب 23 کروڑ روپے ملنے کا تخمینہ لگایا، تاہم 14 ارب 56 کروڑ روپے موصول ہوئے۔ مالی سال 12-2011 میں 18 ارب 20 لاکھ روپے کے تخمینے میں سے 16 ارب 41 کروڑ روپے جاری ہوئے، 13-2012 میں 22 ارب 70 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا جبکہ 19 ارب 50 لاکھ روپے جاری ہوئے، 14-2013 میں 23 ارب 82 کروڑ روپے میں سے 21 ارب 63 کروڑ روپے، 15-2014 میں 27 ارب 29 کروڑ روپے میں سے 24 ارب 42 کروڑ روپے، جبکہ 16-2015 میں 30 ارب 15 کروڑ روپے کے تخمینے کے مقابلے میں 30 ارب 41 کروڑ روپے موصول ہوئے۔

اسی طرح مالی سال 17-2016 میں 35 ارب 29 کروڑ روپے کے تخمینے میں سے 31 ارب 29 کروڑ روپے، 18-2017 میں 39 ارب 17 کروڑ روپے میں سے 36 ارب 40 کروڑ روپے، 19-2018 میں 43 ارب 31 کروڑ روپے میں سے 39 ارب 40 کروڑ روپے، 20-2019 میں 54 ارب 46 کروڑ روپے میں سے 40 ارب 25 کروڑ روپے، 21-2020 میں 48 ارب 64 کروڑ روپے میں سے 44 ارب 85 کروڑ روپے، 22-2021 میں 57 ارب 20 کروڑ روپے کے تخمینے کے مقابلے میں 59 ارب 91 کروڑ روپے، 23-2022 میں 68 ارب 59 کروڑ روپے کے مقابلے میں 70 ارب 47 کروڑ روپے، جبکہ 24-2023 میں 89 ارب 81 کروڑ روپے کے تخمینے میں سے 86 ارب 71 کروڑ روپے موصول ہوئے۔

فنڈ میں مسلسل اضافہ

اس کے بعد اس فنڈ میں مزید اضافہ ہوا۔ 25-2024 میں 108 ارب 44 کروڑ 30 لاکھ روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا تاہم 112 ارب 29 کروڑ 60 لاکھ روپے خیبرپختونخوا حکومت کو ملے۔ 26-2025 میں 137 ارب 91 کروڑ 20 لاکھ روپے ملنے کا تخمینہ تھا، تاہم 128 ارب 23 کروڑ 40 لاکھ روپے موصول ہوئے۔

مزید پڑھیے: آپریشن غضب للحق کے اثرات، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی

رواں مالی سال 27-2026 میں 149 ارب 76 لاکھ روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے تاہم پہلے ڈھائی ماہ یعنی ستمبر 2026 تک وار آن ٹیرر کی مد میں 23 ارب 69 لاکھ روپے صوبائی حکومت کو جاری ہو چکے ہیں۔

رقم کہاں خرچ ہوتی ہے؟

خیبرپختونخوا حکومت کو موصول ہونے والی تمام ریونیو صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ ون، یعنی پروونشل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع ہوتی ہے اور اس کے لیے کوئی الگ ہیڈ موجود نہیں جس کی وجہ سے یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ یہ رقم کہاں اور کس مد میں استعمال ہوتی ہے۔

رابطہ کرنے پر سیکریٹری خزانہ کامران آفریدی نے کہا کہ مذکورہ فنڈز صرف خیبرپختونخوا کو نہیں بلکہ تمام صوبوں کو ملتے ہیں اور دیگر صوبوں کو خیبرپختونخوا سے زیادہ رقم ملتی ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ فنڈ دہشتگردی کی مد میں ملتا ہے بلکہ یہ رقم دہشتگردی کے باعث ہونے والے نقصانات کے ازالے کی مد میں ملتی ہے۔

سیکریٹری خزانہ کے مطابق اس رقم کا انحصار فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مقرر کیے گئے اہداف پر ہوتا ہے۔ اگر ایف بی آر اپنے اہداف پورے کرتا ہے تو یہ فنڈ بھی مکمل ملتا ہے تاہم جو ہدف مقرر کیا جاتا ہے اسی کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت بھی اپنا بجٹ ترتیب دیتی ہے۔

پولیس کے بجٹ میں بھی اضافہ

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس کے بجٹ میں مسلسل اضافہ کیا ہے اور صوبے کے مجموعی بجٹ کا 10 فیصد پولیس کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے ساتھ مذاکرات کے آپشنز میز پر ہیں، رانا ثنااللہ

رواں مالی سال پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب 40 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے آپریشنل بجٹ کو 15 ارب روپے سے بڑھا کر 30 ارب 20 کروڑ روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس میں مزید آسامیوں کی تخلیق کے بعد مجموعی منظور شدہ آسامیوں کی تعداد بھی بڑھا کر ایک لاکھ 39 ہزار 318 کر دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp