مراکش کی تاریخ میں پہلی بار خاتون وزیراعظم مقرر، فاطمہ الزہرا المنصوری کو حکومت سازی کا حکم

بدھ 30 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے منگل کو مراکش شہر کی میئر فاطمہ الزہرا المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم مقرر کردیا۔ ان کی جماعت آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی (PAM) نے گزشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔

شاہی کابینہ کے مطابق بادشاہ محمد ششم نے 50 سالہ فاطمہ الزہرا المنصوری کو نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ PAM نے 395 رکنی ایوانِ نمائندگان میں 97 نشستیں حاصل کیں، جو دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت سے 31 نشستیں زیادہ ہیں۔

تاہم PAM واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی، اس لیے نئی وزیراعظم کو حکومت بنانے کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا۔ مراکش میں بادشاہ کو اہم پالیسی معاملات پر وسیع اختیارات حاصل ہیں۔

اپنی تقرری کے فوراً بعد ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے فاطمہ الزہرا المنصوری نے کہا کہ ان کی تقرری’واقعی تاریخی ‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’ہمارے ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون حکومت کی قیادت کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے۔ یہ صرف میرے لیے نہیں بلکہ تمام مراکشی خواتین کے لیے باعثِ فخر ہے۔‘

نئی وزیراعظم نے حکومت سازی کے آئندہ مرحلے کے بارے میں کہا کہ ’کام آج سے شروع ہوتا ہے‘۔ ان کے مطابق پہلے PAM کے اندر مشاورت کی جائے گی، جس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں اور گروپوں کے ساتھ حکومت سازی کے لیے بات چیت ہوگی۔

فاطمہ الزہرا المنصوری 2008 میں PAM میں شامل ہوئی تھیں۔ یہ وہی سال تھا جب موجودہ شاہی مشیر فواد علی الہمہ نے اس جماعت کی بنیاد رکھی تھی۔ PAM کو جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (PJD) کے مقابلے میں ایک سیاسی قوت کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔

المنصوری نے 2009 میں مراکش شہر کی میئر منتخب ہوکر تاریخ رقم کی اور اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بنیں۔ تاہم 6  سال بعد وہ یہ عہدہ ہار گئیں، جبکہ 2021 میں دوبارہ میئر منتخب ہوئیں۔ وہ مراکش کی وزیرِ ہاؤسنگ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

نئی حکومت ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہی ہے جب مراکش کو بے روزگاری، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور مسلسل سماجی عدم مساوات جیسے مسائل کا سامنا ہے، جن سے خاص طور پر نوجوان طبقہ متاثر ہورہا ہے۔

پارلیمانی انتخابات سے چند ہفتے قبل ہی ہزاروں کی تعداد میں، زیادہ تر نوجوان مراکشی، ہسپانوی علاقے سیوٹا میں داخل ہوگئے تھے۔ اس واقعے نے ملک کے نوجوانوں میں موجود سماجی اور اقتصادی مایوسی کو نمایاں کیا۔

اس سے ایک سال قبل مراکش میں ’جین زی‘ کی قیادت میں احتجاجی تحریک بھی سامنے آئی تھی، جس میں صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

فاطمہ الزہرا المنصوری نے نئی حکومت سے وابستہ توقعات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا، ’ہمیں بخوبی اندازہ ہے کہ یہ دور انتہائی اہم ہوگا اور اس دوران مراکشی عوام، بالخصوص نوجوانوں کی جانب سے بڑی توقعات وابستہ ہوں گی۔‘

انہوں نے کہا، ’اسی لیے ہم ایک ایسا پروگرام پیش کریں گے جو شہریوں کے خدشات کا ٹھوس اور حقیقت پسندانہ حل فراہم کرے گا۔‘

PAM نے انتخابی مہم کے دوران 5 سالہ مدت میں اوسطاً 5 فیصد سالانہ معاشی ترقی حاصل کرنے، مہنگائی کو 2 فیصد تک کم کرنے اور کم از کم 10 لاکھ نئی ملازمتیں دینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

انتخابات میں PAM کے بعد نیشنل ریلی آف انڈیپنڈنٹس (RNI) 66 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ یہ جماعت سابق حکومتی اتحاد کی سربراہی کر رہی تھی۔ دائیں بازو کی استقلال پارٹی 65 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر آئی، جبکہ حزبِ اختلاف کی اسلام پسند جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (PJD) نے 54 نشستیں حاصل کیں۔

PJD نے 2021 کے انتخابات میں صرف 13 نشستیں حاصل کی تھیں، تاہم اس بار جماعت نے نمایاں کامیابی حاصل کی، جس کی انتخابی مہم میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات پر بھی زور دیا گیا تھا۔

PJD کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عبدالإلہ بنکیران نے نتائج کو’فتح ‘ قرار دیا، تاہم انہوں نے PAM کی قیادت میں بننے والے حکومتی اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔

بنکیران نے PAM پر انتخابی دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے اور جماعت کو’دھاندلی کے داغ‘ سے داغدار قرار دیا، تاہم انہوں نے اپنے الزام کی کوئی تفصیل پیش نہیں کی۔

دوسری جانب، اس بار ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ بھی 2 دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہا۔ اس کے بعد فاطمہ الزہرا المنصوری کے لیے حکومت سازی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں موجود معاشی اور سماجی بے چینی سے نمٹنا بھی اہم چیلنج ہوگا۔ ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 38 فیصد رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp