پاکستان کی زیر صدارت ایس سی او اجلاس، باہمی مفاد اور مشترکہ ترقی کے عزم کا اعادہ

بدھ 30 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی زیر صدارت شنگھائی تعاون تنظیم یعنی ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، مساوات، مشاورت اور مشترکہ ترقی کے اصولوں کے تحت کھلے، جامع اور تعمیری تعاون کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالنے کو تیار

وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں وزارت خارجہ میں ایس سی او کے رکن ممالک کے قومی رابطہ کاروں، ایس سی او سیکریٹریٹ اور ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کے سینئر نمائندوں سے خطاب کیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے پاکستان کی چیئرمین شپ کے تحت کونسل آف نیشنل کوآرڈی نیٹرز کے پہلے اجلاس میں شریک نمائندوں کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ باہمی اعتماد، باہمی مفاد، مساوات، مشاورت اور مشترکہ ترقی پر مبنی ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں کے مطابق کھلے، جامع اور تعمیری انداز میں آگے بڑھائی جائے گی۔

نائب وزیراعظم نے پاکستان کی چیئرمین شپ کے موضوع ’ویژن کو عملی اقدامات میں بدلنا: رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی‘ کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایس سی او کے مشترکہ وژن کو عملی تعاون اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے۔

اسحاق ڈار نے 2027 میں اسلام آباد میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی میزبانی کے لیے جاری تیاریوں کا بھی ذکر کیا اور پاکستان کی چیئرمین شپ کو کامیاب بنانے کے لیے تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان قریبی رابطہ کاری اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھالے ہوئے ہے، جبکہ 2027 میں اسلام آباد ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گندم کی درآمد کا پہلا جہاز رواں ماہ کے آخر تک کراچی پہنچے گا، اسحاق ڈار

ایران جنگ کے معاشی جھٹکے، ترقی پذیر ممالک اخراجات کم کریں، آئی ایم ایف

کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے ٹکٹوں کی ریکارڈ طلب، ڈیڑھ کروڑ سے زائد درخواستیں موصول

روسی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس لائنز اور پاکستان مونومنٹ کا دورہ، پاکستانی پرچم کو بوسہ بھی دیا

بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، بلغاریہ کا روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کی مشترکہ بریفنگ

3 مرتبہ حکومت کے باوجود پی ٹی آئی دیر، پشاور موٹروے بنانے میں ناکام، عوام کا احتجاج

میری بیٹی ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننا چاہتی تھی، کاش! میں نے ایجنٹ کی تصدیق کر لی ہوتی، لائبہ کے والد کی دردناک روداد

کالم / تجزیہ

پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

میری موت، میری مرضی

کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟