بالی ووڈ اداکارہ اُروشی روٹیلا نے ایک امریکی کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی۔ کمپنی پر اداکارہ کا نام، تصاویر اور ویڈیوز ان کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اُروشی روٹیلا کی ٹیم کے مطابق لاس اینجلس میں قائم کمپنی ’باولی وڈ اے آئی‘ اور ’ہالی وڈ اے آئی‘ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو شیراز حسن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جارہی ہے۔
اداکارہ کی ٹیم نے کمپنی سے تقریباً 7 ہزار کروڑ بھارتی روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمپنی اُروشی روٹیلا کا نام کاروباری مقاصد کے لیے ان کی اجازت کے بغیر استعمال نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیے لندن ایئرپورٹ سے بیگ چوری ہو گیا، اروشی روٹیلا کا دعویٰ
اُروشی کی ٹیم نے انسٹاگرام پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ کمپنی نے اداکارہ کا نام، تصاویر اور ویڈیوز بغیر اجازت استعمال کیے اور اس کے ذریعے مبینہ طور پر اربوں ڈالر کمائے۔
بیان میں کمپنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اپنی مصنوعی ذہانت کی کمپنی اور برانڈ بنائے، تاہم اُروشی روٹیلا کا نام ان کے کاروبار کے لیے ان کی اجازت کے بغیر استعمال نہ کرے۔
معاملے پر شیراز حسن نے بھی ردعمل دیتے ہوئے اُروشی روٹیلا کو مصنوعی ذہانت اور بالی ووڈ کی تفریحی صنعت پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید جاننے کا مشورہ دیا۔
شیراز حسن کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے فلمیں، مختصر ویڈیوز اور ایسے ڈیجیٹل کردار تخلیق کیے جاسکتے ہیں جو مختلف زبانوں میں بات کرسکیں اور کسی بھی وقت کام کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیے ایک لاکھ گلاب کا تحفہ ملنے پر اروشی روٹیلا تنقید کی زد میں کیوں؟
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تفریحی صنعت کو مصنوعی ذہانت سے ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا اور مستقبل میں ان تبدیلیوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
یہ تنازع ایک وائرل انٹرویو کے بعد سامنے آیا، جس میں اُروشی روٹیلا سے بالی ووڈ اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔
اداکارہ نے انٹرویو میں کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت بالی ووڈ کو متاثر کررہی ہے، تاہم انہوں نے ہندی فلم انڈسٹری سے اپنی محبت کا بھی اظہار کیا تھا۔













