ناروے کی پارلیمنٹ میں بدھ کے روز امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ناروے کے سفارت کاروں اور سیاست دانوں سے روابط کے معاملے پر عوامی سماعت کا آغاز ہوگیا، جس نے ملک کی سیاسی و سفارتی اشرافیہ کو شدید دباؤ سے دوچار کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے محکمہ انصاف نے رواں سال جنوری میں ایپسٹین سے متعلق لاکھوں دستاویزات جاری کی تھیں، جن میں دنیا بھر کے سیاست دانوں، شاہی خاندانوں اور دولت مند شخصیات سے اس کے روابط سامنے آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کا خواتین کو قابو کرنے کا مبینہ نظام بے نقاب، متاثرہ خاتون کی چشم کشا گفتگو
ناروے میں، جہاں نوبیل امن انعام دیا جاتا ہے اور جو عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ان انکشافات کے بعد سیاسی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
معاملے پر پارلیمانی تحقیقات کے ساتھ پولیس کی جانب سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
Norway PM Among 11 Probed Over Epstein Links
Read the full story: https://t.co/Iw7WHs62SL
Norway's Parliament is investigating 11 ministers, including the sitting PM, over Epstein-linked funding flows and a diplomat named in his will.#JeffreyEpstein #Norway #JonasGahrStoere… pic.twitter.com/ntvDx2zMEs
— wondernews.now (@wondernews_now) September 30, 2026
پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے نگرانی و آئینی امور میں سماعت کی قیادت کرنے والے جوناس اینڈرسن سائےڈ نے کہا کہ حکومت کو یہ وضاحت کرنا ہوگی کہ وہ وزارت خارجہ پر اعتماد بحال کرنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایپسٹین سے دوستی یا روابط رکھنے والی شخصیات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے انتہائی ناقص فیصلہ سازی کا مظاہرہ کیا۔
مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین کا خواتین کو قابو کرنے کا مبینہ نظام بے نقاب، متاثرہ خاتون کی چشم کشا گفتگو
پارلیمانی کمیٹی نے 11 موجودہ اور سابق وزرائے خارجہ اور ترقیاتی امور کے وزرا کو طلب کیا ہے، جن میں وزیراعظم جوناس گار اسٹورے بھی شامل ہیں، اسٹورے 2005 سے 2012 تک ناروے کے وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں۔
وزیراعظم اسٹورے نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کا ایپسٹین کے ساتھ کبھی کوئی تعلق نہیں رہا، ان کے مطابق موجودہ صورتحال وزارت خارجہ میں کسی نظامی خرابی کے بجائے چند افراد کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔
مزید پڑھیں: بل گیٹس کا جیفری ایپسٹین سے ملاقات سے قبل 3 خواتین کے ساتھ افیئرز کا اعتراف
انہوں نے کہا کہ جن مسائل کی نشاندہی ہوئی ہے، ان میں سے بعض کو حل کیا جاچکا ہے جبکہ دیگر کے تدارک کے لیے اقدامات جاری ہیں، ان اقدامات میں فیصلہ سازوں کے مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق قواعد میں تبدیلی بھی شامل ہے۔
پارلیمانی سماعت کو ناروے کے سفارتی نظام میں احتساب، مفادات کے ٹکراؤ اور ایپسٹین سے روابط رکھنے والی شخصیات کے طرزِ عمل کا جائزہ لینے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔














