ہردیپ سنگھ نجر قتل کیس میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد ہیں، کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ہردیپ سنگھ نجر قتل کیس میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، جبکہ کینیڈا اپنی سرزمین پر اس نوعیت کے جرائم دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

مزید پڑھیں:کینیڈین وزیراعظم بتائیں، مودی سے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل پر بات ہوئی؟ سکھ فار جسٹس

کینیڈین حکام کے مطابق نجر قتل کیس کی تحقیقات کے دوران بھارتی حکومت کے ایجنٹس اور کینیڈا میں سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے درمیان روابط سامنے آئے ہیں۔ کینیڈین سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس (CSIS) نے بھی بھارت کی کینیڈا میں سرگرمیوں کے تناظر میں ’ٹرانس نیشنل ریپریشن‘ کو اہم معاملہ قرار دیا ہے۔

کینیڈین حکومت کے مطابق ہردیپ سنگھ نجر کو 18 جون 2023 کو برٹش کولمبیا میں قتل کیا گیا تھا، جبکہ مئی 2024 میں کینیڈین پولیس نے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں 4 افراد کو گرفتار کیا۔ اکتوبر 2024 میں کینیڈا نے نجر کیس کے حوالے سے 6 بھارتی سفارتکاروں اور قونصلر حکام کو ملک سے نکال دیا تھا۔

کینیڈا کی سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق نجر قتل کیس میں بھارتی حکومت سے روابط کے شواہد بھارت کی جانب سے خالصتان تحریک سے وابستہ افراد کو شمالی امریکا میں نشانہ بنانے کی سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:کینیڈا: سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے الزام میں 3 بھارتی شہری گرفتار

کینیڈین حکام نے اس معاملے کو بھارت کی سرحد پار جبر اور غیر ملکی مداخلت کی سرگرمیوں کے تناظر میں بھی دیکھا ہے، جبکہ امریکا میں نیویارک میں ایک سکھ امریکی شہری کے قتل کی مبینہ سازش کے مقدمے میں بھی بھارتی حکومت کے ایک اہلکار سے تعلق کا الزام سامنے آچکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp