وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل رولز جاری، توہینِ عدالت سے اپیلوں تک قواعد وضع

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل تفصیلی رولز پبلک کردیے گئے ہیں، جن میں توہینِ عدالت، نظرثانی درخواستوں، ہیبیس کارپس، اپیلوں، عدالتی کارروائی میں التوا، وکلا کی اہلیت اور بینچوں کی تشکیل سمیت مختلف امور کے لیے جامع قواعد وضع کیے گئے ہیں۔

رولز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت توہینِ عدالت کا ازخود نوٹس لینے کے ساتھ کسی شخص کی درخواست پر بھی کارروائی شروع کرسکے گی۔

نظرثانی درخواستوں کے حوالے سے بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی درخواست دائر کرنے والے وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ کم از کم 25 ہزار روپے عدالتی اخراجات عائد کیے جاسکیں گے، جبکہ فریق پر بھی کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد کیے جاسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پرائیویٹ اسپتال میں علاج جیل مینول کے خلاف، پمز یا پولی کلینک میں علاج کیوں نہیں ہو سکتا؟ وفاقی آئینی عدالت

نظرثانی درخواست کی سماعت سے قبل درخواست گزار کو 50 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرانا ہوگا، جو درخواست خارج یا بے بنیاد قرار پانے کی صورت میں ضبط کی جاسکے گا۔

ایسی درخواست حتی الامکان اسی بینچ کے سامنے مقرر ہوگی جس نے اصل فیصلہ یا حکم جاری کیا ہو، رولز کے تحت نظرثانی کے حکم کے خلاف مزید نظرثانی درخواست قابلِ سماعت نہیں ہوگی اور رجسٹری بھی اسے قبول نہیں کرے گی۔

سزائے موت سے متعلق نظرثانی درخواست دائر ہونے پر رجسٹرار متعلقہ حکومت کو فوری آگاہ کرے گا، درخواست کے فیصلے تک سزائے موت پر عملدرآمد خودکار طور پر معطل رہے گا اور الگ عدالتی حکم درکار نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں: ’ایسی کہانیاں تو فلموں میں ہوتی ہیں‘، آئینی عدالت نے جنسی زیادتی کی شکار خاتون کی درخواست خارج کر دی

تاہم اپیل، نظرثانی اور رحم سمیت تمام قانونی چارہ جوئی مکمل ہونے کی صورت میں یہ اصول لاگو نہیں ہوگا۔

رولز میں آئین کی تشریح سے متعلق اہم سوالات پر عدالت کو کسی زیرِ سماعت مقدمے کا ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، متعلقہ عدالت کو ریکارڈ فوری یا مقررہ مدت میں وفاقی آئینی عدالت کو بھجوانا ہوگا۔

ہیبیس کارپس درخواست رجسٹری یا برانچ رجسٹری میں دائر ہوگی اور زیرِ حراست شخص کا حلف نامہ منسلک کرنا ہوگا، آرٹیکل 175E(3) کے تحت ایسی درخواست 7 دن کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائے گی اور اس پر کوئی عدالتی فیس عائد نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ : فیڈرل لینڈ کمیشن کا 1996 کا حکم اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

بادی النظر میں ریلیف کا مقدمہ بننے کی صورت میں عدالت متعلقہ شخص کو طلب یا زیرِ حراست فرد کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے سکے گی۔

فوجداری مقدمات میں اپیل کی اجازت کی درخواست فیصلے یا حتمی حکم کے 60 دن کے اندر دائر کرنا ہوگی، فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے مقدمات میں اسٹیٹ بینک فریق نہ ہو تو اسے بھی نوٹس جاری کیا جائے گا۔

عدالتی کارروائی میں غیر ضروری التوا کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اسے استثنائی معاملہ قرار دیا گیا ہے، مبہم، رسمی یا تاخیر کے لیے دائر درخواست مسترد کی جاسکے گی اور قصوروار فریق، وکیل یا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر تلافیاتی اخراجات عائد کیے جاسکیں گے۔

مزید پڑھیں: ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

آرٹیکل 63 اے کے تحت الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل 30 دن میں دائر کرنا ہوگی، جبکہ عدالت کو اپیل کا فیصلہ 90 دن کے اندر کرنا ہوگا۔

زبانی دلائل کے لیے بھی وقت مقرر کیا گیا ہے؛ عام مقدمات میں ہر فریق کو عموماً 10 منٹ جبکہ اہم قانونی سوال والے مقدمات میں 30 منٹ دیے جائیں گے۔

رولز کے مطابق ہر مقدمہ کم از کم 2 ججز پر مشتمل بینچ سنے گا، ججز کی رائے برابر ہونے کی صورت میں معاملہ دوسرے جج یا بڑے بینچ کو بھیجا جاسکے گا، جبکہ چیف جسٹس اہمیت، پیچیدگی یا عوامی اہمیت کے پیش نظر بڑا بینچ تشکیل دے سکیں گے۔

مزید پڑھیں: سول عدالت کے فیصلے سے قبل فوجداری کارروائی نہیں ہو سکتی، آئینی عدالت

وکلا کے لیے بھی اہلیت کے قواعد مقرر کیے گئے ہیں۔ ایڈووکیٹ کے طور پر انرولمنٹ کے لیے کم از کم 7 سال ہائیکورٹ کا وکیل رہنا لازم ہوگا، پیشہ ورانہ بدعنوانی یا بدسلوکی پر وکیل کا نام رول سے خارج کیا جاسکے گا۔

چیف جسٹس اور ججز علم، قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر وکلا کو سینیئر ایڈووکیٹ نامزد کرسکیں گے، جبکہ سینیئر ایڈووکیٹ کے لیے انرولمنٹ فیس ایک لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

رولز کے تحت مقدمات، درخواستوں، اپیلوں اور نظرثانی درخواستوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا جائے گا اور رجسٹرار چیف جسٹس کی منظوری سے فائلنگ، جانچ، رجسٹریشن، فہرست سازی اور مقدمات کی تقسیم سے متعلق جامع شیڈول مرتب کرکے شائع کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp