12 گھنٹے کی ڈیوٹی، چھٹی کا نام تک نہیں، تنگ آکر خاتون نے 2 لاکھ جرمانہ دے کر نوکری چھوڑ دی

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں ایک سابق بینک ملازمہ نے ملازمت کے دوران پیش آنے والے تلخ تجربات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ روزانہ 12 گھنٹے سے زائد کام کرتی تھیں، چھٹیاں لینے میں مشکلات کا سامنا تھا اور کام کے بعد روزانہ روتی تھیں۔

مادھوریما نامی 31 سالہ خاتون نے بتایا کہ انہوں نے دو سال کی تیاری کے بعد سرکاری ملکیت والے ایک بینک میں ملازمت حاصل کی تھی تاہم وہاں کام کے حالات نے ان کی زندگی شدید متاثر کی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by DearMandy ✨ (@dear_mandy__)

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی مادھوریما اکتوبر 2022 میں دیہی کرناٹک کی ایک بینک برانچ میں تعینات ہوئیں۔ ان کے مطابق اس وقت انہیں تقریباً 70 ہزار بھارتی روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی جبکہ ہاؤس رینٹ الاؤنس سمیت دیگر مراعات بھی حاصل تھیں۔تاہم ملازمت شروع کرنے کے بعد انہیں طویل اوقاتِ کار، اضافی ذمہ داریوں اور چھٹیوں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

مادھوریما کے مطابق وہ اکثر صبح ساڑھے 8 بجے کام شروع کرتیں اور بعض اوقات رات ساڑھے 10 بجے تک بینک میں موجود رہتی تھیں جبکہ اتوار کو بھی کام کے لیے بلایا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کیش کاؤنٹر پر مسلسل کام کے باعث انہیں واش روم جانے کا موقع بھی نہیں ملتا تھا جس کے نتیجے میں انہیں شدید پیشاب کی نالی کے انفیکشن (UTI) کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: گڈاپ: نوکری کا جھانسا دے کر 50 سے زائد لڑکیوں کو فارم ہاؤس بلا لیا گیا، ایونٹ آرگنائزر موبائل فونز لے کر فرار

سابق بینک ملازمہ کا کہنا تھا کہ وہ 2 سے 3 ماہ تک شدید انفیکشن میں مبتلا رہیں اس دوران خون بھی آتا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں بیماری کی چھٹی لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مادھوریما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں شام کے اوقات میں بینک کا کام ختم کرنے کے بعد گاؤں میں جاکر نئے صارفین تلاش کرنے اور انشورنس پالیسیاں فروخت کرنے کی ذمہ داری دی جاتی تھی۔

ان کے مطابق وہ مقامی زبان کنڑ نہیں بولتی تھیں اور ایک خاتون کی حیثیت سے رات کے وقت اکیلے گاؤں میں جا کر نئے اکاؤنٹس حاصل کرنا انہیں غیر محفوظ محسوس ہوتا تھا۔ مادھوریما نے ایک سینئر افسر پر بدسلوکی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق مذکورہ افسر نے ان سے کہا کہ وہ ایک خاتون ہیں اور بینکوں میں خواتین کو ملازمت نہیں دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پُرآسائش نوکری چھوڑنے والا کھیتی باڑی کرکے کیسے سالانہ 600 کروڑ روپے کمارہا ہے؟

خاتون کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے کی شکایت ممبئی میں بینک کے ہیومن ریسورسز (HR) ڈیپارٹمنٹ سے کی جس کے بعد متعلقہ سینئر کے رویے میں تبدیلی آئی۔ مادھوریما نے بتایا کہ مسلسل دباؤ اور کام کے باعث ان کی ذہنی حالت بھی متاثر ہوئی اور وہ روزانہ کام سے واپسی پر روتی تھیں۔

ان کے مطابق وہ اس قدر ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی تھیں کہ اپنے والدین سے بات کرنے سے بھی گریز کرنے لگیں تاکہ غصے میں ان سے برا سلوک نہ ہو۔ مادھوریما کے مطابق فروری 2024 میں دوست کی شادی میں شرکت کے لیے چھٹی نہ ملنا ان کے لیے فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: نوکری سے برطرفی کے خوف نے میٹا کی ملازمہ کو بچوں کی منصوبہ بندی ترک کرنے پر مجبور کردیا

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تین ماہ قبل چھٹی کی درخواست دی تھی تاہم روانگی سے صرف تین روز قبل انہیں بتایا گیا کہ بینک میں آڈٹ جاری ہے اور وہ چھٹی نہیں لے سکتیں۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے مارچ 2024 میں استعفیٰ دے دیا۔ تاہم ملازمت چھوڑنے کے لیے انہیں 2 لاکھ بھارتی روپے بطور بانڈ جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

مادھوریما نے بتایا کہ بینک کی ملازمت چھوڑنے کے بعد انہیں نئی ملازمت کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر انہیں بنگلورو میں قائم ایک اسٹارٹ اپ میں ملازمت مل گئی جہاں ان کی تنخواہ 70 ہزار سے کم ہو کر 35 ہزار بھارتی روپے ماہانہ ہوگئی۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ نئی ملازمت میں انہیں بہتر ماحول، ذہنی سکون اور کام کے حوالے سے زیادہ آزادی حاصل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: تعطیلات خوشی سے غم میں بدل گئیں، ویڈیو کال پر ملازم کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا

دو سال کے دوران ان کی تنخواہ دوبارہ بڑھ کر 60 ہزار بھارتی روپے ماہانہ ہوگئی ہے اور وہ اب سینئر کسٹمر سپورٹ ایگزیکٹو کے طور پر گھر سے کام کر رہی ہیں۔ مادھوریما نے کہا کہ بینک کی ملازمت میں ملنے والی اچھی تنخواہ اور مراعات ان کے ذہنی سکون کے مقابلے میں اہم نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ نئی ملازمت میں وہ اپنی مرضی سے چھٹی لے سکتی ہیں، اپنے آبائی شہر جا سکتی ہیں اور وہاں رہتے ہوئے بھی کام جاری رکھ سکتی ہیں۔ مادھوریما کے مطابق، ’’میں نے تنخواہ میں کمی قبول کی، لیکن اب مجھے ذہنی سکون اور کام کے معاملے میں آزادی حاصل ہے۔‘‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp