انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پلئینگ کنڈیشنز میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں جو یکم اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشین کرکٹ کونسل الیکشن، تاریخ رقم ہو گئی، بھارت کو شکست، پاکستان نے تینوں نشستیں جیت لیں
نئے قوانین کے تحت جان بوجھ کر وقت ضائع کرنے والے بیٹر کی ٹیم کو 5 رنز کا جرمانہ ہوگا جبکہ ویمنز کرکٹ کے لیے گیند کے سائز کی الگ وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔
3 بار تاخیر پر 5 رنز کا جرمانہ
نئے قانون کے مطابق اگر بیٹر اگلی گیند کا سامنا کرنے کے لیے مقررہ وقت پر تیار نہ ہوا تو اسے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Pink-ball use in daytime Tests, new rules to address time-wasting and standardising ball specifications are a part of the updated ICC Playing Conditions.https://t.co/SokREflr7w
— ICC (@ICC) October 1, 2026
پہلی خلاف ورزی پر بولر اینڈ امپائر اسٹرائیکر کو وارننگ دے گا اور نان اسٹرائیکر، آنے والے بیٹرز، فیلڈنگ کپتان اور دوسرے امپائر کو آگاہ کرے گا۔
دوسری خلاف ورزی پر آخری وارننگ دی جائے گی۔ تیسری اور اس کے بعد کی ہر خلاف ورزی پر فیلڈنگ ٹیم کو 5 پنلٹی رنز دیے جائیں گے۔
🚨 JUST IN 🚨
A wicket in the final over of a day's play will no longer automatically mean Stumps.
If the over is incomplete and conditions are fit, the remaining balls get bowled.
The ICC's reasoning: those deliveries had to be bowled the next morning anyway. pic.twitter.com/lDqsSSN0od
— Cricbuzz (@cricbuzz) October 1, 2026
یہ قانون ملٹی ڈے کرکٹ میں 80 اوورز کے بلاک میں لاگو ہوگا۔ ایک 80 اوورز کا بلاک مکمل ہونے کے بعد اسی اننگز کے اگلے بلاک کے لیے وارننگز ری سیٹ ہو جائیں گی۔
مزید پڑھیے: آئی سی سی کے نئے قوانین: خواتین کے مقابلوں میں ٹرانس جینڈرز کی شرکت پر پابندی
مقررہ وقت کا تعلق عام طور پر فیلڈنگ سائیڈ اور بولر کے اگلی گیند کے لیے تیار ہونے کے وقت سے ہے۔ جب بولر اپنے رن اپ کے ٹاپ پر پہنچے تو اسٹرائیکر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ گیند کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو۔
تاہم یہ قانون آؤٹ ہونے کے بعد والے موجودہ قانون کو تبدیل نہیں کرتا۔ نئے آنے والے بیٹر کے پاس اب بھی میدان میں داخل ہونے اور پہلی گیند کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہونے کے لیے 2 منٹ ہوں گے ورنہ اسے ٹائمڈ آؤٹ ہونے کا خطرہ ہوگا۔
ویمنز کرکٹ کے لیے گیند کی الگ وضاحت
ایک اور اہم تبدیلی میں مردوں، خواتین اور جونیئر کرکٹ کے لیے گیند کے سائز اور وزن کی الگ الگ وضاحتیں متعارف کرائی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستانی کرکٹ کو بڑا جھٹکا، آل راؤنڈر محمد نواز پر آئی سی سی نے 3 ماہ کی پابندی لگادی
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ مینوفیکچررز اکثر خواتین اور جونیئر کیٹیگریز کے لیے ایک ہی گیند بناتے رہے ہیں جس کی وجہ سے 3 الگ الگ وضاحتیں قائم کرنے کے لیے الگ حدیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ اس اقدام سے ویمنز کرکٹ کو مشترکہ وضاحت پر انحصار کرنے کے بجائے خاص طور پر بیان کردہ گیند ملے گی۔
🚨 BIG UPDATE: ICC has introduced new playing conditions from October 1, 2026.
– Pink Ball in Tests: In certain bad-light situations, teams can switch from the red ball to a pink ball so play can continue under floodlights.
– Time-Wasting Penalty: Batters can now face penalties… pic.twitter.com/YTLh5CBM1P
— manzur shaban (@Manzurshaban123) October 1, 2026
دیگر اہم تبدیلیاں
آئی سی سی کی تازہ ترین ریلیز میں پہلے سے منظور شدہ تبدیلیوں کو بھی باضابطہ طور پر شامل کیا گیا ہے۔
دن کے وقت کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں میں اب پنک بال کے استعمال کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے جبکہ ملٹی ڈے کرکٹ میں دن کے آخری اوور میں وکٹ گرنے پر اب خود بخود دن کا کھیل ختم نہیں ہوگا۔
(1/13)
🚨 BIG CHANGES TO INTERNATIONAL CRICKET!
The ICC has introduced a fresh set of Playing Conditions across formats.
From pink balls in daytime Tests to 5-run penalties for repeated batter time-wasting, several rules have changed.
Here’s what you need to know 🧵👇… pic.twitter.com/roYqBnQsul
— Third Man View (@3rdManView) October 1, 2026
آئی سی سی نے سیٹلڈ بال کے قانون کی بھی وضاحت کی ہے۔ امپائرز کو یہ فیصلہ کرنے میں زیادہ صوابدید دی گئی ہے کہ گیند کب فائنلی سیٹلڈ ہوئی ہے۔ وضاحت کے مطابق گیند کو فائنلی سیٹلڈ تصور کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ بولر یا وکٹ کیپر کے ہاتھ میں ہی ہو۔
یہ بھی پڑھیے: 2027 کرکٹ ورلڈ کپ کے 12 میزبان وینیوز کا اعلان، جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میزبانی کریں گے
مزید برآں رن آؤٹ اور اسٹمپنگ کے تقاضوں کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ فیلڈر یا وکٹ کیپر کو اسٹمپ گرانے کے وقت گیند پر مکمل کنٹرول حاصل ہونا چاہیے۔ صرف گیند کو چھوتے ہوئے بیلز گرانا رن آؤٹ یا اسٹمپنگ کو مکمل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔













