وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے اب تک کسی صوبائی وزیر سے ون ٹو ون ملاقات نہیں کی؟

جمعہ 2 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے 2 سال سے زائد عرصے پر محیط دور حکومت میں صوبائی کابینہ کے اجلاس، ترقیاتی منصوبے اور ضلعی ارکان پنجاب اسمبلی سے ملاقاتیں جاری رہیں تاہم ایک صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ اب تک کابینہ کے کسی وزیر کو وزیر اعلیٰ کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز سے یورپی پارلیمنٹ رکن میری فاطمہ خان ہولچ کی ملاقات، تجارت و ٹیکنالوجی پر گفتگو

صوبائی کابینہ کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وی نیوز کو بتایا کہ حکومت اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے لیکن وزرا کو اب تک انفرادی ملاقات کا موقع نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزرا اپنے اپنے محکموں کے روزمرہ مسائل براہ راست وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان معاملات پر فوری پیش رفت ہوسکے۔

مریم نواز فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بنیں۔ حکومت سازی کے ابتدائی مرحلے میں مارچ 2024 میں 17 رکنی صوبائی کابینہ نے حلف اٹھایا، جس میں وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان، وزیر زراعت سید محمد عاشق حسین کرمانی، وزیر آبپاشی کاظم پیرزادہ، وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، وزیر پرائمری ہیلتھ خواجہ عمران نذیر، وزیر اسپیشلائزڈ ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق، وزیر بلدیات ذیشان رفیق، وزیر خوراک بلال یاسین، وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری، وزیر صنعت چوہدری شافع حسین، وزیر مواصلات و تعمیرات ملک صہیب بھرت، وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر اور دیگر وزرا شامل تھے۔ مریم اورنگزیب کو سینیئر وزیر مقرر کیا گیا۔

بعد ازاں اکتوبر 2025 میں سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان اور سابق وزیر منشا اللہ بٹ کو بھی صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا۔

مزید پڑھیے: مریم نواز کا 10 روزہ بسنت کا تحفہ، لاہوری کیا کہتے ہیں؟

اس دوران صوبائی کابینہ کے متعدد اجلاس ہوئے، صوبے کے لیے بڑے فیصلے کیے گئے اور 100 سے زائد نئے منصوبے شروع کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز ہر ضلع کے ارکانِ پنجاب اسمبلی سے ملاقاتیں بھی کر رہی ہیں اور ان کے مسائل و شکایات سن رہی ہیں۔ مختلف محکموں کے پروگراموں اور سیمینارز میں بھی شرکت کرتی ہیں جہاں متعلقہ وزرا بھی موجود ہوتے ہیں۔

تاہم صوبائی وزیر کے مطابق یہ ملاقاتیں اجتماعی نوعیت کی ہوتی ہیں اور انفرادی سطح پر وزرا کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات کا سلسلہ شروع نہیں ہوسکا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں ہر وزیر محدود وقت کے اندر اپنے محکمے سے متعلق ایجنڈا پیش کرتا ہے۔ بہت سے معاملات، عملے کے مسائل، فنڈز کی رکاوٹیں اور سیاسی دباؤ ایسے ہوتے ہیں جنہیں کھلے اجلاس میں تفصیل سے بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انہی معاملات پر بات کرنے کے لیے وزرا کی جانب سے ون ٹو ون ملاقات کی درخواست بھی کی جاچکی ہے تاہم ابھی تک اس کے لیے وقت نہیں مل سکا۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کا شیڈول ترقیاتی منصوبوں، دوروں اور عوامی پروگراموں سے بھرا رہتا ہے، جس کے باعث وزرا کو اکثر اجتماعی ملاقاتوں یا اجلاسوں میں ہی ضروری ہدایات دے دی جاتی ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ جاتی کارکردگی اس وقت مزید بہتر ہوسکتی ہے جب وزیر اپنے محکمے کے مسائل براہِ راست سربراہِ حکومت کے سامنے رکھ سکے۔

ذرائع کا موقف ہے کہ مریم نواز پنجاب میں ترقیاتی کاموں اور منصوبوں پر توجہ دے رہی ہیں اور ارکانِ اسمبلی سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔ اگر کابینہ کے وزرا سے باقاعدہ انفرادی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوجائے تو ایسے مسائل بھی سامنے آسکتے ہیں جو صرف فائلوں یا کابینہ کے نوٹس میں نہیں آتے۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف مری پہنچ گئیں، اہم اجلاس اور ملاقاتیں متوقع

اس سے قبل سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی اپنی کابینہ کے وزرا سے ون ٹو ون ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دور میں بھی وزرا سے ہر دو یا تین ماہ بعد ملاقاتیں کی جاتی تھیں، جن میں ان کے محکموں سے متعلق مسائل سنے جاتے تھے۔ ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں کے نتیجے میں متعدد مسائل حل ہوتے تھے، جس سے محکموں کی کارکردگی بہتر ہوتی اور بیوروکریسی بھی وزرا کی بات کو زیادہ اہمیت دیتی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp