اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش موجودہ چیلنجز پر قابو پانا تمام سیاسی قوتوں اور اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، سیاسی اختلافات کو ملکی مفاد پر قربان کرنا ہوگا، جبکہ ریاست کی سلامتی اور استحکام ہر چیز سے مقدم ہے۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اسلام آباد میں کسی کو انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ان کے بقول مختلف اوقات میں اسلام آباد پر چڑھائی کرکے افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، اب ایک مرتبہ پھر پشاور سے جتھے آنے اور دباؤ ڈالنے کی بات کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مؤخر: کیا یہ واقعی حکومت کی سیاسی جیت ہے؟
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر اسلام آباد کا محاصرہ کرکے سپریم کورٹ پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے ماضی کے احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2014 سے اب تک 12 سال کے عرصے میں 5 مرتبہ جتھے اسلام آباد آئے۔
ان کے مطابق وزیراعظم ہاؤس، پی ٹی وی، سپریم کورٹ اور کانسٹیٹیوشن ایونیو پر ہونے والے واقعات سب کے سامنے ہیں۔
لاہور : سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی نیوز کانفرنس https://t.co/2VLQKPvdJc
— PMLN (@pmln_org) October 2, 2026
ملک احمد خان نے کہا کہ پشاور سے مسلح جتھے روانہ ہوئے جن میں ان کے بقول غنڈے بھی شامل تھے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بدقسمتی سے کئی دہائیوں سے انارکی کا شکار رہا ہے اور اس وقت دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی جتھے اس موقع پر بھی متحرک ہوتے دیکھے گئے تھے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی لانگ مارچ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا عندیہ دے دیا
ان کا کہنا تھا کہ بار بار جتھہ بندی کے نتیجے میں 9 مئی جیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں، جبکہ اس طرز سیاست کا سب سے بڑا نقصان ملکی معیشت اور معاشی استحکام کو پہنچتا ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ جلاؤ گھیراؤ کی سیاست جرم ہے اور ریاستی اداروں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ معلوم کریں کہ ایسے عناصر کے پیچھے کون ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم ملک کی سلامتی، استحکام اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
مزید پڑھیں: لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، رانا ثنااللہ
ملک احمد خان نے کہا کہ ماضی میں سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے اور ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
ان کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف بانی پی ٹی آئی کے گھر بھی گئے، اس کے باوجود بعد میں احتجاجی جتھے اسلام آباد لائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی اگر کوئی گروہ اسلام آباد آکر دباؤ ڈالنے یا افراتفری پھیلانے کی کوشش کرے گا تو ریاست کو قانون کے مطابق صورتحال سے نمٹنا ہوگا۔













