پاکستان کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان جمعہ کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں موبائل فون کے فرانزک معائنے اور تجزیے کے لیے پیش ہوگئے، جو گزشتہ ماہ سے ادارے کی تحویل میں ہے۔
این سی سی آئی اے نے نوٹس کے ذریعے محمد رضوان سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے ان کے قبضے سے لیے گئے موبائل فون کا فرانزک معائنہ اور تجزیہ کرنے کا کہا تھا۔ انہیں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان کا نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی کو تیسرا خط ، کیا لکھا؟
این سی سی آئی اے کی 4 رکنی ٹیم محمد رضوان سے پوچھ گچھ کرے گی، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر اور 3 انسپکٹرز شامل ہیں۔
ادارے میں پیشی کے موقع پر نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران محمد رضوان سے پوچھا گیا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں اور انکوائری کس معاملے پر ہے تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
الزامات سے متعلق سوال پر محمد رضوان نے کہا، ‘ان سے پوچھیں۔’
اس سے قبل محمد رضوان نے ایک خط کے ذریعے انکوائری کی تحریری تفصیلات اور اپنا موبائل فون واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
جیو نیوز کےرپورٹر وقاص اعوان کے کرکٹر محمد رضوان سے سوالات
رضوان کیا کہیں گے ؟ کس چیز کی انکوئری چل رہی ہے ؟ جیو کا سوالکرکٹر محمد رضوان نے کوئی جواب نہیں دیا
اپ کیا الزامات ہیں ؟ جیوز نیوز کا سوال
یہ اپ ان سے پوچھیں محمد رضوان کا جواب
الزام ہے کہ اپ تعاون نہیں کر رہے ؟… pic.twitter.com/0LhuavHInf
— Waqas Awan (@WaqasAwan666) October 2, 2026
محمد رضوان نے پہلے بتایا تھا کہ 31 اگست کو انگلینڈ میں ان کا موبائل فون لے لیا گیا تھا اور انہوں نے اسی وقت اس کا پاس ورڈ بھی فراہم کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موبائل فون کا معائنہ ان کی موجودگی میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: این سی سی آئی اے کا محمد رضوان کو دوسرا نوٹس، 2 اکتوبر کو طلب
انہوں نے مزید بتایا تھا کہ 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے میں پیشی کے موقع پر حکام کو ان کا کھلا ہوا موبائل فون دستیاب تھا، جس کے ذریعے پیغامات اور دیگر مواد کا جائزہ لیا جاسکتا تھا۔
این سی سی آئی اے نے اس سے قبل بھی محمد رضوان سے تعاون کے لیے متعدد مرتبہ رابطہ کیا تھا، تاہم کرکٹر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کارروائی کے بارے میں وضاحت چاہتے تھے اور اپنے وکیل سے مشاورت کررہے تھے۔
محمد رضوان کے خلاف این سی سی آئی اے کی تحقیقات کو تقریباً ایک ماہ ہوچکا ہے۔ ادارے نے انگلینڈ کے دورے کے دوران پاکستان کے ٹیسٹ دورے کے موقع پر ان کا موبائل فون تحویل میں لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست مسترد، میڈیا سے گفتگو کی اجازت بھی نہ مل سکی
رپورٹس کے مطابق انکوائری کا تعلق آن لائن بیٹنگ، جوئے اور ڈریسنگ روم سے ٹیم کی معلومات لیک ہونے کے الزامات سے ہے۔ پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی تھی۔














