وفاقی وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات اور بات چیت کے تمام راستے آخری حد تک اختیار کیے، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنے کے باعث معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔ معاہدہ تقریباً ہوگیا تھا لیکن مذاکراتی ٹیم کو خیبرپختونخوا سے ڈکٹیٹ کیا گیا۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہاکہ پارلیمنٹ مسائل کے حل کا بہترین اور آئینی پلیٹ فارم ہے اور وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے آخری وقت تک اسی فورم پر معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ کے مترادف ثابت ہوا، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل میں کئی معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا اور حکومت نے مختلف امور پر بڑی حد تک لچک کا مظاہرہ کیا، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے معاملے پر تعاون نہیں کیا گیا۔
معاہدہ ہو گیا تھا، لیکن مذاکراتی ٹیم کو کے پی سے ڈِکْٹیٹ کیا گیا، جس کی وجہ سے مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔ ہم نے آخری حد تک بات چیت کا راستہ اپنایا۔ پی ٹی آئی کا وفد یہاں سے مایوس ہو کر گیا ہے۔ کے پی حکومت دہشت گردی کے معاملے پر تعاون کے لیے تیار نہیں ہے۔ آگے جو بھی کریں گے،… pic.twitter.com/Ms0uFnM2wN
— WE News (@WENewsPk) October 3, 2026
انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان 2، جو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دورِ حکومت میں تشکیل دیا گیا تھا، اس پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا، مگر خیبر پختونخوا حکومت نہ تو اس پر عمل کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے یقین دہانی کرائی گئی۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ تمام اداروں اور حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، پاکستان کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، اس لیے ایک حد سے زیادہ انتظار ممکن نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں طلال چوہدری نے کہا کہ آئین میں مختلف آپشنز موجود ہیں، تاہم پہلی اور مثالی صورت یہی ہے کہ صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرے اور دہشتگردی کے خلاف وفاق کے ساتھ تعاون کرے، کیونکہ وہ اس کی پابند ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر ضرورت پیش آئی تو جو بھی اقدام کیا جائے گا، وہ آئین کے مطابق ہوگا۔ آرٹیکل 234 سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے آئین اور اس کی روح کے مطابق کیے جائیں گے۔
طلال چوہدری نے مزید کہاکہ حکومت نے بات چیت کے تمام راستے اختیار کیے، تاہم دہشتگردی کے معاملے پر واضح اور عملی تعاون ضروری ہے۔
دوسری جانب سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ آج کے مذاکرات ختم ہوگئے ہیں، خیبرپختونخوا میں آپریشن کے معاملے پر ڈیڈلاک برقرار ہے۔
مذاکرات آج ختم ہو گئے ہیں۔ ہماری کوشش تھی کہ پاکستان کی بہتری کے لیے مذاکرات کو کسی نتیجے پر پہنچا دیں۔ کچھ معاملات پر ڈیڈلاک ہے، اللہ ہماری مدد کرے گا۔ علامہ راجہ ناصر عباس pic.twitter.com/fa08deemqD
— WE News (@WENewsPk) October 3, 2026
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بہت سی چیزوں پر بات چیت ہوئی، تاہم کچھ معاملات پر حکومت کے ساتھ ڈیڈلاک برقرار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج، دہشت گردی، لانگ مارچ اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔
بہت سی چیزوں پر بات چیت ہوئی، مگر کچھ معاملات پر حکومت کے ساتھ ڈیڈلاک برقرار ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج، دہشت گردی، لانگ مارچ اور عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ گوہر علی خان pic.twitter.com/HHz7Zn5bBO
— WE News (@WENewsPk) October 3, 2026
واضح رہے کہ آج حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان پارلیمنٹ میں مذاکرات ہوئے اور ایک موقع پر یہ خبر سامنے آئی کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائےگا تاہم ڈیڈلاک ختم نہ ہو سکا۔
لانگ مارچ کا شیڈول جاری
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے آج کے لانگ مارچ کا شیڈول بھی جاری کردیا ہے۔
شیڈول کے مطابق لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوگا۔ لکی مروت، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے، جبکہ رات کو کرک کے قریب پڑاؤ کیا جائےگا۔
5 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کرک کے عوام قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ رات کو کوہاٹ کے قریب قیام کیا جائے گا۔ 6 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانگی ہوگی اور رات متنی کے قریب قیام ہوگا۔
7 اکتوبر کو دوپہر 12:30 بجے پشاور کے بڈھ بیر سے قافلہ روانہ ہوگا۔ ضلع خیبر سے آنے والے افراد بڈھ بیر میں ساتھ شامل ہوں گے، جبکہ پشاور کے دیگر علاقوں سے شرکا کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازہ پر قافلے کا حصہ بنیں گے۔ رات چارسدہ انٹرچینج کے قریب قیام ہوگا۔ پھر 8 اکتوبر کو دوپہر 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی، جہاں چارسدہ اور مہمند کے افراد قافلے میں شامل ہوں گے۔
مزید پڑھیں:پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں جاری، بات چیت ناکام ہوئی تو کھلی جنگ ہوگی، خواجہ آصف
شیڈول کے مطابق پورے خیبرپختونخوا سے آنے والے افراد 8 اکتوبر کو خیرآباد کے مقام پر جمع ہوں گے اور رات وہیں قیام کریں گے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق اس کے بعد کا لائحہ عمل خیرآباد میں دیا جائے گا۔












