صوبائی وزیر تعمیرات و مواصلات پنجاب ملک صہیب احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ ترقی اور عوامی سہولت کا فیصلہ دعووں سے نہیں بلکہ اعداد و شمار اور زمینی کام سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وسیع روڈ نیٹ ورک کی تمام تفصیلات سرکاری ریکارڈ پر موجود ہیں، این ایچ اے کے وفاقی قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کا محکمہ مواصلات و تعمیرات کے صوبائی روڈ نیٹ ورک سے موازنہ درست نہیں۔
مزید پڑھیں: بین الصوبائی چیک پوسٹوں اور ڈرون سرویلنس پر کام ہورہا ہے، وزیر قانون پنجاب ملک صہیب احمد بھرتھ
صوبائی وزیر تعمیرات و مواصلات نے مزمل اسلم کے ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہمزمل اسلم اپنی معلومات درست کریں، پنجاب کے روڈ نیٹ ورک کی تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں۔
ملک صہیب بھرتھ نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں 2024 سے پنجاب میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا جامع پروگرام جاری ہے۔ ڈھائی سال کے دوران مختلف متعلقہ محکموں کے ذریعے 50 ہزار کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی گئی۔
صوبائی وزیر کے مطابق صرف 75 دن میں 1129 سڑکوں کے 1795 کلومیٹر حصے مکمل کیے گئے، جبکہ لوکل روڈز پروگرام کے لیے 79 ارب روپے مختص کیے گئے اور 1530 سڑکوں پر کام کیا گیا۔ پروگرام کے تحت 3400 کلومیٹر سڑکوں پر کام کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 462 شاہراہیں بحال کی گئیں جبکہ جنوبی پنجاب میں 690 شاہراہوں کی بحالی کا کام مکمل کیا گیا۔ سیلاب سے متاثرہ 124 سڑکیں بھی مکمل بحال کی گئیں۔
ملک صہیب بھرتھ نے کہا کہ ملتان، وہاڑی 93.5 کلومیٹر دو رویہ سڑک جبکہ فیصل آباد، چنیوٹ 24 کلومیٹر دو رویہ سڑک مکمل کی گئی۔ راولپنڈی سگنل فری کوریڈور بھی صرف 179 دن میں مکمل کیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ مواصلات کے زیر انتظام روڈ نیٹ ورک قریباً 80 ہزار کلومیٹر ہے اور محکمہ ہزاروں پلوں اور کلورٹس کی بھی نگرانی کر رہا ہے۔ پنجاب کے روڈ نیٹ ورک کی میپنگ، جیو ٹیگنگ اور جدید ٹیکنالوجی سے مانیٹرنگ جاری ہے جبکہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں جدید آپریشنز اینڈ مانیٹرنگ روم بھی قائم کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا صوبے بھر میں تعمیراتی منصوبوں پر حفاظتی انتظامات مؤثر بنانے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ ای ٹینڈرنگ کے ذریعے شفافیت اور مسابقت یقینی بنائی گئی، جس سے تقریباً 100 ارب روپے کی بچت ہوئی۔
ملک صہیب بھرتھ نے کہا کہ پنجاب میں روڈ انفراسٹرکچر کی ترقی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے مزمل اسلم کو پنجاب آنے، ریکارڈ دیکھنے اور زمینی کام کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تمام اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھنے اور تصدیق کے لیے ٹی وی پروگرام بھی کیا جا سکتا ہے۔













