پاکستان نے بین الاقوامی سرحد پر قصور کے قریب بدیان سیکٹر میں بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی فائرنگ سے 2 پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق جمعہ کو سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف اہلکاروں کی فائرنگ سے 2 غیر مسلح پاکستانی شہری شہید جبکہ ایک زخمی ہوگیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: قصور: بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی فائرنگ سے 2 نہتے پاکستانی شہید، ایک زخمی
دفتر خارجہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس ایف اہلکاروں نے غیر مسلح شہریوں کے خلاف بلااشتعال اور مہلک طاقت کا استعمال کیا، جو مکمل طور پر بلاجواز اور غیر متناسب تھا، جس کے نتیجے میں 2 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
پاکستان نے جاں بحق شہریوں کو ’درانداز‘ قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بنیادی انسانی حقوق، بالخصوص زندگی کے حق، کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
🔊PR No.2️⃣7️⃣2️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Indian Chargé d’Affaires Summoned Over Killing of Two Pakistani Civilians
🔗⬇️ pic.twitter.com/7o9A1UvrLF
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 3, 2026
دفتر خارجہ نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مناسب تادیبی اور قانونی کارروائی کی جائے اور تحقیقات کے نتائج اور کی گئی کارروائی سے حکومت پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔
پاکستان نے بھارت سے بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے، متعلقہ دوطرفہ معاہدوں اور سرحدی طریقہ کار کی سختی سے پابندی کرنے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔
مزید پڑھیں: ’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘
دفتر خارجہ کے مطابق تینوں پاکستانی شہری ضلع قصور کے گاؤں لادھر کے رہائشی تھے اور سرحدی ستون سے چند قدم آگے گئے تھے کہ بی ایس ایف اہلکاروں نے انہیں بغیر کسی وارننگ کے فائرنگ کا نشانہ بنایا، تینوں شہری غیر مسلح تھے۔
فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت لادھر کے رہائشی عظمت رسول اور محسن جٹ کے نام سے ہوئی، جبکہ زخمی شہری کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تینوں افراد نے سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی، واقعے کو بین الاقوامی سرحد سے متعلق معاہدے اور مروجہ طریقہ کار کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔













