پاکستان نے سال 2026 کے عالمی ماحولیاتی کارکردگی انڈیکس میں 22 درجے کی بہتری کے ساتھ 157 واں نمبر حاصل کر لیا ہے، تاہم ایئر کوالٹی کا اسکور محض 7.54 رہنے کے باعث ملک میں فضائی آلودگی کی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک ہے۔
یلے یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ ’انوائرنمنٹل پرفارمنس انڈیکس‘ (ای پی آئی) برائے سال 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 177 ممالک کی فہرست میں مجموعی طور پر 29.03 اسکور حاصل کیا ہے۔
اس فہرست میں ماحولیاتی صحت میں پاکستان کا اسکور 14.57 اور ایئر کوالٹی کا اسکور صرف 7.54 رہا، جو عالمی سطح پر کمزور ترین پرفارمنس میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دنیا کے آلودہ ترین شہر’دہلی‘ میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کا کیا نیا منصوبہ بنایا جارہا ہے؟
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سال 2024 میں پاکستان کا درجہ 179 واں تھا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 کے انڈیکس میں 12 اہم ماحولیاتی کیٹیگریز کے تحت 47 انڈیکیٹرز اور طریقہ کار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، اس لیے دونوں رینکنگز کا براہ راست موازنہ محتاط انداز میں کیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق رینکنگ میں اس بہتری کو ہوا کی آلودگی میں کمی کا حتمی ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔
لاہور اور راولپنڈی میں ہوا کا بگڑتا معیار
دستیاب اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ستمبر 2026 کے پہلے 23 دنوں کے دوران لاہور کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس تقریباً 96 ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 80 تھا۔
اسی طرح 23 ستمبر کو لاہور کا اے کیو آئی 153 ریکارڈ ہوا جبکہ گزشتہ سال اسی تاریخ کو یہ 97 تھا۔
راولپنڈی میں بھی صورتحال ابتر رہی جہاں ستمبر 2026 کے ابتدائی 23 دنوں میں اوسط اے کیو آئی 116 رہا جو گزشتہ برس صرف 75 تھا۔
لاہور میں خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں آلودگی کی سطح میں اضافہ دیکھا گیا جس سے فضائی معیار مزید متاثر ہوا۔
مزید پڑھیں:لاہور فضائی آلودگی میں ایک بار پھر سب سے آگے، انتظامیہ نے چنگ چی رکشے بند کردیے
معروف ماہرِ ماحولیات اور قانون دان رفے عالم نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سموگ کو صرف سردیوں کا مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار اور صنعتی اخراج سال بھر آلودگی کے اہم ذرائع رہتے ہیں۔
سردیوں میں درجہ حرارت اور ہوا کے دباؤ میں تبدیلی کی وجہ سے آلودہ ذرات زمین کے قریب جمع ہو جاتے ہیں۔
رفے عالم نے زور دیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے دیرپا اور طویل المدتی پالیسیوں، بہترین پبلک ترانسپورٹ، الیکٹرک گاڑیوں، متبادل توانائی کے استعمال، صنعتی اخراج کے سخت کنٹرول اور ایندھن کے معیار کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
پنجاب ای پی اے کی کارروائیاں
پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق سال 26-2025 کے دوران ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 305.1 ملین روپے کے جرمانے عائد کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 66 فیصد زیادہ ہیں۔
اس عرصے میں 5,461 مقامات کو سیل کیا گیا، 1,467 آلودگی پھیلانے والے یونٹس مسمار کیے گئے اور اینٹوں کے بھٹوں و صنعتی یونٹس کے 101,159 معائنے کیے گئے۔
ایک ہفتے کے مختصر عرصے میں پنجاب کے 40 اضلاع میں آلودگی کے خلاف 577 آپریشنز کیے گئے۔
مجموعی طور پر 7,203 فیلڈ وزٹس کے دوران 607 خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جن پر 22.8 ملین روپے سے زیادہ کے جرمانے عائد کیے گئے، 483 املاک و صنعتی یونٹس سیل کیے گئے اور 30 مقدمات درج کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:دنیا بھر میں فضائی آلودگی سے روزانہ کتنے بچوں کی اموات ہوتی ہیں؟
اس کے علاوہ حکام نے 12,906 کلوگرام ممنوعہ پلاسٹک کے تھیلے بھی ضبط کیے۔ صرف لاہور میں 181 کارروائیوں کے دوران 180 املاک کو سیل کیا گیا۔
صنعتکاروں کا مؤقف اور نظام میں نقائص
دوسری جانب محمود بوٹی۔بند روڈ پر واقع ایک صنعتی یونٹ کے مالکان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ای پی اے نے 2023 میں صنعتی یونٹس کے لیے ’ایمیشن کنٹرول سسٹم‘ (اخراج پر قابو پانے والا نظام) لگانا لازمی قرار دیا تھا۔
ان کے مطابق جن اسٹیل ملز اور صنعتوں نے یہ سسٹم لگایا تھا انہیں 2023 کے اسموگ سیزن میں بند نہیں کیا گیا تھا، جبکہ 2024 اور 2025 میں اسموگ کے دوران صنعتوں کی بندش کا سلسلہ شروع ہوا۔
صنعتکار کا کہنا تھا کہ ’بار بار جرمانوں اور عارضی بندشوں کی وجہ سے بعض صنعتکاروں نے کروڑوں روپے کے ایمیشن کنٹرول سسٹم لگانے کے بجائے جرمانے ادا کرنے کو ترجیح دی‘۔
مزید پڑھیں:سائنسدانوں نے فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے کاربن کیپچر ٹیکنالوجی متعارف کرا دی
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صرف جرمانوں اور بندشوں پر توجہ دینے کے بجائے ایمیشن کنٹرول سسٹمز کی تنصیب اور ان کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔
ان کے مطابق ایک معیاری ایمیشن کنٹرول سسٹم کی لاگت چند کروڑ روپے تک ہو سکتی ہے، تاہم نسبتاً کم لاگت میں بھی مؤثر سسٹمز دستیاب ہیں۔
دستیاب ڈیٹا سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پنجاب میں آلودگی کے خلاف کی جانے والی حالیہ کارروائیاں ہی عالمی ماحولیاتی رینکنگ میں پاکستان کی بہتری کا سبب بنی ہیں۔
ماہرین کا حتمی طور پر ماننا ہے کہ ان اقدامات کے حقیقی اثرات کا اندازہ صرف مسلسل اور طویل المدتی نگرانی کے ذریعے ہی لگایا جا سکتا ہے۔














