امریکی ریاست ٹینیسی کے محکمہ اصلاح کے کمشنر فرینک اسٹریڈا نے سزا یافتہ قاتل کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عمل درآمد ناکام ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ فرینک اسٹریڈا رواں ماہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں سزائے موت پانیوالی خاتون مہلک انجیکشن کے بعد بھی زندہ، اسپتال منتقل
کرسٹا پائیک کے وکلا کے مطابق بدھ کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد 50 سالہ پائیک کی حالت تشویش ناک ہے۔ وہ بے ہوشی کی حالت میں وینٹی لیٹر پر ہیں۔
پائیک کو 1995 میں کولین سیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، سزائے موت پر عمل درآمد کے دوران انہیں عام طور پر جان لیوا سمجھی جانے والی دوا پینٹوباربیٹل کے دو انجیکشن دیے گئے، تاہم وہ دونوں انجیکشن کے باوجود زندہ رہیں۔
Republican Tennessee Gov. Bill Lee faced questions Thursday about his decision to hire Corrections Commissioner Frank Strada following the failed execution of Christa Pike. Strada also held a leadership role in Arizona’s corrections system when the state carried out three… pic.twitter.com/TgtHBtyq9n
— CBS News (@CBSNews) October 1, 2026
ٹینیسی میں رواں سال یہ سزائے موت پر عمل درآمد کی دوسری ناکام کوشش ہے، مئی میں ایک قیدی کو سزائے موت دینے کی کارروائی اس وقت روک دی گئی تھی جب طبی عملہ اس کے بازو میں رگ تلاش کرکے انجیکشن لگانے میں ناکام رہا تھا۔
گورنر بل لی نے اپنے بیان میں فرینک اسٹریڈا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس مشکل صورتحال میں ٹینیسی کے شہریوں کے مفادات کو ترجیح دینے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔
مزید پڑھیں: امریکا: مجرم کو پہلی بار نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت دیدی گئی
دوسری جانب فرینک اسٹریڈا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ محکمہ اصلاح نے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔
اس سے قبل کرسٹا پائیک کی رحم کی اپیل مسترد کرنیوالے گورنر بل لی نے سزائے موت پر عمل درآمد کے مزید تمام معاملات سال کے اختتام تک روک دیے ہیں، اس دوران ناکام کارروائی کا جائزہ لیا جائے گا۔
Tennessee’s prison chief resigns after failed Christa Pike execution, Bill Lee says https://t.co/NNUl9HWvBt
— Washington Examiner (@dcexaminer) October 3, 2026
اگر مہلک انجیکشن سے پائیک کی موت واقع ہو جاتی تو وہ دو صدیوں سے زائد عرصے میں ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوتیں۔
امریکا میں 1976 کے بعد سے اب تک صرف 18 خواتین کو سزائے موت دی گئی ہے، جبکہ سزائے موت سے متعلق ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق یہ تعداد ملک میں دی جانے والی مجموعی سزائے موت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔













