امریکا میں ناکام سزائے موت پر جیل کمشنر مستعفی

اتوار 4 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست ٹینیسی کے محکمہ اصلاح کے کمشنر فرینک اسٹریڈا نے سزا یافتہ قاتل کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عمل درآمد ناکام ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ فرینک اسٹریڈا رواں ماہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں سزائے موت پانیوالی خاتون مہلک انجیکشن کے بعد بھی زندہ، اسپتال منتقل

کرسٹا پائیک کے وکلا کے مطابق بدھ کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد 50 سالہ پائیک کی حالت تشویش ناک ہے۔ وہ بے ہوشی کی حالت میں وینٹی لیٹر پر ہیں۔

پائیک کو 1995 میں کولین سیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، سزائے موت پر عمل درآمد کے دوران انہیں عام طور پر جان لیوا سمجھی جانے والی دوا پینٹوباربیٹل کے دو انجیکشن دیے گئے، تاہم وہ دونوں انجیکشن کے باوجود زندہ رہیں۔

ٹینیسی میں رواں سال یہ سزائے موت پر عمل درآمد کی دوسری ناکام کوشش ہے، مئی میں ایک قیدی کو سزائے موت دینے کی کارروائی اس وقت روک دی گئی تھی جب طبی عملہ اس کے بازو میں رگ تلاش کرکے انجیکشن لگانے میں ناکام رہا تھا۔

گورنر بل لی نے اپنے بیان میں فرینک اسٹریڈا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس مشکل صورتحال میں ٹینیسی کے شہریوں کے مفادات کو ترجیح دینے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔

مزید پڑھیں: امریکا: مجرم کو پہلی بار نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت دیدی گئی

دوسری جانب فرینک اسٹریڈا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ محکمہ اصلاح نے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔

اس سے قبل کرسٹا پائیک کی رحم کی اپیل مسترد کرنیوالے گورنر بل لی نے سزائے موت پر عمل درآمد کے مزید تمام معاملات سال کے اختتام تک روک دیے ہیں، اس دوران ناکام کارروائی کا جائزہ لیا جائے گا۔

اگر مہلک انجیکشن سے پائیک کی موت واقع ہو جاتی تو وہ دو صدیوں سے زائد عرصے میں ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوتیں۔

امریکا میں 1976 کے بعد سے اب تک صرف 18 خواتین کو سزائے موت دی گئی ہے، جبکہ سزائے موت سے متعلق ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق یہ تعداد ملک میں دی جانے والی مجموعی سزائے موت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp