بوسنیا اور ہرزیگووینا میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہوگیا، جہاں 34 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ملک کی مرکزی قیادت، پارلیمان اور مختلف انتظامی سطحوں کے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
مرکزی انتخابی کمیشن کے مطابق پولنگ اسٹیشن مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے کھولے گئے اور شام 7 بجے تک ووٹنگ جاری رہے گی۔
انتخابات میں مجموعی طور پر 3,414,364 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بوسنیا جنگ: فیس دیکر شہریوں پر ‘تفریحی’ فائرنگ اور قتل کے الزامات کے بعد تحقیقات کا آغاز
ووٹروں کی جانب سے بوسنیا اور ہرزیگووینا کی 3 رکنی صدارتی کونسل کے بوسنیائی، کروشین اور سرب ارکان کے علاوہ ریاستی سطح کی پارلیمانی اسمبلی کے ارکان کا انتخاب کیا جائے گا۔
فیڈریشن آف بوسنیا اور ہرزیگووینا کی ایوان نمائندگان اور ریپبلیکا سرپسکا کی قومی اسمبلی سمیت مختلف اداروں کے لیے بھی نمائندے منتخب کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ ریپبلیکا سرپسکا کے صدر اور نائب صدور جبکہ فیڈریشن کے 10 کینٹونل اسمبلیوں کے ارکان بھی منتخب ہوں گے۔
🇧🇦🇷🇺🇪🇺 Calling Bosnia and Herzegovina “dead” turns an election rally into a warning about the country’s political future.
Milorad Dodik says Bosnia and Herzegovina is “dead” ahead of its October 4 election.
The real divide is over whether its future leans toward the EU, Russia,…
— Ahmad Shah Mohibi (@WarGuy_) October 3, 2026
انتخابات میں مجموعی طور پر 518 عہدیداروں کا انتخاب کیا جائے گا۔
بوسنیا اور ہرزیگووینا کا سیاسی نظام انتہائی پیچیدہ ہے، جس کی بنیاد 1995 کے ڈیٹن امن معاہدے پر رکھی گئی تھی۔
اس معاہدے نے 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی جنگ کا خاتمہ کیا۔ ملک 2 بڑی انتظامی اکائیوں، فیڈریشن آف بوسنیا اور ہرزیگووینا اور ریپبلیکا سرپسکا، پر مشتمل ہے جبکہ برچکو ڈسٹرکٹ کو خود مختار حیثیت حاصل ہے۔
ملک کی 3 رکنی صدارتی کونسل کی نشستوں کے لیے 10 امیدوار میدان میں ہیں۔ فیڈریشن میں ووٹر بوسنیائی یا کروشین رکن کیلئے ووٹ دیتے ہیں جبکہ ریپبلیکا سرپسکا کے ووٹر سرب رکن کا انتخاب کرتے ہیں۔
بوسنیائی نشست کے لیے موجودہ رکن ڈینس بیچیرووچ، باقر عزت بیگووچ، سمیر ایفینڈیچ اور فخرالدین رادونچیچ امیدوار ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی بوسنیا کے صدارتی کونسل کے چیئرمین سے ملاقات، عالمی امور پر تبادلہ خیال
کروشین نشست کے لیے داریانا فلیپوویچ، زڈینکو لوچیچ اور سلاوین کوواچیوچ جبکہ سرب نشست کے لیے موجودہ رکن ژیلکا سویتسانووچ، مارینکو بوزووچ اور نیبوشا ووکانوویچ امیدوار ہیں۔
ریپبلیکا سرپسکا کی صدارت کے لیے بھی 12 امیدوار مدمقابل ہیں، انتخابی کمیشن نے 75 سیاسی جماعتوں، 29 اتحادوں اور 4 آزاد امیدواروں کی منظوری دی ہے جبکہ تمام سطحوں پر 7 ہزار سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔
نئی انتخابی ٹیکنالوجی کا استعمال
ان انتخابات میں پہلی بار ملک گیر سطح پر نئی انتخابی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، تقریباً 4,500 پولنگ اسٹیشنز پر بائیومیٹرک تصدیق، بیلٹ اسکینرز اور ویڈیو نگرانی کے نظام نصب کیے گئے ہیں۔
کاغذی بیلٹ پیپر کے استعمال کے بعد انہیں اسکین کیا جائے گا اور نتائج کا ڈیٹا براہ راست انتخابی کمیشن کو منتقل ہوگا، جس کے باعث ابتدائی نتائج رات تقریباً 8 بجے جاری کیے جانے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: صدر پاکستان آصف علی زرداری کی بوسنیا و ہرزیگووینا کو یومِ آزادی پر مبارکباد
تاہم بیلٹ پیپرز کی دستی گنتی بھی کی جائے گی اور اسکین شدہ و دستی نتائج میں نمایاں فرق کی صورت میں اضافی جانچ ہوگی۔
بیرون ملک مقیم بوسنیائی شہری بھی ووٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 48,078 افراد نے بذریعہ ڈاک ووٹ دینے کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے، جبکہ 13 ممالک میں قائم 20 سفارتی و قونصلر مشنز میں بھی پولنگ ہورہی ہے۔
2022 کے انتخابات میں 3.37 ملین ووٹرز رجسٹرڈ تھے، اس وقت ڈینس بیچیرووچ بوسنیائی، ژیلکو کومشیچ کروشین اور ژیلکا سویتسانووچ سرب رکن صدارتی کونسل منتخب ہوئے تھے۔















