پڑھے گا پاکستان، تو بڑھے گا پاکستان

ہفتہ 3 اکتوبر 2026
author image

نعمت خان

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جولائی میں اپنے بیٹے کے ایڈمشن کے سلسلے میں اسلام آباد ایک تعلیمی ادارے میں موجود تھا، ویٹنگ ایریا میں اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک آدمی اپنے 2 بچوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے، لہجے سے اندازہ ہوا کہ سندھی ہیں، تو پوچھ لیا۔

معلوم ہوا کہ تعلق لاڑکانہ سے ہے اور پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور اسی سلسلے میں اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں، میں نے بتایا کہ میں بھی حال ہی میں سندھ سے آیا ہوں اور میرا بیٹا کراچی کے سیڈر کالج میں پڑھتا تھا، ان کو بھی ایک بچے کا ایڈمشن کروانا تھا، بڑا بیٹا ساتھ تھا۔

میں نے پوچھا، ’یہ بھی یہاں پڑھ رہا ہے‘، کہنے لگے ’نہیں، یہ مری میں پڑھتا ہے، جبکہ ایک بیٹا اور بیٹی لاہور میں پڑھ رہے ہیں اور ایک کراچی میں۔‘

یعنی بچوں کے لیے تعلیمی ادارے بھی چن چن کر منتخب کیے تھے، انہیں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے بارے میں اتنی تفصیلی معلومات تھیں کہ میں حیران رہ گیا، مشورہ ملا کہ بیکن ہاؤس بنی گالا کیمپس بھی دیکھ لوں اور پھر بنی گالا کیمپس کے بارے میں اپنی پوری تحقیق میرے سامنے رکھ دی۔

پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ایک شخص میں تعلیم اور تعلیمی اداروں کے حوالے سے اتنی دلچسپی اور اس درجے کی تحقیق سے پہلی مرتبہ سامنا ہوا، متاثر کن آدمی تھے۔

یہ بات میں کیوں بتا رہا ہوں؟ آج کل سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں ٹاپ 20 میں کراچی کے کسی طالب علم کے نہ ہونے پر بحث ہو رہی ہے، اور بدقسمتی سے اس بحث پر لسانیت غالب آ گئی ہے۔

اس کی ایک وجہ ہے، پاکستان میں دہائیوں سے ایک مقبول بیانیہ یہ چلا آ رہا ہے کہ شعور اور علم کی معراج پر اگر کوئی ہے تو وہ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے اردو اسپیکنگ اور ان کے بچے ہیں، قیامِ پاکستان کے بعد کئی دہائیوں تک صورتِ حال کسی حد تک ایسی ہی تھی، کیونکہ ان کی شرحِ تعلیم ملک کے کئی دوسرے حصوں کے مقابلے میں زیادہ تھی، ظاہر ہے، جو پڑھے گا، لکھے گا، کتاب سے رشتہ بنائے گا، اس میں شعور بھی بڑھے گا۔

اس بیانیے کا یہ حصہ بڑی حد تک درست تھا، مگر اس کے ساتھ ایک دوسرا مفروضہ یہ بھی جڑ گیا کہ شاید ان کے علاوہ باقی لوگ بے شعور اور کم ذہین ہیں، سندھیوں کے بارے میں تو میں خود مسلسل یہ سنتا آیا ہوں کہ یہ بڑے جاہل اور ناخواندہ لوگ ہوتے ہیں۔

2012  میں رپورٹنگ میں آنے کے بعد جب کراچی سے باہر سندھ کے مختلف علاقوں میں جانا شروع کیا تو میرے ذہن میں راسخ اس بیانیے کی دیوار آہستہ آہستہ گرنے لگی، سندھ کی لائبریریاں دیکھیں، شکارپور جیسے ضلع کے تعلیمی اداروں میں گیا، وہاں کے اساتذہ، دانشوروں اور پڑھنے لکھنے والے لوگوں سے ملا تو متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔

پھر اندازہ ہوا کہ کسی معاشرے کو اس کے بارے میں بنے ہوئے لطیفوں اور عمومی تصورات سے نہیں، وہاں کے لوگوں اور ان کے عمل سے سمجھنا چاہیے۔

ایم ڈی کیٹ کے نتائج پر حیران ہونے والوں کو ایک اور بات بتاؤں، کراچی کے اسپتالوں میں مجھے اکثر ہندو ڈاکٹرز ملے ہیں جن کا تعلق تھرپارکر سے تھا، یہ وہ ڈاکٹر ہیں جو سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کے سیاسی اثر و رسوخ سے بہت پہلے اپنی تعلیم مکمل کرکے اس شعبے میں آچکے تھے۔

میں اس امکان کو بھی رد نہیں کرتا کہ باقی پاکستان کی طرح سندھ کے امتحانات میں بھی مسائل ہوں گے، امتحانی نظام پر سوال اٹھانا بالکل جائز ہے بلکہ سندھ میں مقابلے کے امتحانات کے خلاف کئی ماہ سے حیدرآباد میں احتجاج کرنے والوں میں تقریباً سب سندھی ہیں، جو خود پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو اس صورتِ حال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

لیکن امتحانات پر سوال اٹھانے کے ساتھ کچھ حقیقتوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، ایک یہ کہ طالب علم کسی بھی قومیت کا ہو، اگر وہ پڑھے گا تو آگے بڑھے گا، کراچی کے سوا باقی سندھ کی لائبریریاں آباد ہیں، طلبہ پڑھ رہے ہیں، کراچی کی لائبریریاں کتنی آباد ہیں؟ وہاں کون پڑھ رہا ہے؟

اگر کراچی کا کوئی طالب علم ایم ڈی کیٹ کے ٹاپ20 میں نہیں آیا تو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کراچی میں صرف مہاجر نہیں رہتے، نہ ہی کراچی کے تعلیمی اداروں میں صرف مہاجر بچے پڑھتے ہیں، اس فہرست میں سندھی بھی نہیں، مہاجر بھی نہیں، پختون بھی نہیں، پنجابی بھی نہیں، بلوچ بھی نہیں اور دوسرے کئی لسانی و نسلی پس منظر رکھنے والے طلبہ بھی نہیں۔

پھر رجحانات کو بھی دیکھنا چاہیے، میں نہیں چاہتا کہ میرا کوئی بچہ ڈاکٹر بنے، ممکن ہے کہ مہاجر گھرانوں کے جو بچے پڑھنے میں اچھے ہیں، وہ میڈیکل کے بجائے کسی اور شعبے میں محنت کررہے ہوں اور وہاں کامیاب بھی ہو رہے ہوں، ہر ذہین طالب علم کا ڈاکٹر بننا ضروری نہیں۔

اس لیے ایک امتحان کے ایک نتیجے کو کسی پوری قوم، شہر یا نسل کی علمی صلاحیت کا پیمانہ بنا دینا درست نہیں، علم کسی کی میراث نہیں ہے، جو پڑھے گا، وہ بڑھے گا، وہ سندھی ہو، مہاجر ہو، پنجابی ہو، پختون ہو، بلوچ ہو یا کسی بھی دوسرے پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔

کتاب کسی سے اس کا نام، زبان یا قومیت نہیں پوچھتی، اس کے سامنے جو زانوئے تلمذ تہ کرتا ہے، علم کے در فقط اسی پر وا ہوتے ہیں۔

میں نے اپنی بات ایک والد کی اپنے بچوں کی تعلیم میں دلچسپی سے شروع کی تھی، اسے ایک اور والد کی علم سے محبت اور اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے دلچسپی پر ختم کرتا ہوں۔

ایک دفعہ کراچی کے مشہور تعلیمی ادارے ماما پارسی کے سامنے گزرنا ہوا اسکول کے باہر پروٹوکول کی گاڑی دیکھی۔ ڈرائیور سے پوچھا، کون صاحب تشریف لائے ہیں؟ جواب ملا، ’چیئرمین ضلع وسطی ریحان ہاشمی صاحب۔‘ ریحان ہاشمی اس سے پہلے رکنِ اسمبلی بھی رہ چکے ہیں اور ہمارے بہت اچھے دوست ہیں۔

میں نے دریافت کیا، ’اسکول میں کوئی تقریب ہے؟‘ ڈرایئور نے بتایا، ’نہیں، ہاشمی صاحب کے بچے یہاں پڑھتے ہیں، وہ پیرنٹ ٹیچر میٹنگ کے لیے آئے ہیں۔‘

ضلع وسطی کی آبادی نیوزی لینڈ سے زیادہ ہے، اس کے انتظامی سربراہ کی جانب سے اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود بچوں کی تعلیم کے لیے وقت نکالنا میرے لیے بہت متاثر کن اور خوش کن تھا۔

ہاشمی صاحب جو خود اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، دراصل ایک اہم سیاسی جماعت کے رہنما اور کمیونٹی لیڈر ہیں، وہ اور ان کی کمیونٹی کے دیگر سیاسی  رہنما اگر اسی طرح اپنی قوم کے دوسرے بچوں کی تعلیم پر بھی توجہ دیں، انہیں تعلیم کی طرف راغب کریں، ان کے والدین کو بچوں کی تعلیم کے حوالے سے متحرک کریں تو یہ ایک بڑی خدمت ہوگی۔

یہ بچے پڑھیں گے، محنت کریں گے تو انہیں ٹاپ پر آنے سے کوئی نہیں روک سکے گا، یہی کام پختونوں، پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں اور دیگر قومیتوں کے رہنماؤں کو بھی کرنا چاہیے اور اگر رہنما یہ کام نہ کریں تو والدین خود کریں۔

اپنے بچوں کا کتاب سے رشتہ استوار کریں، انہیں اچھے تعلیمی اداروں کی راہ دکھائیں، ان کی تعلیم کو ترجیح دیں، ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کی پڑھائی کے بارے میں پوچھیں، ان کے لیے وقت نکالیں۔

تمام لسانی اکائیوں کے بچے پڑھیں گے تو آگے بڑھیں گے اور جب مہاجر کا بچہ آگے بڑھے گا، سندھی کا بچہ آگے بڑھے گا، پختون، پنجابی، بلوچ اور دوسری تمام لسانی اکائیوں سے وابستہ بچے آگے بڑھیں گے تو دراصل پورا پاکستان آگے بڑھے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp