حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے ہیں، حکومتی حلقوں نے مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کے لیے وفاق کے ساتھ تحریری تعاون سے پی ٹی آئی حکومت کے مبینہ انکار کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
حکومتی حلقوں نے پی ٹی آئی کی سیاست اور دہشتگردی کے معاملے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ ایک بار پھر دہرائی جارہی ہے، ان کے مطابق 2014 میں بھی دھرنے کی آڑ میں ٹی ٹی پی کو بچانے کی کوشش کی گئی، 2022 میں 40 ہزار دہشت گردوں کو واپس لایا گیا اور اب ایک بار پھر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے گریز کیا جارہا ہے۔
حکومتی حلقوں کا الزام ہے کہ پی ٹی آئی کا ہر لانگ مارچ بالآخر ٹی ٹی پی کو فائدہ پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہ تاثر بھی مضبوط ہورہا ہے کہ ٹی ٹی پی کا عسکری ونگ پہاڑوں میں کارروائیاں کرتا ہے جبکہ اس کا مبینہ سیاسی ونگ زمان پارک سے اس خونریزی کا دفاع کرتا دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت سیکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے جیسے وعدوں سے مکر گئی، محسن نقوی
حکومتی حلقوں نے پی ٹی آئی کی مذاکرات اور لانگ مارچ سے متعلق حکمت عملی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ رات کو مذاکرات کی میز پر آنے اور دن کو لانگ مارچ کی کال دینے سے سیاسی تضاد نمایاں ہوتا ہے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی رہنما محض اڈیالہ سے آنے والی ہدایات پر سیاسی فیصلے کرتے ہیں۔
حکومتی حلقوں نے الزام عائد کیا کہ مذاکراتی عمل کو سیاسی کشیدگی کم کرنے کے بجائے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، جبکہ موجودہ حالات میں ملک کسی نئی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
حکومتی حلقوں کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے دوران بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی مکالمے کا راستہ اختیار کیا اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں، تاہم پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے مسلسل رکاوٹیں کھڑی کرنا افسوسناک قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اگر اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع میں وفاقی حکومت کا ساتھ دیا جائے یا نہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قومی سلامتی کے معاملے پر بھی سیاست کی جائے گی۔
حکومتی مؤقف کے مطابق مذاکرات دوپہر سے رات گئے تک جاری رہے اور فریقین کے درمیان مختلف نکات پر تفصیلی مشاورت ہوئی، تازہ اطلاعات کے مطابق مذاکرات میں تقریباً تمام امور پر پیش رفت کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشتگردی میں کردار اور وفاق کے ساتھ تعاون کے معاملے پر اتفاق نہ ہوسکا۔
حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سے صرف تعاون، کوآرڈی نیشن اور نیشنل ایکشن پلان 2.0 پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
حکومتی حلقوں نے الزام عائد کیا کہ مذاکراتی میز پر موجود پی ٹی آئی نمائندے بھی خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت سے مسلسل ہدایات اور مشاورت لیتے رہے، جس سے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں ان کی سنجیدگی پر سوالات پیدا ہوئے۔
مزید پڑھیں: کامیابی کے قریب پہنچ کر بھی ناکام، پی ٹی آئی اور حکومتی مذاکرات کے دوران کیا ہوتا رہا؟
حکومت کے مطابق اصل تعطل اس وقت سامنے آیا جب خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے تحریری تعاون دینے کا معاملہ آیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں انسدادِ دہشتگردی اور سیکیورٹی سے متعلق تحریری معاہدے اور 72 گھنٹے میں اس کا عملی منصوبہ دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم بعد میں اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی۔
ان کے مطابق صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کو آزادانہ کارروائی اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے اور سیکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے جیسے اقدامات پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی۔
مزید پڑھیں: مذاکرات ناکام: آگے کیا ہوگا؟
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی مکالمہ ضروری ہے اور موجودہ حکومت نے بھی اسی اصول کے تحت پی ٹی آئی سے بات چیت کی، تاہم دہشتگردی کے خلاف کارروائی کسی سیاسی جماعت کے سیاسی ویٹو سے نہیں رک سکتی۔
ان کے مطابق ملک کو اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے، ٹکراؤ کی نہیں، جبکہ پی ٹی آئی مکالمے کے بجائے محاذ آرائی کی سیاست کرتی نظر آرہی ہے۔
حکومت نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ جب سیاسی مذاکرات ہو جائیں اور مذاکراتی ٹیم کسی فیصلے تک پہنچ جائے تو اس فیصلے پر قائم رہنا چاہیے، کیونکہ فیصلوں پر عمل درآمد ہی جمہوری اخلاق کا تقاضا ہے۔
مزید پڑھیں: 9 مئی جیسی کوشش کچل دی جائے گی، خواجہ آصف کا پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق سخت انتباہ
حکومتی حلقوں کے مطابق اگر سیاسی فریق مذاکرات کے بعد طے شدہ معاملات سے پیچھے ہٹتے رہے تو یہ سلسلہ کہیں نہیں رکے گا اور اس سے یہ تاثر پیدا ہوگا کہ اقدامات ریاستی مفاد کے بجائے سیاسی فائدے کے لیے کیے جارہے ہیں۔
حکومتی نمائندوں نے پی ٹی آئی پر دہشتگردی کے خلاف وفاق کا ساتھ نہ دینے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ایک طرف پارٹی بانی عمران خان کی رہائی کا بیانیہ سامنے آتا ہے اور دوسری جانب دہشتگردی کے خلاف وفاقی اقدامات میں تعاون سے گریز کیا جاتا ہے۔
حکومتی حلقوں نے ٹی ٹی پی کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے ماضی کے سیاسی واقعات کا حوالہ بھی دیا، حکومتی بیان میں کہا گیا کہ 2014 میں دھرنے کی آڑ میں ٹی ٹی پی کو بچایا گیا، 2022 میں 40 ہزار دہشت گردوں کو واپس لایا گیا اور اب نیشنل ایکشن پلان سے انکار کیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک دوسرے کے سیاسی و عسکری ونگ ہیں، اختیار ولی خان
حکومتی حلقوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کا ہر لانگ مارچ دراصل ٹی ٹی پی کو فائدہ پہنچانے کا باعث بنتا ہے اور دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی کا عسکری ونگ پہاڑوں میں جبکہ اس کا مبینہ سیاسی دفاع کرنے والا حلقہ سیاسی سطح پر موجود ہے۔
ان حلقوں نے مزید الزام عائد کیا کہ موجودہ صورتحال میں ایک بار پھر 9 مئی کی دوسری قسط کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور کہا کہ ریاستی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دی جانی چاہیے۔
مذاکرات کے طریقہ کار کے حوالے سے حکومتی حلقوں نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی کہ محسن نقوی کسی کے ’پیغام رساں‘ کے طور پر مذاکرات میں شریک تھے۔
مزید پڑھیں: لانگ مارچ کے لیے فنڈ ریزنگ، پشاور کے عوام برہم
ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں ہوئے، جن میں رانا ثنا اللہ، امیر مقام اور پیپلز پارٹی کی قیادت سمیت حکومتی نمائندے شریک تھے، جبکہ بعد ازاں وزیراعظم اور صدر کو بھی مذاکراتی پیش رفت سے بریف کیا گیا۔
حکومتی حلقوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی پشتون کو دہشتگرد قرار نہیں دیتا اور اس حوالے سے ریاست پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پولیس، شہریوں اور ریاستی اہلکاروں کو مسلسل دہشتگرد حملوں کا سامنا ہے، جبکہ بعض ناقدین ریاستی مؤقف کو اس انداز میں پیش کررہے ہیں جیسے پوری آبادی کو دہشتگرد قرار دیا جارہا ہو۔
مزید پڑھیں: حکومت اپوزیشن سے مذاکرات آگے بڑھائے، مذاکراتی کمیٹی کو نتیجے تک پہنچنا چاہیے، امیر جماعت اسلامی
حکومتی حلقوں نے بعض صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے بیانیے پر بھی تنقید کی اور ’ڈیجیٹل دہشت گرد‘ کی اصطلاح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ درست کیا جانا چاہیے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کو کسی سیاسی یا لسانی تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی مرکز اور خیبرپختونخوا کے درمیان دہشتگردی کے خلاف مشترکہ تحریری معاہدے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کو دہشتگردی اور قومی مفاد کے معاملات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں:سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے 3 نام سامنے آگئے
اسلام آباد مارچ کے حوالے سے حکومت نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج سیاسی جماعتوں کا حق ہے، تاہم کسی سیاسی جماعت کو ہجوم کی صورت میں دارالحکومت میں بزور داخل ہونے کا اختیار حاصل نہیں۔
حکومتی نمائندوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج قانون اور آئینی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، تاہم انسدادِ دہشتگردی میں تعاون کی آمادگی کی صورت میں مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
گورنر راج یا ایمرجنسی کے معاملے پر حکومتی حلقوں نے کہا کہ گورنر راج کوئی خفیہ فوجی حکم نہیں بلکہ آئین میں موجود ایک آپشن ہے، جس کا استعمال صرف آئینی طریقہ کار کے تحت ہوسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی اس امکان کو آئینی اختیار قرار دیتے ہوئے سیاسی حل کو ترجیح دینے کی بات کی ہے۔
مزید پڑھیں: اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے حکومتی حکمت عملی تیار، وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا
حکومتی حلقوں نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ، مذاکرات اور دہشتگردی کے معاملات کو باہم جوڑتے ہوئے الزام عائد کیا کہ رات کو مذاکرات کی بات اور دن کو لانگ مارچ کی تیاری سیاسی حکمت عملی میں تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، ادارہ جاتی تعاون اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔
مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے باوجود حکومتی نمائندوں نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف وفاق کے ساتھ آئینی ذمہ داری کے مطابق تعاون پر آمادہ ہوں تو سیاسی رابطے دوبارہ شروع کیے جاسکتے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اپنا اسلام آباد مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔












