پی ٹی آئی کا لانگ مارچ صوابی کے بجائے خیرآباد کیوں پہنچے گا؟

اتوار 4 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد لانگ مارچ کی حکمت عملی میں اچانک تبدیلی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

لکی مروت سے شروع ہونے والے مارچ کی ابتدائی منزل صوابی مقرر کی گئی تھی، تاہم اب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوابی کے بجائے دریائے سندھ کے کنارے واقع خیرآباد کو ابتدائی پڑاؤ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق لانگ مارچ 8 اکتوبر کو خیرآباد پہنچے گا، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت سیکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے جیسے وعدوں سے مکر گئی، محسن نقوی

بظاہر یہ صرف مارچ کے راستے میں تبدیلی ہے، لیکن زمینی حقائق، جغرافیائی صورتحال اور پی ٹی آئی کے اندرونی فیصلوں سے واقف ذرائع کے مطابق خیرآباد کا انتخاب اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی فی الحال پنجاب میں داخل ہونے کے بجائے مذاکرات اور سیاسی دباؤ کے لیے خیبرپختونخوا کی حدود میں وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

صوابی کی بجائے خیرآباد کا فیصلہ کیسے ہوا؟

یکم اکتوبر کو پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شریک ایک اہم صوبائی وزیر نے وی نیوز کو بتایا کہ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ایک قریبی ساتھی نے تجویز دی کہ اس مرتبہ معمول کے برعکس صوابی کے بجائے خیرآباد میں ابتدائی پڑاؤ ہونا چاہیے اور وہیں سے آگے کی حکمت عملی طے کی جائے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد اراکین اسمبلی نے خیرآباد کی تجویز کی حمایت کی، تاہم نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک اہم رکن اسمبلی نے اجلاس میں اس فیصلے کے ممکنہ عملی مسائل کی نشاندہی کی۔

مزید پڑھیں: کامیابی کے قریب پہنچ کر بھی ناکام، پی ٹی آئی اور حکومتی مذاکرات کے دوران کیا ہوتا رہا؟

رکن اسمبلی کے مطابق خیرآباد سے پنجاب میں داخلے کے لیے کوئی زمینی راستہ موجود نہیں بلکہ دریائے سندھ پر قائم پل ہی بنیادی راستہ ہیں۔ اگر حکومت نے پلوں کو کنٹینرز کے ذریعے بند کر دیا تو مظاہرین کے لیے پنجاب میں داخل ہونا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ سیاسی کمیٹی کرے گی۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں خیرآباد کے انتخاب کی سیاسی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

صوابی سے گریز کیوں؟

پی ٹی آئی کے 2 اہم اراکین قومی اسمبلی نے وی نیوز کو بتایا کہ سہیل آفریدی کا فی الحال پنجاب میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔

ان میں سے ایک رکن کے مطابق، وہ فی الحال کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ ’سہیل آفریدی نے لکی مروت سے احتجاجی مارچ شروع کرکے اپنے مارچ کے لیے کچھ وقت حاصل کر لیا ہے۔ شاید اس دوران کوئی چمتکار ہو جائے۔‘

پارٹی کے اندر موجود یہ رائے اس مفروضے کو تقویت دیتی ہے کہ لکی مروت سے مارچ شروع کرنے اور اسے فوری طور پر اسلام آباد کی جانب لے جانے کے بجائے خیرآباد تک محدود رکھنے کا فیصلہ محض انتظامی نہیں بلکہ ایک سیاسی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔

صوابی اور خیرآباد میں بنیادی فرق کیا ہے؟

پشاور میں تعینات ایک اعلیٰ انتظامی افسر نے وی نیوز کو بتایا کہ پشاور سے پنجاب میں داخل ہونے کے 2 اہم قریبی راستے ہیں۔

ان کے مطابق ایک راستہ جی ٹی روڈ پر نوشہرہ، خیرآباد کے ذریعے اٹک کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا موٹروے پر صوابی کے ذریعے اٹک کے علاقے چھچھ کی طرف جاتا ہے۔

افسر نے نقشے کی مدد سے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ صوابی کے مقام پر دریائے سندھ کے دونوں اطراف خیبرپختونخوا کا علاقہ ہے، جبکہ آگے موٹروے پر ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں پنجاب اور خیبرپختونخوا کی سرحد واقع ہے۔

مزید پڑھیں: مذاکرات ناکام، حکومت کا پی ٹی آئی پر قومی سلامتی کو سیاست کی نذر کرنے کا الزام

ان کے مطابق اگر اس مقام پر موٹروے کنٹینرز کے ذریعے بند کی جائے تو مظاہرین کے لیے اطراف کے کھیتوں سے پنجاب میں داخل ہونے کے امکانات موجود رہتے ہیں۔

یہ صورتحال انتظامی اور سیاسی دونوں اعتبار سے وزیراعلیٰ کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

افسر کے مطابق اگر مظاہرین پنجاب میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور وہاں ان پر فائرنگ ہوتی ہے تو جانی نقصان کا خدشہ موجود رہے گا، جبکہ وزیراعلیٰ کی جانب سے روکنے کے باوجود اگر کوئی جذباتی گروپ پنجاب میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی سیاسی ذمہ داری بھی بالآخر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر عائد ہوگی۔

مزید پڑھیں: حکومت اپوزیشن مذاکرات بے نتیجہ ختم: معاہدہ ہوگیا تھا لیکن مذاکراتی ٹیم کو خیبرپختونخوا سے ڈکٹیٹ کیا گیا، طلال چوہدری

اس کے برعکس خیرآباد میں پنجاب کی طرف جانے کا بنیادی راستہ پل ہے، جس کے بند ہونے کی صورت میں مظاہرین کے لیے آگے بڑھنا نسبتاً زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

انتظامی افسر کے مطابق، صوابی کے مقابلے میں خیرآباد کے ذریعے پنجاب میں داخلے کا واحد مقام پل ہے، کوئی زمینی راستہ نہیں۔

’اگر یہ پل بند کیے جاتے ہیں تو راستہ مسدود ہو جاتا ہے اور یہی سہیل آفریدی کا مقصد ہے، کیونکہ ان کا فی الحال پنجاب میں داخلے کا کوئی پروگرام نہیں۔‘

مذاکرات ناکام ہوئے تو کیا لانگ مارچ پنجاب میں داخل ہوگا؟

پی ٹی آئی کے ایک اہم صوبائی عہدیدار نے وی نیوز کو بتایا کہ سہیل آفریدی کو اسلام آباد میں جاری مذاکراتی عمل سے خاصی توقعات وابستہ تھیں، تاہم مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد وہ امیدیں تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔

صوبائی عہدیدار کے مطابق سہیل آفریدی نے وفاق کے رویے اور 26 نومبر کے واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے فی الحال پنجاب میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی سیاسی تصفیے تک خیبرپختونخوا کی حدود میں ہی پہنچا جائے۔

مزید پڑھیں:

صوبائی عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ پنجاب میں داخل ہونے کی صورت میں کارکنوں کے نقصان کا خدشہ موجود ہے اور اگر احتجاج کے دوران جانی نقصان ہوا تو پارٹی کے سوشل میڈیا پر اس کا تمام تر سیاسی بوجھ سہیل آفریدی پر ڈال دیا جائے گا۔

ان کے بقول، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی وقت لینا چاہتے ہیں لیکن اگر ان کے پاس پھر بھی وقت ختم ہو جاتا ہے تو پھر اسلام آباد کی جانب سفر ان کے لیے آخری راستہ ہوگا۔ ’وفاق کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سیاسی جماعت کو تھوڑی جگہ دینی چاہیے۔‘

خیرآباد: پڑاؤ یا سیاسی بفر زون؟

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا خیرآباد محض لانگ مارچ کا عارضی پڑاؤ ہے یا سہیل آفریدی نے اسے سیاسی دباؤ کے لیے ایک بفر زون کے طور پر منتخب کیا ہے؟

جغرافیائی اعتبار سے خیرآباد ایسا مقام ہے جہاں مارچ کو خیبرپختونخوا میں رکھتے ہوئے وفاق پر سیاسی دباؤ برقرار رکھا جا سکتا ہے، جبکہ پنجاب میں براہِ راست داخل ہونے سے پیدا ہونے والے تصادم کے امکانات کو بھی محدود کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب صوابی سے آگے بڑھنے کی صورت میں مظاہرین کے لیے پنجاب میں داخل ہونے کے متعدد امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے حکومت اور احتجاجی کارکنوں کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: 9 مئی جیسی کوشش کچل دی جائے گی، خواجہ آصف کا پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق سخت انتباہ

اسی لیے خیرآباد کا انتخاب اس بات کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ فی الحال تصادم سے زیادہ وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

پھر آستینیں کیوں چڑھائی گئیں؟

تاہم اس پوری صورتحال کا دوسرا پہلو سیاسی بیانیہ ہے۔

اسلام آباد میں جاری مذاکراتی عمل کے اختتام پر حکومت کے وفد کے ایک رکن نے پی ٹی آئی کے اراکین کو ایک پشتو محاورہ سناتے ہوئے کہا ’غریب به کنځل کوي او زورور به وهل کوي‘ یعنی ’کمزور گالیاں دے گا اور طاقتور مارتا رہے گا۔‘

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک دوسرے کے سیاسی و عسکری ونگ ہیں، اختیار ولی خان

فی الحال لانگ مارچ کی منزل صوابی سے بدل کر خیرآباد کر دی گئی ہے، مگر اصل فیصلہ 8 اکتوبر کو نہیں بلکہ اس کے بعد ہوگا۔

خیرآباد پہنچ کر اگر مذاکرات کا دروازہ کھلتا ہے تو یہ فیصلہ سہیل آفریدی کی حکمت عملی کی کامیابی تصور ہوگا، لیکن اگر وہاں بھی ڈیڈلاک برقرار رہتا ہے تو پھر سوال صرف لانگ مارچ کی اگلی منزل کا نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے پاس واپسی، مذاکرات یا اسلام آباد، ان 3 راستوں میں سے کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp