وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے درمیان گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات ہوئی، جس میں صوبائی سطح پر متعدد اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں صوبے میں بڑھتی بدامنی، سیاسی صورتحال اور لانگ مارچ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔
مزید پڑھیں: مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار سہیل آفریدی، ایک اور 9 مئی نہیں ہونے دیں گے، محسن نقوی نے خبردار کردیا
ملاقات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ لانگ مارچ کے دوران دہشتگردوں کو سیکیورٹی چیک پوسٹوں سے بحفاظت کراس کرانے کی سہولت کاری فراہم کرنے کا خدشہ ہے۔
ملاقات میں کہا گیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کا رویہ اور کردار عوام اور صوبہ دشمنی کے مترادف تھا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو میں کہا گیا کہ مسائل کے حل پر اتفاق کے بعد صوبائی حکومت نے ہٹ دھرمی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوٹرن کی روش کو دہرایا۔
ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور صوبائی وزرا کی جانب سے لانگ مارچ میں ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کے استعمال کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صوبے کو دہشتگردی اور تباہی سے بچانے کے لیے جب بھی صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان گورنر راج یا ایمرجنسی لگانا ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس بھرپور آئینی کردار ادا کرے گا۔
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور متعدد امور پر مشاورت کی گئی۔
قبل ازیں لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ختم ہوگئے ہیں، اور ہم کسی کو اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
محسن نقوی نے کہاکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں 99 فیصد معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم مذاکرات اس وقت خراب ہوئے جب معاملہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر پہنچا۔ مذاکراتی عمل کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے، اب ہم ایک اور 9 مئی نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہاکہ کسی بھی صورت 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔ لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد مزید مذاکرات نہیں ہوں گے اور لانگ مارچ شروع ہوا تو مذاکرات کا سلسلہ ختم سمجھا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ صوابی کے بجائے خیرآباد کیوں پہنچے گا؟
محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے لیے آنے والی ٹیم سنجیدہ اور معقول تھی، وہ اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے۔ مذاکراتی عمل کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے۔












