کچلاک یارڈ میں جناح پیپلز ٹرین کا انجن پٹڑی سے اتر گیا، متبادل انجن سے سروس بحال

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افتتاح کے صرف 5 روز بعد سریاب سے بوستان تک جانے والی جناح پیپلز ٹرین کا انجن کچلاک یارڈ میں پٹڑی سے اتر گیا۔

ریلوے حکام کے مطابق جناح پیپلز ٹرین کا انجن نمبر 5120 چار اکتوبر کی صبح تقریباً 9 بجے کچلاک یارڈ میں معمول کی شنٹنگ اور ریورسنگ کے دوران لائن نمبر 3 پر پٹڑی سے اتر گیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریلوے عملہ موقع پر پہنچ گیا، جبکہ متبادل انجن نمبر 5126 کے ذریعے جناح پیپلز ٹرین کو کچلاک سے سریاب روانہ کیا گیا، جو صبح 11 بج کر 30 منٹ پر بحفاظت سریاب پہنچ گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق ابتدائی طور پر انجن کے پٹڑی سے اترنے کی وجہ یارڈ میں فش پلیٹ چوری ہونے کا شبہ ہے، تاہم اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈویژنل افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

دوسری جانب کچلاک پولیس نے فش پلیٹ یا نٹ بولٹ چوری کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریک کے نیچے موجود لکڑی کے سلیپرز بوسیدہ اور ناقص حالت میں تھے، جس کے باعث پٹڑی بیٹھنے سے انجن پٹڑی سے اترا۔ واقعے کے بعد ریلوے کی جانب سے سلیپرز تبدیل کرنے کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

ریلوے ترجمان کے مطابق واقعے کے باوجود جناح پیپلز ٹرین سروس معمول کے مطابق جاری ہے اور چونکہ حادثہ یارڈ میں انجن کی شنٹنگ کے دوران پیش آیا، اس لیے مسافروں کی معمول کی سروس متاثر نہیں ہوئی۔

ریلوے کے مطابق 4 اکتوبر کو جناح پیپلز ٹرین کے ذریعے ایک ہزار 654 مسافروں نے سفر کیا۔

واضح رہے کہ جناح پیپلز ٹرین سروس کی افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی اور دیگر حکام نے شرکت کی تھی۔

سروس سریاب سے کچلاک تک تقریباً 32 کلومیٹر فاصلے کے لیے شروع کی گئی، جبکہ منصوبے پر صوبائی حکومت کی جانب سے تقریباً 3 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ منصوبے میں ریلوے اسٹیشنز کی تعمیر و مرمت اور ٹریک کی اپ گریڈیشن شامل تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp