انسان ہزاروں سال سے کتوں کے ساتھ اپنی خاص وابستگی کے باعث ان کی فطرت، ذہانت اور رویوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا آیا ہے لیکن سنہ 1940 کی دہائی کے آخر میں امریکا میں ہونے والا ایک غیر معمولی سائنسی تجربہ اس دلچسپی کو ایک بالکل نئی سطح پر لے گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کتے انسانوں کے دوست کتنے ہزار سال پہلے بنے؟
امریکی ریاست مین میں سائنس دانوں نے ایک وسیع تحقیقی مرکز قائم کیا جسے بعد میں غیر رسمی طور پر ’اسکول فار ڈاگز‘ کہا جانے لگا۔ یہاں 13 سال کے دوران 500 سے زیادہ کتوں کے بچوں کا پیدائش سے لے کر نشوونما کے مختلف مراحل تک انتہائی تفصیلی مشاہدہ کیا گیا۔
تحقیق میں کاکر اسپینیل، بیگل، شیٹ لینڈ شیپ ڈاگ، بیسنجی اور وائر ہیئرڈ فوکس ٹیریئر سمیت 5 مختلف نسلوں کے کتوں کو شامل کیا گیا۔
ہر کتے کے بچے کی پیدائش کے بعد اس کی نشوونما کو باریک بینی سے ریکارڈ کیا جاتا۔ اس کی پہلی چونکنے کی کیفیت، پہلی بار ٹھوس غذا کھانے کی کوشش، بہن بھائی کے ساتھ پہلی کھیل کود اور پہلی بار دم ہلانے تک کو نوٹ کیا جاتا تھا۔
5 ہفتے کی عمر سے کتوں کے بچوں پر مختلف ٹیسٹ شروع کیے جاتے جن کے ذریعے ذہانت، غلبے کے رجحان، جذباتی ردعمل اور تربیت حاصل کرنے کی صلاحیت سمیت متعدد خصوصیات کا جائزہ لیا جاتا تھا۔
تحقیق کے ایک اہم رہنما جان فلر نے سنہ 1985 میں لکھا کہ جب کتوں کے بچوں کی کوئی کھیپ پیدا ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا تھا کہ اگلے 12 ماہ کے ہر دن وہ کہاں اور کیا کام کریں گے۔
مزید پڑھیے: ’بھنگ کا رنگ‘: کتا برطانیہ کے بلند ترین پہاڑ پر چڑھ گیا، ریسکیو ٹیم واپس لائی
سائنس دان یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا کچھ نسلیں دوسری نسلوں سے زیادہ ذہین ہوتی ہیں، کیا مختلف نسلوں کی شخصیات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، کتوں کی ابتدائی پرورش ان کے مستقبل کے رویوں پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے، اگر کتے کے بچے کی معمول کی نشوونما میں خلل ڈالا جائے تو کیا ہوگا اور کیا انتہائی ذہین ’سپر ڈاگ‘ کو باقاعدہ افزائش نسل کے ذریعے پیدا کیا جاسکتا ہے؟
’سپر ڈاگ‘ کی تلاش کیسے شروع ہوئی؟
دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد امریکا میں سائنسی تحقیق کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ حکومت اور نجی اداروں کی جانب سے تحقیق کے لیے بڑے پیمانے پر رقم فراہم کی جانے لگی اور سائنس دانوں کو بڑے پیمانے کے منصوبوں پر کام کرنے کے مواقع ملے۔
’اسکول فار ڈاگز‘ کا منصوبہ بھی اسی دور کی پیداوار تھا۔ اسے 6 لاکھ 32 ہزار ڈالر کی مالی معاونت ملیجو آج کی مالیت کے حساب سے تقریباً 90 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔
اس وقت انسانوں میں ’یوجینکس‘ یعنی انتخابی افزائش نسل کے ذریعے مبینہ طور پر جینیاتی طور پر ’بہتر‘ انسان پیدا کرنے کا نظریہ نازی جرمنی کے مظالم اور ہولوکاسٹ میں اس کے کردار کے باعث بدنام ہوچکا تھا اور اسے غیر اخلاقی سمجھا جانے لگا تھا۔
تاہم بعض معروف ماہرین اب بھی اس خیال سے متاثر تھے کہ انسانی رویوں اور صلاحیتوں کا بنیادی تعین جینیات کرتی ہے اور بہتر نسل پیدا کرنے کے لیے محتاط افزائش نسل کی جاسکتی ہے۔
راک فیلر فاؤنڈیشن کے شعبہ طبی علوم کے سربراہ ایلن گریگ بھی انہی لوگوں میں شامل تھے۔ وہ ذہنی اور رویوں سے متعلق مسائل کی بنیادی وجوہات جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ جرائم پیشہ یا جذباتی طور پر غیر مستحکم افراد کے رویوں کی وضاحت خراب جینز کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: اب آپ کا کتا زیادہ عرصہ آپ کے ساتھ رہ سکتا ہے، نئی دوا نے سب کو حیران کر دیا
اسی سوچ کے تحت گریگ نے ایک نیا خیال پیش کیا: اگر کتوں میں انتہائی ذہین نسل پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تو کیا اس سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ ذہانت بڑی حد تک موروثی ہوتی ہے؟
کیا واقعی کوئی نسل ’زیادہ ذہین‘ نکلی؟
کتوں کی مختلف نسلوں میں جسمانی ساخت اور ظاہری شکل کا حیرت انگیز فرق سائنس دانوں کے لیے پہلے ہی ایک دلچسپ سوال تھا۔ ایک گریٹ ڈین اور ایک ننھا پومیرینین بظاہر ایک دوسرے سے کتنے مختلف ہیں، لیکن دونوں ایک ہی نوع سے تعلق رکھتے ہیں۔
اسی غیر معمولی تنوع کی وجہ سے کتوں کو جینیاتی تحقیق کے لیے موزوں سمجھا گیا۔ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ اگر مختلف نسلیں جسمانی طور پر اتنی مختلف ہوسکتی ہیں تو شاید ان کی ذہنی صلاحیتوں اور شخصیات میں بھی نمایاں فرق موجود ہوگا۔
جان فلر اور جان پال اسکاٹ نے اس سوال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کتوں پر ذہانت کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے، جن میں بھول بھلیاں نما راستوں سے خوراک تلاش کرنا اور ایک ہی مسئلہ بار بار حل کرکے سیکھنے کی صلاحیت جانچنا شامل تھا۔
لیکن نتائج نے ’سپر ڈاگ‘ بنانے کی امید کو دھچکا پہنچایا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ بعض نسلیں مخصوص ٹیسٹوں میں بہتر کارکردگی دکھاتی تھیں لیکن کوئی بھی نسل تمام ٹیسٹوں میں دوسری نسلوں سے مجموعی طور پر زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوئی۔
بالآخر محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ کسی ایک نسل کو دوسری کے مقابلے میں مجموعی طور پر ’زیادہ ذہین‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مختلف نسلوں کے مزاج میں فرق ضرور تھا
تحقیق میں یہ ضرور سامنے آیا کہ کتوں کی مختلف نسلوں کے مزاج میں کچھ فرق موجود تھا۔
مثلاً وائر ہیئرڈ فوکس ٹیریئر میں جارحانہ رویے کا رجحان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا، جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نسل کو شکار کے لیے پالا گیا تھا۔ تاہم محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ کتے کا رویہ حالات کے مطابق نمایاں طور پر تبدیل ہوسکتا ہے۔
ایک ہی نسل کا کتا ایک صورتحال میں خوف زدہ جبکہ دوسری صورتحال میں پُراعتماد ہوسکتا تھا۔ اسی طرح بیسنجی نسل کے کتے اجنبی حالات سے خوفزدہ ہوتے تھے لیکن دوسرے کتوں سے انہیں خوف محسوس نہیں ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: پالتو کتوں کے مالکان کے لیے اہم وارننگ لیتھیم: بیٹری ان سے دور رکھیں
یوں تحقیق نے اس خیال کو بھی کمزور کردیا کہ صرف بہتر جینیاتی انتخاب کے ذریعے ہر خصوصیت میں بہترین ’سپر ڈاگ‘ تیار کیا جاسکتا ہے۔
’سپر انسان‘ بھی ایک فرد نہیں، معاشرہ ہے
اس تجربے کے نتائج کا تعلق صرف کتوں سے نہیں تھا۔ محققین کے مطابق اگر مختلف خصوصیات آبادی میں الگ الگ افراد میں تقسیم ہوں تو سماجی گروہ زیادہ کامیابی سے کام کرسکتا ہے۔
مثلاً ایک کتے میں بے خوفی خطرے کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے جبکہ نسبتاً محتاط یا خوف زدہ کتا خطرے کی صورت میں سب سے پہلے دوسروں کو خبردار کرسکتا ہے۔
اسکاٹ اور فلر نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’سپر انسان‘ کسی ایک فرد میں نہیں بلکہ ایک بہتر طور پر منظم انسانی معاشرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
اس طرح کتوں پر کیا جانے والا یہ عظیم تجربہ بالآخر یوجینکس کے اس تصور کے خلاف بھی ایک اہم دلیل بن گیا کہ انتخابی افزائش نسل کے ذریعے تمام خوبیوں سے بھرپور ایک ’اعلیٰ‘ فرد پیدا کیا جاسکتا ہے۔
کتوں کی ابتدائی پرورش اور ’تنقیدی دور‘
وقت گزرنے کے ساتھ اسکاٹ اور فلر کی دلچسپی ’سپر ڈاگ‘ بنانے کے بجائے اس سوال میں بڑھنے لگی کہ کتے کے بچے کے ابتدائی تجربات اس کی بالغ شخصیت کو کس طرح تشکیل دیتے ہیں۔
اس دور میں بچوں کی ابتدائی نشوونما اور والدین سے تعلق کے بارے میں بھی نفسیاتی تحقیق جاری تھی۔ اسی تناظر میں محققین نے کتوں میں بھی تعلق اور سماجی تربیت کا جائزہ لینا شروع کیا۔
ایک تجربے میں کچھ کتے کے بچوں کو مکمل تنہائی میں پالا گیا۔ انہیں بڑے کھلے میدانوں میں رکھا جاتا، جہاں تقریباً ڈھائی میٹر بلند باڑ موجود ہوتی۔ انہیں خوراک اور پانی باڑ کے ذریعے فراہم کیا جاتا تاکہ وہ نہ انسانوں کو دیکھ سکیں اور نہ دوسرے کتوں سے رابطہ کرسکیں۔
آج کے دور میں ایسا تجربہ جانوروں کی فلاح و بہبود کے اصولوں کے باعث قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔
محققین نے بچوں کو مختلف مدت تک تنہائی میں رکھنے کے بعد دریافت کیا کہ تقریباً 4 سے 12 ہفتوں کی عمر کے درمیان ایک ’تنقیدی دور‘ ہوتا ہے۔ اگر اس عرصے میں کتے کے بچے کو انسان یا دوسرے کتے سے مناسب سماجی رابطہ مل جائے تو اسے معمول کے مطابق سماجی بنایا جاسکتا ہے۔
لیکن اگر اس عرصے میں اسے کسی سے تعلق قائم کرنے کا موقع نہ ملے تو بعد میں اسے مکمل طور پر سماجی بنانا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔
مزید پڑھیے: کتوں کے لیے ٹی وی کا بڑھتا رجحان لیکن کیا وہ واقعی اسکرین پر توجہ دیتے ہیں؟
جان پال اسکاٹ نے سنہ 1986 میں ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ اگر کتوں کے بچوں کو لوگوں سے کوئی رابطہ نہ دیا جائے تو تقریباً 14 یا 15 ہفتے کی عمر تک وہ چھوٹے جنگلی جانوروں جیسے ہوجاتے ہیں۔
’اسکول فار ڈاگز‘ کا اختتام
تقریباً 1958 میں ’اسکول فار ڈاگز‘ کا منصوبہ اختتام کی جانب بڑھ گیا۔ راک فیلر فاؤنڈیشن نے اس وقت مزید مالی معاونت فراہم کرنے سے انکار کردیا جب یہ واضح ہوگیا کہ اس تجربے سے کوئی ’سپر ڈاگ‘ سامنے نہیں آرہا۔
اس کے بعد کتوں کو امریکا اور یورپ کی مختلف تجربہ گاہوں میں منتقل کردیا گیا۔
اگرچہ ’سپر ڈاگ‘ تیار کرنے کا بنیادی مقصد پورا نہیں ہوسکا لیکن اسکاٹ اور فلر کی تحقیق نے کتوں کے رویوں، ذہانت، جینیات اور سماجی نشوونما کے مطالعے کے لیے نئی بنیاد فراہم کردی۔
کتوں کے سائنسی مطالعے میں ایک اہم سنگ میل
آج بھی ماہرین اس تحقیق کے حجم اور وسعت سے متاثر ہیں۔ ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے کینائن سائنس کولیبوریٹری کے ڈائریکٹر کلائیو وائن کے مطابق اس منصوبے میں برسوں تک سیکڑوں کتوں پر تحقیق کی گئی، وسیع رقبے پر سہولیات قائم کی گئیں اور درجنوں افراد نے کام کیا جسے سائنسی دنیا میں ’بگ سائنس‘ کہا جاسکتا ہے۔
ڈیوک یونیورسٹی کی پپی کنڈرگارٹن کی ڈائریکٹر وینیسا ووڈز کے مطابق اس تحقیق نے کتوں کو ادراکی اور رویوں سے متعلق سائنس میں ایک سنجیدہ تحقیقی موضوع بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور موجودہ کینائن سائنس کی بنیاد رکھنے میں مدد دی۔
تاہم تحقیق کے بعض تجربات آج کے دور میں دوبارہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ مکمل تنہائی میں پالے گئے کچھ کتوں کے بچے انتہائی غیر مانوس اور جنگلی رویوں کے حامل ہوگئے تھے اور بالآخر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
مزید پڑھیں: آپ کے لیے پالتو جانوروں کے جذبات، تکالیف سمجھنا اب ممکن، مگر کیسے؟
ماہرین کے مطابق آج کتوں پر تحقیق کرتے ہوئے جانوروں کی فلاح و بہبود کے ایسے اصولوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے جن کے تحت پالتو جانوروں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاسکتا جو انسان اپنے بچوں کے ساتھ روا نہیں رکھے گا۔
آج اس پیمانے کا کوئی نیا ’اسکول فار ڈاگز‘ بننا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ جدید تحقیق میں عموماً سائنس دان لوگوں کے پالتو کتوں کو اپنے منصوبوں میں شامل کرتے ہیں بجائے اس کے کہ سیکڑوں جانور خود خرید کر ان کی کئی برس تک پرورش کی جائے۔
اس کے باوجود بڑے پیمانے پر تحقیق جاری ہے۔ مثال کے طور پر ڈیوک یونیورسٹی کی پپی کنڈرگارٹن میں 101 کتے کے بچوں کو تربیت اور مختلف ٹیسٹوں سے گزارا گیا تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ ان میں سے کون سے کتے مستقبل میں رہنمائی کرنے والے کتوں کے طور پر کامیاب ہوسکتے ہیں۔
اس تحقیق میں خود پر قابو رکھنے، یادداشت اور سماجی اشاروں کو سمجھنے جیسی خصوصیات کو کامیابی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’ہم بھی فیشن کریں گے‘، ادیداس نے پالتو جانوروں کی سن لی، ماڈرن کلیکشن متعارف
اور ’اسکول فار ڈاگز‘ کی کئی دہائیاں پرانی ایک اہم دریافت آج بھی برقرار ہے: کوئی ایک نسل ایسی نہیں جسے ہر لحاظ سے دوسری نسلوں سے زیادہ ذہین قرار دیا جاسکے۔














