سپریم کورٹ میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کیس میں ملزمان عبدالرحمان بھولا اور محمد زبیر چریا کی بریت کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے التوا مانگنے پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سندھ کی سرزنش کرتے ہوئے 2 ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کردی۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔
’سپریم کورٹ کو مذاق نہ بنائیں‘
دوران سماعت جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کو مذاق نہ بنائیں، پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو التوا کی درخواست خود بھجوانی چاہیے تھی۔
جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہاکہ کیا پراسیکیوٹر جنرل ملک کے بادشاہ ہیں؟ التوا کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، ہو سکتا ہے ہم خود پڑھ کر فیصلہ کر دیں۔
انہوں نے کہاکہ عام درخواست گزار اور ریاست کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہوگا، صبح آنا ہے تو بتائیں، ورنہ چیمبر میں پڑھ کر فیصلہ کر دیں گے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی دلیل نہیں کہ فائل نہیں ملی، ای میل اور واٹس ایپ پر فائلیں چلی جاتی ہیں، آپ تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔
’نظرثانی درخواست دائر کیسے کی اور پھر دو ہفتے کا وقت مانگ رہے ہیں‘
جسٹس عقیل احمد عباسی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ نظرثانی درخواست دائر کیسے کی اور پھر 2 ہفتے کا وقت مانگ رہے ہیں؟
جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیے کہ ریاست کی طرف سے کوئی بھی کیس چلا سکتا ہے، یہ کوئی مفسر کا کورس تو نہیں۔
جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ درخواست گزار نے بتانا ہے کہ فیصلے میں کیا غلطی ہے جس پر نظرثانی کی جائے؟
مزید التوا نہیں ملے گا، عدالت
سپریم کورٹ نے سرکاری وکیل کی 2 ہفتے التوا کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔
عدالت نے واضح کیاکہ پراسیکیوٹر جنرل یا ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل میں سے جو بھی پیش ہونا چاہتا ہے پیش ہو، مزید التوا نہیں ملے گا۔














