پاکستانی قالینوں کی عالمی منڈی میں منفرد پہچان، برآمدات کے فروغ کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے: فیض احمد چدھڑ

منگل 6 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے چیف ایگزیکٹو فیض احمد چدھڑ نے پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ہاتھ سے بنے قالینوں کی 42ویں عالمی نمائش کا مقامی ہوٹل میں افتتاح کیا۔

امریکا، جرمنی، ترکیہ، چین، روس اور سویڈن سمیت مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں عالمی خریدار تین روزہ نمائش میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچے ہیں۔

اس موقع پر ڈائریکٹر ٹیکسٹائل اینڈ لیدر عارف اللہ، پی سی ایم ای اے کے پیٹرن ان چیف عبد اللطیف ملک، سینئر وائس چیئرمین نادرن زون خواجہ میر مدثر، وائس چیئرمین ندیم ساجد، چیئرمین ایگزیبیشن محمد ریاض، چیئرپرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمان، سابق چیئرمین میاں عتیق الرحمان، سینئر ممبران عثمان اشرف، میجر (ر) اختر نذیر، سعید خان، کامران رضی، فیصل سعید خان، مسز سکندرین حسن، ریجنل چیئرمین ایف پی سی سی آئی ذکی اعجاز اور سینئر نائب صدر لاہور چیمبر خادم حسین سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

چیف ایگزیکٹو ٹی ڈی اے پی فیض احمد چدھڑ نے عالمی نمائش میں لگائے گئے اسٹالز کا تفصیلی دورہ کیا اور اعلیٰ معیار اور خوبصورت ڈیزائنوں سے مزین ہاتھ سے بنے قالینوں کی مصنوعات میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی کاریگروں کے ہنر کو سراہا۔

غیر ملکی خریداروں اور صنعت کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے فیض احمد چدھڑ نے کہا کہ اعلیٰ معیار اور دیدہ زیب ڈیزائنوں کی وجہ سے پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی مصنوعات دنیا بھر میں منفرد پہچان رکھتی ہیں۔ اس صنعت میں بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے، جسے بروئے کار لا کر برآمدات میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے اور اسے مزید بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ ملکی معیشت کی بنیاد برآمدات کے فروغ پر استوار کی جائے گی، جس کے لیے برآمدی صنعتوں کو ہر ممکن سہولیات اور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

فیض احمد چدھڑ نے کہا کہ حکومت صنعت کو درپیش چیلنجز سے آگاہ ہے۔ نمائش کے دوران ویزوں سے متعلق مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اور بھرپور کوشش ہے کہ انہیں جلد از جلد حل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ قالین کی صنعت کو جدت کی طرف بڑھنا ہوگا اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان موجود خلیج کو دور کرنا ہوگا۔ پاکستان کے لیے ایک ایک ڈالر انتہائی قیمتی ہے، اس لیے برآمدات کے فروغ کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے۔

سینئر وائس چیئرمین خواجہ میر مدثر اور چیئرمین ایگزیبیشن ریاض احمد نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ نمائش میں مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں غیر ملکی خریدار اور نمائندے شریک ہوئے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ عالمی نمائش میں بڑے پیمانے پر ہونے والے برآمدی سودوں سے قالین کی صنعت کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی خریداروں کی جانب سے پاکستانی مصنوعات میں جس طرح دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے، اس سے صنعت سے وابستہ افراد کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔

نمائش میں پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کے تیار کردہ قالینوں کی مصنوعات کا اسٹال بھی لگایا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp