شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے مزید دہشتگردوں کی شناخت ہوگئی، دونوں کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے۔
شمالی وزیرستان میں حالیہ سیکیورٹی آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی شناخت کے بعد پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے مزید شواہد سامنے آئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک اور ہلاک دہشتگرد افغان شہری نکلا ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغان سرزمین سے دہشتگردی، پاکستان کی سفارتکاری سے جوابی کارروائی تک کا سفر
5 روز قبل شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران حافظ محب اللہ عرف خالد سمیت 8 دہشتگرد ہلاک ہوا تھا۔ حافظ محب اللہ، ملا عبد الرحیم اخوند کا بیٹا اور افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع پی ڈی-3 کا رہائشی بتایا گیا ہے۔
اسی طرح 3 روز قبل شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران گل بہادر گروپ سے وابستہ دہشتگرد عبداللہ جان بھی ہلاک ہوا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ جان کمانڈر گوہر کا قریبی ساتھی تھا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں، جن میں اہلکاروں کے سر قلم کرنے کے واقعات بھی شامل ہیں، میں ملوث تھا۔
یہ بھی پڑھیے طالبان کی زیرِ قیادت افغانستان عالمی دہشتگردی کا گڑھ بن گیا، اٹلانٹک کونسل کی تہلکہ خیز رپورٹ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان دہشتگردوں کی شناخت سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے حوالے سے شواہد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اب تک 257 سے زائد افغان شہریوں کی پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے شناخت کی جاچکی ہے، جس سے افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشتگرد نیٹ ورکس اور پاکستان کے خلاف ان کے مبینہ استعمال سے متعلق خدشات مزید نمایاں ہوئے ہیں۔














